کیا واقعی تحریک انصاف کو بلدیاتی انتخابات میں مشکلات کا سامنا ہے؟

کیا واقعی تحریک انصاف کو بلدیاتی انتخابات میں مشکلات کا سامنا ہے؟

تحریر: محمد ریاض بوکی خیل

بلدیاتی نظام جمہوریت کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی جڑوں کو نچلی سطح پر عوام تک منتقل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک موثر اور فعال بلدیاتی نظام ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بلدیاتی نظام کے فعال اور موثر ہونے سے ملک میں ترقی کا عمل تیزی سے جاری رہتا ہے۔ بلدیاتی نظام کی اہمیت اور افادیت اس وجہ سے بھی زیادہ ہے کہ اس نظام میں نمائندے گلی اور محلوں کی سطح پر منتخب ہوتے ہیں جس سے عوام کے معمولی نوعیت کے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوتے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختونخوا میں 19 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات کرنے کا اعلان کیا ہے جس کے لئے تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں۔ صوبائی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ تحصیل میئر اور تحصیل چیئرمین کے انتخابات جماعتی بنیاد پر جبکہ نیبرہوڈ اور ویلج کونسل کے انتخابات غیرجماعتی بنیاد پر ہوں گے۔ تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس فیصلوں کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور ہائی کورٹ نے بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کرنے کا حکم دیا تھا جس کی وجہ سے بعض لوگوں کا خیال ہے کہ بلدیاتی انتحابات میں تاخیر ہو سکتی ہے کیونکہ حکومت کو اس حوالے سے قانون سازی کرنا ہو گی۔ مردان میں بھی بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تیاریاں زور وشور سے جاری ہیں۔ مردان کی 5 تحصیلوں مردان، تخت بھائی، کاٹلنگ، گڑھی کپورہ اور رستم میں تقریباً 76 امیدواروں نے کاعذات جمع کئے ہیں۔ اس طرح سے مردان کی تقریباً 75 یونین کونسلوں کی 53 نیبرہوڈ اور 178 ویلج کونسلوں کے لئے ہزاروں کی تعداد میں مرد اور خواتین نے درخواستیں جمع کرائی ہیں جن میں سے بعض بلامقابلہ منتخب ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اپوزیشن جماعتوں کے امیدواروں نے بلدیاتی انتخابات کے لئے مہم کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ تاہم حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی بلدیاتی انخابات کے حوالے سے کوئی خاص سرگرمی نظر نہیں آ رہی۔ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں میں مبینہ طور پر بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر اختلافات نظر آ رہے ہیں کیونکہ تاحال انہوں نے اپنے امیدواروں کا فیصلہ نہیں کیا۔ ویسے تو پاکستان تحریک انصاف میں گروپ بندیوں کا سلسلہ کافی پہلے سے چلا آ رہا ہے مگر 2018 کے الیکشن کے بعد جب پی ٹی آئی صوبے میں برسراقتدار آئی تو ضلع مردان میں پی ٹی آئی دو واضح گروپوں میں تقسیم ہوگئی، ایک گروپ کی قیادت صوبائی وزیر محمد عاطف خان کر رہے ہیں جس میں دو ممبران صوبائی اسمبلی (ایم پی اے) ظاہر شاہ طورو اور طفیل انجم شامل ہیں جبکہ دیگر منتخب صوبائی اسمبلی کے ممبران افتخار علی مشوانی، امیر فرزند خان، عبدالسلام آفریدی اور ملک شوکت نے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی حمایت شروع کی ہے۔ تحصیل مردان کی میئرشپ کے لیے 6 امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیںجن میں سے تین امیدواروں محمد ایاز خان سابق تحصیل ممبر دیہی مردان، طارق محمود آریانی سابق جنرل سیکرٹری، سابق تحصیل ممبر مرحوم مہمند خان کے بیٹے لخکر خان کا تعلق محمد عاطف خان گروپ سے ہے۔ ساجد اقبال سابق نائب ناظم بگٹ گنج اور جنرل سیکرٹری سٹی اور کلیم اللہ طورو پی ٹی آئی سپورٹس اینڈ کلچرل ونگ کے صدر دوسرے گروپ سے وابستہ ہیں۔ جبکہ نعیم انور سابق ڈسٹرکٹ ممبر نے بھی کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں تاہم ان کا کسی گروپ سے تعلق نہیں ہے۔ کلیم اللہ طورو نے جولائی میں ورکرز کنونشن کا انعقاد کیا اور پارٹی کے ممبران قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلی کو اس تقریب میں مدعو کیا۔ تاہم عاطف خان کے گروپ سے منسلک کچھ ایم پی اے نے مبینہ طور پر پارٹی کارکنوں کو اس کنونشن میں شرکت کرنے سے روک دیا تھا۔ اس کی وجہ کلیم اللہ طورو کے وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کے خاندان سے قریبی تعلق بتائی جاتی ہے۔ کلیم اللہ طورو نے آئندہ بلدیاتی انتخابات میں مردان کے میئر کے عہدے کی خواہش ظاہر کی تھی۔ حارث خان طورو میئر کے عہدے کے لئے مضبوط امیدوار تھے تاہم انہوں نے الیکشن نہ لڑنے کا فیصلہ کیا اور کاغذات نامزدگی جمع نہیں کرائے ہیں۔ اب اگر دیکھا جائے تو مردان تحصیل میں محمد عاطف خان کے صوبائی حلقے کی تقریباً پانچ یونین کونسل جبکہ امیر فرزند خان کے حلقے کی تقریباً دو یونین کونسل، افتخار علی مشوانی کی ایک یونین کونسل جبکہ عبدالسلام آفریدی اور ظاہر شاہ طورو کا پورا حلقہ تحصیل مردان میں شامل ہے۔ تحریک انصاف نے مردان میں ٹکٹوں کی تقسیم کے لئے ایک بورڈ بنایا ہے جس میں تمام منتخب نمائندے شامل ہیں۔ یہ بورڈ ممبران صوبائی اسمبلی کی مشاورت اور اتفاق رائے سے امیدوار کو ٹکٹ الاٹ کرے گا۔ تاہم ذرائع کے مطابق کلیم اللہ طورو میئرشپ کے لیے مضبوط اور پسندیدہ امیدوار تصور کئے جا رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے بعض لوگوں کی رائے ہے کہ کنٹونمنٹ بورڈ کے الیکشن میں عاطف خان گروپ نے نعیم خان کو ٹکٹ دیا تھا تاہم جب دوسرے گروپ نے ان کی حمایت شروع کی تو عاطف خان گروپ نے مبینہ طور پر ان کی مخالفت شروع کر دی جس کی وجہ سے وہ 13 ووٹوں سے کنٹونمنٹ کا الیکشن ہار گئے۔ اب اگر دیکھا جائے تو  پی ٹی آئی کے ایم پی اے کے خاص اور قریبی لوگوں کی اکثریت پارٹی نشان (بلے) پر نیبرہوڈ اور ویلج کونسل کی سطح پر الیکشن لڑنے کو تیار نہیں اور آزاد امیدوار کی حیثیت سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔ بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے مردان میں اب تک ممبر صوبائی اسمبلی افتخار علی مشوانی کامیاب ورکر کنونشن کرانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ افتخار علی مشوانی کے پارٹی کارکنوں سے قریبی رابطے ہیں اور پارٹی میں متحرک کردار ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف کے زیادہ تر کارکن صوبائی وزیر محمد عاطف خان کو اختلافات کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عاطف خان صوبائی وزیر ہیں اس وجہ سے ان کو چاہیے کہ تمام ممبران صوبائی اسمبلی کو اپنے ساتھ لے کر چلیں۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ باہمی اختلافات نے پارٹی کو تباہ کر دیا۔ اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی رہنماؤں کی اکثریت چاہتی ہے کہ بلدیاتی الیکشن ملتوی ہو تاکہ شرمندگی سے بچا جا سکے۔اب اگر دیکھا جائے تو بلدیاتی انتخابات میں پی ٹی آئی میں جاری گروپ بندی کا فائدہ اپوزیشن جماعتوں بالخصوص عوامی نیشنل پارٹی کو ہو گا۔