خیبر پختونخوا عملی طور پر دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال ہے، ایمل ولی خان

خیبر پختونخوا عملی طور پر دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال ہے، ایمل ولی خان



عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا عملی طور پر دہشتگردوں کے ہاتھوں یرغمال ہے ۔

 

 دہشتگردوں کو بھتوں کی صورت میں فنڈنگ کرنے والی صوبائی حکومت منظر عام سے غائب ہے۔ دہشتگرد اور انکے سہولت کار ہمیں کسی صورت ڈرا نہیں سکتے، عوامی نیشنل پارٹی اب محض مذمت نہیں بلکہ بھرپور مزاحمت کرے گی۔ 

 

شانگلہ میں اے این پی کے صوبائی جائنٹ سیکرٹری و رکن خیبر پختونخوا اسمبلی فیصل زیب خان کے آبائی گھر پر نامعلوم افراد کی جانب سے حملے کے رد عمل میں اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ میری رائے میں ایم پی اے فیصل زیب خان کے آبائی گھر پر حملے کی ایف آئی آر امپورٹڈ ترجمان اور صوبائی حکومت کے خلاف درج کیا جانا چاہیئے۔ انکے خاندان سے مشاورت کے بعد لائحہ عمل اپنائیں گے۔

 

 ان کا مزید کہنا تھا کہ اقتدار کی ہوس میں پی ٹی آئی خیبر پختونخوا میں خون کی ہولی کھیلنا چاہتی ہے۔ایک سازش کے تحت دہشتگردوں کو پھر سے پختونخوا پر مسلط کردیا گیا ہے، قوم دہشتگردوں کو دوبارہ لانے والوں اور انکے سہولت کاروں کو جان چکی ہے، حالات خراب ہوئے توذمہ دار پی ٹی آئی اور جنرل فیض ہوں گے۔

 

 ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ اے این پی اس مٹی کی وارث ہے اور مزید اس کو کسی بھی جنگ کا میدان نہیں بننے دے گی۔

 

 اے این پی جب دہشتگردوں کا نام لیتی ہے تو صوبائی حکومت اور کرائے کے ترجمان گالیاں دیتے ہیں، گند جہاں کہیں بھی ہوگا اس سے تعفن ہی پھیلے گا، پی ٹی آئی اسکی واضح مثال ہے۔ 

 

طالبان خان کی صوبائی حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ اس طرح کی زبان استعمال کرکے یہ لوگ ہمیں خاموش کرسکیں گے تو یہ انکی خام خیالی ہے، اے این پی اس گند کو مستقل طور پر ٹھکانے لگانے کا تہیہ کرچکی ہے۔