جانی خیل قبائل اور بدعہدی کی مرتکب صوبائی حکومت

جانی خیل قبائل اور بدعہدی کی مرتکب صوبائی حکومت

تحریک انصاف کی صوبائی حکومت حسب سابق و حسب عادت اپنے وعدوں اور یقین دہانیوں سے روگردانی کرتے ہوئے جانی خیل وزیر کے ساتھ کئے گئے معاہدے کو ردی کی ٹوکری کی نذر کر چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ جانی خیل وزیر قبائل نے پشاور کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا ہے۔ پیر کو بنوں میں اس سلسلے میں کئے گئے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے چیف آف جانی خیل ملک مویز کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اور انتظامیہ نے ہمارے ساتھ دو معاہدے کئے لیکن ایک بھی پورا نہیں ہوا، امن معاہدے پر عملدرآمد نہیں ہوا جبکہ ترقیاتی پیکج کو صوبائی وزیر ملک محمد شاہ وزیر سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ اپنے ہر وعدے، معاہدے اور اپنے ہر اعلان پر یوٹرن لینے والی سرکار نے رحمت للعالمینۖ اتھارٹی کو مزید فعال بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم اس سے قبل بھی انہی صفحات پر رحمت للعالمینۖ کا عہد و پیمان اور وعدے کے حوالے سے ارشاد گرامی موجودہ حکومت اور حکمرانوں کے گوش گزار کر چکے ہیں لیکن اپنے اقتدار کے لئے ہر حربہ آزمانے والے بالیقین محولہ بالا اقدام کو بھی سیاسی مقاصد ہی کے لئے بروئے کار لا رہے ہیں، آسان لفظوں میں اسلام اور پیغمبر اسلام کا مبارک نام سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ ہے وہ ریاستِ مدینہ صبح و شام اٹھتے بیٹھتے ہمارے حکمران جس کا تذکرہ کرے رہتے ہیں لیکن عملی طور پر انہوں نے ملکِ عزیز کو بنانا ری پبلک بنا کر رکھ دیا ہے جہاں آئین کی عملداری ہے نا ہی قانون کی حکمرانی بلکہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے طرزعمل نے ہی جڑ پکڑی اور تقویت پائی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت ٹی ایل پی اور کالعدم ٹی ٹی پی کی طرح ضم اضلاع کے غریب مگر غیور عوام کو بھی کیا طاقت کے استعمال اور ہتھیار اٹھانے پر مجبور کرنا چاہتی ہے، کیا موجودہ حکومت تب ہی ان قبائل کے ساتھ کوئی بامعنی مزاکرات کرے گی، ان مذاکرات میں دی گئی یقین دہانیوں یا وعدوں کی پاسداری کرے گی جب یہ بھی ٹی ایل پی یا کالعدم ٹی ٹی پی کے نقش قدم پر چلنا شروع ہو جائیں گے؟ آج صورتحال یہ ہے  کہ خیبر پختونخوا میں بالعموم جبکہ باالخصوص ضم اضلاع میں کسی کی بھی جان و مال محفوظ نہیں، گذشتہ روز بھی باجوڑ میں ایک طالبعلم کو اس وقت قتل کیا گیا جب وہ پرچہ دے کر امتحانی مرکز سے باہر نکل رہا تھا، اس سے قبل ان کے بڑے بھائی اور ایک مذہبی جماعت کے مقامی رہنماء کو بھی اسی طرح کے انجام سے دوچار کیا گیا تھا۔ خیبر پختونخوا خصوصاً ضم اضلاع میں حالات ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب سے خراب تر ہوتے جا رہے ہیں لیکن حکمران یا مقامی انتظامیہ بے بس یا پھر خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے، جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ضم اضلاع کی سابقہ حیثیت بحال کی جائے، کہیں اس پر عملدرآمد کے لئے زمین تو ہموار نہیں کی جا رہی ہے؟ اگر ایسا ہے تو یاد رکھیں کہ ہزاروں جانوں کی قربانی اور اپنے ہی ملک میں بے سر سامانی جیسے حالات سے گزرنے والے سابق قبائلی عوام موجودہ حکمرانوں کو کسی طور نہیں بخشیں گے اور انہیں اس ملک میں کہیں بھی سر چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی۔
 

ٹیگس