ہم کو ان سے ہے وفا کی امید۔۔۔

ہم کو ان سے ہے وفا کی امید۔۔۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کے موجودہ وزیر اعظم اور ان کی سیاسی جماعت کو قوم کی ایک واضح اکثریت نجات دہندہ سمجھنے لگی تھی اور بہت سوں کو ایمان کی حد تک یقین تھا کہ اس ملک و قوم کو مسائل و چیلنجز کے گرداب سے اگر کوئی نکال سکتا ہے تو وہ عمران خان المعروف کپتان خان ہی ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس افسوس ناک حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ آج پاکستانیوں کی اسی اکثریت میں سے بیشتر نہایت مایوس اور دل گرفتہ ہیں کیونکہ قدم قدم پر ان کی امیدوں، ان کے خوابوں اور ان کی حسرتوں کا خون ہوا ہے۔ اور ہمیں یہ کہنے کی اجازت دی جائے کہ قوم کی امیدوں، ارمانوں، خوابوں اور ھسرتوں اک خون کسی اور نے نہیں بلکہ خود کپتان خان اور ان کی ٹیم نے کیا ہے۔ وجہ یا وجوہات اس کی سب پر عیاں ہیں۔ جہاں تک ملک و قوم کو درپیش چیلنجز اور مسائلکا تعلق ہے تو ہم سمجھتے ہیں کہ قوم کی یہ سوچ یا اپروچ ہی بنیادی طور پر غلط ہے کہ کوئی فردِ واحد ہمارے مسائل یا ہماری مشکلات کا جواب یا ان کا حل ہو سکتا ہے کیونکہ اقوام کی تقدیر، ان کی کامیابی یا بسورت دیگر ناکامی میں ہمیشہ فرد نہیں بلکہ افراد کا ہاتھ ہوتا ہے، نوجوان اس میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔

 

ملکِ عزیز کے افراد ہوں یا نوجوان، انہیں باقاعدہ ایک پالیسی کے تحت ملکی معاملات سے باہر رکھا گیا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ انتہائی گمراہ کن قسم کے خیالات، تصورات اور نظریات ان کے اذہان میں راسخ کئے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ایک پاکستانی خصوصاً ایک نوجوان ملک کے تمام مسائل کے لئے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، ان کے خاندان، زرداری اور ان کے خاندان اور یا پھر اپوزیشن کا ہر وہ رہنماء یا سیاسی جماعت جو کپتان کی حکومت پر تنقید کرتی ہے یا اس کے ساتھ اختلاف رائے رکھتی ہے۔ بدقسمتی تو یہبھھی ہے کہ قوم کی سوچ اس حد تک بگاڑ دی گئی ہے کہ آج اس ملک اور اس معاشرے میں اختلاف کو مخالفت پر محمول کیا جاتا ہے۔

 

بہرحال جس راستے یا راستوں پر ہم سفر کر رہے ہیں اور منزل یا خواب کی تعبیر پانے کی خوش فہمی بھی پالے ہوئے ہیں تو سات دہائیوں سے زائد کا عرصہ گزرنے کے بعد ہمیں اس نتیجے پر پہنچ جانا چاہیے کہ یہ راستہ منزل کی جانب نہیں بلکہ رسوائیوں، بدنامیوں اور خدانخواستہ ملک و قوم کی تباہی کی طرف جاتا ہے۔ آخر ہمارے ارباب بست و کشاد کو اس حقیقت کی سمجھ کب آئے گی کہ ایک ہی طرح کا تجربہ بار بار کرننے سے نتائج کبھی بھی مختلف نہیں نکلیں گے۔ یہ ہماری اسی ضد، ہٹ دھرمی اور سیاسی تعصب کا ہی نتیجہ ہے کہ آج قوم کے سروں پر ایسے لوگ بٹھا دیئے گئے ہیں جو کوئی ایسی نئی سوچ، کوئی لائحہ عمل تیار کرنا تو درکنار کہ جس کی بدولت قوم کے دن پھر جائیں، معاشی مشکلات میں کمی آئے الٹا ان سے وسائل کا انتظام و انصرام بھی ٹھیک طرح سے نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج رواں مالی سال کے جاری بجٹ میں بروقت فنڈز خرچ نہ ہونے اور محکموں کی غفلت کے باعث 50 فیصدسے زائد کا فنڈز لیپس ہونے کے خطرات پیدا ہوئے ہیں جبکہ حال یہ ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ کی تیاری بھی شروع کر دی گئی ہے۔

 

خیبر پختونخوا میں رواں مالی سال کے بجٹ میں 100 فیصد ترقیاتی فنڈ جاری ہونے کے باوجود آدھے سال میں ترقیاتی بجٹ کا صرف چوتھائی حصہ خرچ ہونے کی بنیادی وجہ ہی یہی ہے کہ موجودہ حکمران میرٹ پر یا عوام کے ووٹ سے مسند اقتدار پر نہیں براجمان بلکہ یہ ''کسی'' کی ''آشیرباد'' کا ثمرہ ہے جس سے یہ حکمران خود تو مستفید ہو رہے ہیں لیکن قوم کے لئے یہ ثمر ایک زہر ہلاہل بنا ہوا ہے۔ اور اس سنگین صورتحال میں عنقریب کسی بہتری کی توقع اس لئے بھی نہیں کی جا سکتی کہ قوم کی ایک واضح اکثریت آج بھی ان ''لوگوں'' سے وفا کی امید باندھے ہوئی ہے جنہیں سرے سے یہ معلوم ہی نہیں کہ وفا کس چڑیا کا نام ہے۔