خیبر پختونخوا سیاحتی مقامات لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

خیبر پختونخوا سیاحتی مقامات لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے


 
لطیف الرحمان
امسال سیاحوں نے ملاکنڈ ڈویژن میں سب سے زیادہ چترال کا رخ کیا جبکہ ہزارہ ڈویژن میں گلیات کے سفر کو ترجیح دی گئی۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے جہاں زندگی کے دیگر شعبے متاثر ہوئے وہاں سیاحت پر بھی اس کا اثر دیکھنے میں آیا ہے۔ ملاکنڈ ڈویژن میں سیلاب 2022  سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ضلع سوات تھا جہاں مرکزی سیاحتی علاقوں یعنی بالائی سوات تک رسائی کے لئے واحد راستہ سیلاب کی نظر ہونے کی وجہ سے سیاحوں نے دیر اپر اور چترال جانے کو ترجیح دی۔ چترال میں لوئر چترال وادی کیلاش میں مزہبی تہواروں سمیت عام آیام میں بھی سیاحوں نے بمبوریت، رمبور اور بریر سمیت لوئر چترال کے سب سے زیادہ خوبصورت وادی گرم چشمہ کا رخ کیا۔ سوات میں امن کی خرابی اور غیر محفوظ سوات جیسے منفی پروپیگنڈے کی وجہ سے بھی سیاحوں کا سوات  جانے سے گریز کیا گیا اور دیر اپر کے علاقے کمراٹ اور چترال میں گرم چشمہ کی جانب سیاحوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔ ماہ جنوری سے اب تک ضلع دیر اپر خصوصا کمراٹ کے سفر پر ایک لاکھ انتیس ہزار سے زائد سیاح آئے جبکہ ملاکنڈ ڈویژن کے سب سے زیادہ سیاحوں کو  خوش آمدید کہنے والے ضلع چترال لوئر کی جانب چار لاکھ ستاون ہزار سے زائد سیاح سیاحتی مقامات سمیت وادی کیلاش  کی جانب مائل کرنے میں کامیاب رہا۔کیلاش میں نہ صرف ملکی سیاحوں نے ڈھیرے ڈالے بلکہ سیاح بھی کیلاشی عوام سے ان کے مذہبی تہواروں میں ملنے پہنچے۔اسی طرح وادی بروغل کی جانب پنجاب سمیت دیگر علاقوں سے صرف 419 سیاح جا سکے۔ وفاق میں جڑواں شہر سے نزدیک ترین اگر خیبر پختونخوا میں سیاحتی مقامات ہیں تو وہ صرف اور صرف گلیات ہیں جو ضلع ایبٹ آباد کا حصہ ہیں اسی طرح مانسہرہ میں ناران اور کاغان۔ راولپنڈی، اسلام آباد سمیت دیگر تمام نزدیکی علاقوں کے سیاحوں نے گلیات کی جانب بڑی تعداد میں رخ کیا۔ سب سے زیادہ سیاح یعنی آٹھ لاکھ چوالیس ہزار سے زائد سیاحوں نے نتھیا گلی میں گرمیوں کے مہینوں میں سیاحت سے لطف اندوز ہوئے اور اسی طرح چھ لاکھ ، بہتر ہزارسے زائد سیاحوں نے ناران اور کاغان کا سفر کیا۔  ناران، کاغان اور گلیات سمیت دیگر ہزارہ ڈویژن میں سیاحت کے شعبے سے وابستہ سہولیات میں اضافے کی وجہ سے سیاحوں کا زیادہ تر رجحان ہزارہ ڈویژن کی جانب زیادہ رہتا ہے۔ موسم سرما میں سیاحت کے لئے بھی ہزارہ ڈویژن کے تمام علاقوں خصوصا گلیات، ناران اور کاغان میں مناسب انتظامات کئے گئے ہیں جس میں برفباری کے دوران شاہراوں  کو ٹریفک کے لئے کھلا رکھنے کے لئے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سیاح سنو فال کے نظاروں سے لطف اندوز ہو سکے۔مری میں قائم ہوٹلوں میں قیام کے کرایوں کی نسبت گلیات  کے تقریبا تمام ہوٹلوں کے کرایوں میں واضح فرق کی وجہ سے بھی موسم سرما میں سب سے زیادہ سیاحوں کی آمد کی توقع کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب گلیات ڈیویلپمنٹ اتھارٹی سمیت ضلعی انتظامیہ ایبٹ آباد بھی موسم سرما میں سیاحت کے لئے خاطر خواہ انتظامات کر رہے ہیں  اور کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئے موجود وسائل کو فوری طور پر بھروئے کار لانے کے لئے  پلان ترتیب دیا گیا ہے۔  سیلاب سے متاثرہ کالام سڑک کی مکمل بحالی میں کافی وقت درکار ہے جہاں امسال برفباری سے سے بہت کم سیاح ہی لطف اندوز ہو سکیں گے البتہ ماہ دسمبر میں وادی کیلاش میں کیلاشیوں کے خصوصی تہوار میں سیاحوں کی دلچسپی پیدا ہو سکتی ہے جبکہ گرم چشمہ میں برفباری اور قدرتی طور پر گرم پانی کے چشمے تک رسائی کے لئے بھی سیاحوں کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔اسی طرح اگر ضلعی انتظامیہ دیر اپر نے شاہراوں سے برف ہٹانے کے لئے مناسب اقدامات کئیگئے تو کمراٹ کا علاقہ بھی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے۔اگر موسم سرما میں سیاحت کے رجحان کو دیکھا جائے تو گلیات اس موسم میں بھی بازی لیسکتا ہے جبکہ ملاکنڈ ڈویژن کے اضلاع دیر اپر اور چترال بھی سیاحوں کو اپنی جانب راغب کرانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔گلیات کے چاروں موسموں میں ہر ایک کے لیے خوشگوار لمحات مہیا کرتا ہے۔وادی بھر میں قدرتی خوبصورتی ، ثقافتی ماحول اور سیاحتی سہولیات چھٹیوں کو خوشگوار بناتی ہیں۔ موسم خزاں اورسرما کی سیاحت میں گلیات پوری دنیا میں دلکشی کا ایک برانڈ بن گیا ہے۔ جب موسم خزاں اور سرما کی سیاحت کی بات آتی ہے،تو گلیات کا ذکر خود بخود آتا ہے ۔ضلعی انتظامیہ کی جانب سے گلیات میں شعبہ سیاحت کی ترقی اور فروغ کے لئے کئی اقدامات کئے جاتے ہیں اور منصوبے بھی ترتیب دیئے جاتے ہیں ،تاہم اسکے باوجودگلیات میں شعبہ سیاحت اس ترقی سے ہمکنار ہورہا ہے ،جو تین دہائیوں پہلے تھا ،جب سیاحت سے وابستہ افراد کی آمدنی میں بھی خوشگوار  اضافہ ہواہے ۔گلیات، سال2021 میں بھی سیاحوں کی بڑی تعداد دیکھنے میں آئی۔کورونا وائرس کے مسلسل قہر کی وجہ سے متاثر ہونے والے اورگھٹتے معاشی منظرنامے کو از سر نو زندہ کرنے کے لیے گلیات کے طول و عرض میں کئی قابل ذکر اقدامات کیے گئے۔ چترال میں موسم سرما م کی سیاحت لواری ٹنل سے وابستہ ہے ، ٹنل کے دونوں جانب یعنی  دیر اپر اور چترال ، برف ہٹانے اور گاڑیوں کو بروقت نکالنے کے چیلنجز سے اگر بطریق احسن نمٹا گیا تو کوئی شک نہیں کہ سیاح چترال  میں برفباری سے یقینی طور پر لطف اندوز ہو سکیں گے۔اسی طرح ویلاگروں اور فوٹو گرافروں کے لئے بھی خزاں ( ماہ نومبر اور دسمبر ) کا موسم زیادہ طور پر پسندیدہ موسم سمجھا جاتا ہے اور گلگت بلتستان کی طرح چترال کی تقریبا تمام وادیوں میں آپ کو خزاں کے خوبصورت رنگ دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔ایسے میں وقت کی اہم ضرورت ہے کہ روایتی اقدامات جیسے فیسٹیولز سے ہٹ کر سوچنے کی ضرورت ہے ،تاکہ عام لوگوں کی زیادہ سے زیادہ اس میں شرکت ہوسکے ۔شعبہ سیاحت سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد بلواسطہ اور بلا واسطہ وابستہ ہے ۔مخصوص ہاتھوں تک فائدہ پہنچا نے کی بجائے پالیسی کو مزید وسعت کر نے کی ضرورت ہے ،عام لوگوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچا نے کے لئے اسے اقدامات کرنے ہونگے جو پہلے نہ ہو ئے ہو۔مہم میں بھی عام لوگوں کو شامل کرنا ضروری ہے ،بیرون ریاستوں یا ملکوں میں تشہری مہم پر پیسہ خرچ کرنے کی بجائے عام لوگوں پر یہ پیسہ خرچ ہونا چاہیے ،کیوں کہ مقامی و بیرون ممالک  کے عوام خیبر پختونخواکی خوبصورتی  سیبخوبی واقف ہیں ۔ عالمی شہرت یافتہ شخصیات کی خدمات شعبہ سیاحت کے فروغ کے لئے عمدہ پہل ہے ،لیکن اگر عام مقامی افراد کے ذریعے اسکی ترقی کے لئے اقدامات کئے جائیں تو فائدہ عام لوگوں تک برارہ راست فائدہ پہنچ سکتا ہے ۔