افغانستان کے بعد اب خیبر پختونخوا

افغانستان کے بعد اب خیبر پختونخوا

تحریر: شمیم شاھد 

امریکی حکام نے افغانستان میں طالبان حکومت کے بعد وہاں پر میبنہ طور پر داعش سے منسلک تین اہم عہدیداروں کو مطلوب افراد کی بین الاقومی فہرست میں شامل کر دیاہے اور اقوام متحدہ کے قوانین کے مطابق امریکہ، اتحادی اور قانون نافذکرنے والے بین الاقوامی اداروں کے اہلکار اب ان مطلوب افراد کو پکڑنے یا مارنے کیلئے نہ صرف افغانستان بلکہ دنیا بھر کے کسی بھی ملک میں پیچھا کر سکتے ہیں۔ ان تینوں مطلوب افراد میں دو کا تعلق پاکستان  سے ہے، وہ پہلے کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے وابستہ تھے، بعد میں وہ دولت اسلامیہ خراسان میں، جسے عرف عام میں داعش کے نام سے پکارا جاتا ہے، شامل ہو گئے۔ تحریک طالبان افغانستان اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی طرح داعش جیسے دہشت گردوں کی عالمی سطح پر پراسرار تنظیم کو بھی امریکہ، اتحادیوں اور دیگر عالمی جاسوسی اداروں کی حمایت وقتاً فوقتاً حاصل رہی ہے۔ 2014 اور 2015 میں جب امریکہ، سعودی عرب اور دیگر اتحادیوں نے شام میں پشاور کی حکومت کے خاتمے کیلئے فرقہ وارانہ تعصب کی بنیاد پر مسلح مزاحمت کا آغاز کیا تو داعش کے پراسرار سربراہ ابوبکر بغدادی کو دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ نے ہیرو کے طو پر پیش کیا اور شام کی حکومت یا بشارالاسد کے اقتدار کے خاتمے کے حوالے سے خوشی کی تقربیات شروع کر دیں تاہم لگ بھگ ایک سال کی مسلح مزاحمت کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکی اور یوں داعش کی  مزاحمت کے باعث مصنوعی طور پر امن قائم ہوا مگر اس دوران شام، عراق کے بعد سعودی عرب کی خوشنودی کے لئے یمن میں بھی امریکی اتحادیوں نے ہوثی قبائل کے خلاف جنگ شروع کر دی جو تاحال  جاری ہے مگر ہوثیوں کے خلاف کامیابی کا کوئی اشارہ ابھی تک دکھائی نہیں دیا۔ ساتھ ساتھ شام اور عراق میں ایرانی حکومت کی مدد سے صدر بشارالاسد کے ہاتھوں شکست کھانے والے داعش کے جنگجوؤں نے ایک بار پھر افغانستان کو میدان جنگ بنانے کا کام شروع کر دیا۔ اس دوران ایک منظم منصوبے کے تحت راتوں رات تحریک طالبان افغانستان اور تحریک طالبان پاکستان سے تعلق رکھنے والے سٹینڈ ٹو جنگجوؤں نے ابوبکر البغدادی کی غیرموجودگی میں بیعت کی اور داعش کا حصہ بن گئے اور ایک نہایت منظم منصوبہ بندی کے ساتھ داعش نے افغانستان اور پاکستان میں سرگرمیاں شروع کرنے کے لئے ایک چالیس رکنی شوری قائم کی۔2014/15  سے لے کر اب تک داعش کے پانچ سربراہوں میں چار کا تعلق پاکستان اور ایک کا تعلق افغانستان سے رہا ہے۔ تحریک طالبان افغانستان اور القاعدہ کی طرح داعش کے تمام سرکردہ کمانڈروں کو امریکی حکام ڈرون کا نشانہ بنا رہے ہیں۔2018  میں جب امریکی حکومت نے قطر میں طالبان کے رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات شروع کئے تو اس وقت سے لے کر مئی2019  تک افغانستان کے مشرقی علاقوں میں موجودہ داعش کے اکثر شدت پسندوں کو شمالی افغانستان منتقل کر دیا گیا جبکہ اس سے قبل خیبر پختونخوا کی وادی سوات (مالاکنڈ) میں فوجی آپریشن کے بعد تحریک طالبان پاکستان سوات کے جنگجوؤں کو ملا فضل اللہ کی سربراہی میں پہلے اور بعد میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مولوی فقیر محمد اور  دیگر کو ایک منظم منصوبہ بندی کے ساتھ افغانستان منتقل کر دیا گیا جہاں پر پاک افغان سرحد کے ساتھ ساتھ افغان حکومت کی عملداری کو ختم کر دیا گیا اور حکومت پاکستان کو اس متنازعہ سرحد پر خاردار تار لگوانے کے مواقع فراہم کر دیا گیا۔ اب جبکہ افغانستان میں طالبان کی حکومت قائم ہو گئی ہے اور طالبان نامی منصوبے کے اہداف  پورے ہوئے ہیں تو حکومت پاکستان اور کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے درمیان مصالحت کے لئے مذاکرات اب آخری مراحل میں ہیں۔ بہرحال جنگ عظیم اول کے ساتھ شروع کی جانی والی اورگرم  جنگ کے معاملات یہاں پر ختم نہیں ہوئے ہیں بلکہ ایک اورمرحلے میں داخل ہوئے ہیں۔ اس سرد جنگ کے اوائل سے لے کراب تک کے تمام مراحل میں امریکہ اور برطانوی جاسوسی اداروں کے علاوہ سعودی عرب کے حکمران متحد اور متفق رہے ہیں اور ان جاسوسی اداروں اور اتحادیوں نے برصغیر پاک و ہند میں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے برطانوی نو آبادیاتی حکمرانوں کے پروردہ ان خاندانوں اور  سرمایہ داروں کا بخوبی استعمال کیا ہے۔ ماضی کے خان بہادر اور خوانین کے ورثا پاکستان کی سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ پر اب مکمل طور پر قابض ہو چکے ہیں، گوکہ ان میں لگ بھگ سات فیصد پشتون، سندھی اور بلوچ بھی شامل ہیں مگر سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ نوے فیصد کے لگ بھگ اہل پنجاب پر مشتمل ہے اور سول ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی تمام تر پالیسیاں پنجاب ہی کے مفادات کے حصول اور تحفظات کے لئے بنائی جاتی ہیں اور پنجاب کی راہ میں اگر کوئی رکاوٹ ہے تو وہ صرف پختونوں افغانستان نہیں ہے لہذا اس رکاوٹ کو ختم کرنے کے لیے1979  میں شروع ہونے والی جنگ ایک اور مرحلے میں داخل ہو رہی ہے اور اس جنگ کو اب امریکہ اور اتحادیوں نے داعش کا نام دیا ہے۔ دراصل ان جنگوں اور مسلح مزاحمتوں  کے ذریعے سامراجی قوتوں کی کوشش ہے کہ کسی طرح سے پختونوں کے اتحاد و اتفاق کو ختم کیا جائے اور اس کوشش میں ابھی تک سامراحی قوتیں اسلام کے نام، نعرے اور جذبے کو شامل کر کے اسے کامیاب بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔