ظرف ظرف کی بات ہے

ظرف ظرف کی بات ہے

تحریر: مولانا خانزیب

لکھاری، شاعر، ناول نگار، ڈرامہ نگار اور کالم نگار ادریس آزاد کی وہ حقیقت پر مبنی نظم جس کو وزیراعظم عمران احمد نیازی کے سامنے  تاجکستان کے دارالحکومت دوشنبے میں پاکستان تاجکستان بزنس فورم کے اجلاس کے دوران ایک بزنس مین، خالد امین، کی طرف سے برجستہ سنانے پر وہ سخت غصہ میں آ گئے۔ وزیر اعظم عمران خان کے بزنس فورم اجلاس کے بعد وہاں موجود ایک بزنس مین، خالد آمین، کا کہنا تھا کہ  حکومت پاکستان پبلک سیکٹر کے بچوں کو اسکالر شپ دے رہی ہے لیکن یہ اسکالر شپ پرائیویٹ سیکٹر کے بچوں کو نہیں دی جا رہی، میری مشیرِ تجارت و سرمایہ کاری  رزاق داؤد اور وزیراعظم  پاکستان عمران خان سے گزارش ہے کہ وہ اس پر بھی غور کریں۔ بعد ازاں بزنس مین نے ایک شعر سناتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کہہ رہا ہے کہ 
کچھ اپنے بھی دل پر زخم کھاؤ، میرے لہو کی بہار کب تک
مجھے سہارا بنانے والو میں لڑکھڑایا تو کیا کروگے 
جس کے بعد مذکورہ بزنس مین کا کہنا تھا کہ آخر میں عمران خان صاحب آپ کے لیے ایک شعر ہے۔ بزنس مین نے وزیرِاعظم کو مخاطب کر کے کہا کہ عمران صاحب جب آپ کنٹینر پر تھے تو بہت زبردست تھے لیکن اب تو آپ قیدی ہیں، معلوم نہیں کن کے چکروں میں آ گئے؟ بہرحال یہ شعر آپ کیلئے ہے،
اتنے ظالم نہ بنو کچھ تو مروت سیکھو
آدھا شعر سنانے پر وزیر اعظم نے انہیں فوری ٹوکا، اس کا مائیک خود بند کیا  اورکہا کہ چھوڑیں جی! بزنس کی بات کریں، شعر و شاعری بعد میں ہو گی۔ ادریس آزاد کی نظم کا پہلا شعر مرزا غالب سے بھی  منسوب کیا جاتا ہے، اگر کوئی اس بارے میں دیوان غالب کی روشنی میں وضاحت کرے تو بہتر ہو گا۔ اب ادریس آزاد کی یہ پوری نظم:
یوں بظاہر تو پسِ پشت نہ ڈالو گے ہمیں
جانتے ہیں بڑی عزت سے نکالو گے ہمیں
اپنا گھر بار ہے ابعادِ مکانی سے بلند
وقت کو ڈھونڈنے نکلوگے تو پا لوگے ہمیں
اتنے ظالم نہ بنو کچھ تو مروت سیکھو
تم پہ مرتے ہیں تو کیا مار ہی ڈالو گے ہمیں
تم نہیں آئے نہیں آئے مگر سوچا تھا
ہم اگر روٹھ بھی جائیں تو منا لو گے ہمیں
ہم تِرے سامنے آئیں گے نگینہ بن کر
پہلے یہ وعدہ کرو پھر سے چرا لو گے ہمیں
تم بھی تھے بزم میں یہ سوچ کے ہم نے پی لی
ہم اگر مست ہوئے بھی تو سنبھالو گے ہمیں
قابلِ رحم بنے پھرتے ہیں اس آس پہ ہم
اپنے سینے سے کسی روز لگا لو گے ہمیں
ہم بڑی قیمتی مٹی سے بنائے گئے ہیں
خود کو ہم بیچنا چاہیں گے تو کیا لو گے ہمیں
ہم بھی کچھ اپنی تمنائیں سنائیں گے تمہیں
جب تم اپنی یہ تمنائیں سنا لو گے ہمیں
ہم نہ بھولیں گے تمہیں جتنی بھی کوشش کر لو
بھولنے کے لیے ہر بار خیالو گے ہمیں
ماضی میں عمران نیازی جب اپوزیشن میں ہوتے تھے تو حکومت پر تنقید کے لیے تین تین گھنٹے کی پریس کانفرنس کرتے تھے۔ اسلام آباد ڈی چوک کنٹینر پر کھڑے ہو کر126  دن تک حکومت کی ایسی کی تیسی کر دیا کرتے تھے۔ مگر ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ وزیر اعظم عمران نیازی دیار غیر میں بسنے والے اپنے ہم وطن کا انتہائی لطیف پیرائے میں کیا گیا شکوہ بھی برداشت نہ کر سکے۔ ہم وطن بھی وہ (اوورسیز پاکستانی) جس کو وہ ملک کا سرمایہ کہتے رہے ہیں اور جو بڑی تعداد میں باہر سے ان کو ووٹ ڈالنے کیلئے بھی آئے تھے مگر اب وہ سب لوگ شدید یاس کا شکار ہیں۔ کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ تنقید برداشت کرنے کے لیے بھی ظرف چاہیے، برداشت کر کے سننا کم ظرفوں کا کام نہیں ہوتا۔ اس بزنس مین کا شکوہ تو سنیں کہ تنقید میں بھی کتنے اعلی ذوق والے ہیں اور انہیں عمران نیازی نے آدھا شعر سنانے کے بعد کیمروں کے سامنے چپ کرا دیا۔ اسی عدم برداشت کا نتیجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ گالم گلوچ پی ٹی آئی کے ورکرز کرتے ہیں جو سیاسی تربیت و مکالمہ کی روایت سے عدم واقفیت اور اپنے لیڈر کے نقش قدم پر چلنے کا نتیجہ ہے۔ تنقیدی شعر و شاعری کرنے کے دوران  وزیراعظم کے ایک وزیر رزاق داود نے ہاتھ کے اشارے سے مذکورہ شاعر کو روکنے کی کوشش بھی کی، اس موقع پر سرکاری ٹی وی کی آواز بھی بند کر دی گئی۔