چکدرہ اور چرچل پیکٹ کا تاریخی پس منظر

چکدرہ اور چرچل پیکٹ کا تاریخی پس منظر

    مولانا خانزیب

پختون وطن کے جغرافیہ پر ملاکنڈ کی سرزمین ہزاروں سالوں سے بے شمار تہذیبوں کی امین رہی ہے۔ ہم چونکہ اپنی سرزمین کی تاریخی اہمیت کو بھلا بیٹھے ہیں اس لئے ہم ماضی کے حقائق میں جانچنے کے بجائے حال کے بیمار تسلط میں گر چکے ہیں جس کی وجہ سے ہم اپنی قومی مشکلات اور مسائل کے درست تجزیے سے بھی عاجز آ گئے ہیں۔ یہی بھول پوری قوم کی اجتماعی حافظہ کی نسیان کا سبب بن گئی ہے۔ جب تک آپ اپنی تاریخ کے درست زاویے کے ساتھ بحیثیت قوم پیوست نہیں ہو جاتے نہ تو ہم روشن مستقبل کی طرف بحیثیت قوم جا سکتے ہیں نہ ہی حال کی مشکلات سے نجات پا سکتے ہیں اور نہ ہی ماضی کی درست تعبیرات سے درست نتائج اخذ کر سکتے ہیں۔

 

موجودہ وقت میں ملاکنڈ کا ایک قصبہ ''چکدرہ'' کا علاقہ افغانستان کی طرف سے لے آنے والی ''نان کسٹم پیڈ'' گاڑیوں کی خرید و فروخت کیلئے شہرت رکھتا ہے یا پشتو کی ایک کہاوت میں چکدرہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ (باران پہ چکدرہ اوشو خرہ یی د راموڑے ویوڑل)۔ یہ کہاوت اس وقت بیان کی جاتی ہے جب کوئی بلاقصور مصیبت میں پھنس جائے۔ لیکن درحقیقت چکدرہ کی یہ موجودہ تجارتی اہمیت آج سے نہیں ہزاروں سالوں سے ہے مگر افغانستان کی طرف تجارتی راستے ''شاہی'' اور باجوڑ کے تاریخی تجارتی راستے ''ناواپاس'' کی بندش کی وجہ سے وہ اہمیت آج کے دور میں حاصل نہیں کر سکا جو حاصل ہونا چاہیے تھی۔ اگر چکدرہ کو حکومتی  سطح پر اہمیت دی جائے تو یہ علاقہ اب بھی اپنے بہترین جغرافیائی محلِ وقوع کی وجہ سے باجوڑ سے لے کر سوات تک کیلئے  ایک بہترین تجارتی ''حب'' بن سکتا ہے۔ سی پیک کے مغربی روٹ میں چکدرہ شامل تھا مگر بدقسمتی سے پختون قوم کی اجتماعی بے حسی کی وجہ سے اس کو سی پیک کے منصوبے سے نکال دیا گیا۔ بات کرتے ہیں چکدرہ کے تاریخی وجود کے حوالے سے۔ 

 

چکدرہ مالاکنڈ کا ایک تاریخی قصبہ ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ کے حوالے سے مورخین یہ رائے رکھتے ہیں۔ پروفیسر اے، ایچ دانی کے بقول یہ اصل میں ''چکرادھارا'' تھا جس کے معنی ہیں ''پہیہ رکھنے والا'' یہ نام ہندوؤں کے ایک دیوتا کے نام سے منسوب تھا۔ اسی طرح یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس جگہ ایک زمانے میں 'چکس' کے نام سے ایک قبیلہ آباد تھا۔ اسی طرح 'چاک' کے معنی ٹیکس کی جگہ اور ایک مخصوص مٹی بھی ہے جس کو زمانہ قدیم میں برتنوں کے مٹی کو گھارا کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ چکدرہ کا علاقہ قدیم تاریخی آثار کی جگہ پر واقع ہے۔ چکدرہ زمانہ قدیم سے افغانستان کی طرف سے ہندوستان کی طرف تاریخی اور قدیم راستے کے بیچ پڑا ہے۔جب 327ق میں سکندر باجوڑ سے ہوتا ہوا آگے بڑھا تو ''مساگا'' کے نام سے موجود شہر کو ایک خونریز لڑائی کے بعد فتح کیا۔ مساگا اس علاقے میں باجوڑ کے علاقے 'اریگائن' (موجودہ ناواگئی'' کے بعد دوسرا بڑا شہر تھا۔ اولف کیرو اور گریٹس کے مطابق مساگا کی حدود میں سوات پائین، چکدرہ، اوچ، تالاش اور درہ کاٹگلہ تک کے علاقے شامل تھے۔ سکندر نے اس وقت دریائے گوری (موجودہ پنجکوڑہ) کے قریب پڑاؤ ڈالا تھا۔ 

بٹ خیلہ سے چکدرہ اور پھر براستہ گل آباد اور اوچ سے گزرنے کے بعد اس وادی کے گھنے جنگلات آپ کے استقبال میں جھومتے ہوئے نظر آئیں گے۔ اوچ کا علاقہ بھی تاریخی اعتبار سے قدیم گندھارا آرٹ کا ایک حصہ رہا ہے اور یہاں پر وادی لڑم کو جاتے ہوئے 'اندان ڈھیرئی' کے مقام پر قدیم آثار اب بھی موجود ہیں۔ کہتے ہیں کہ سکندر اعظم نے جب یہاں پر قدم رکھا اور پہاڑوں کے بیچ میں واقع اس میدانی علاقے کو دیکھا تو اس نے یہاں کا نام اوچ رکھ لیا۔ اوچ کا لفظی معنی سنسکرت میں 'نگینہ کا گھر' ہے کیونکہ یہ علاقہ پہاڑوں کے بیچ میں واقع ہے اسی وجہ سے اس کا نام اوچ پڑ گیا۔ اکثریت کے مطابق اوچ کے جنوب میں واقع ورسک اور گل آباد کا علاقہ ہے۔ قدیم زمانے میں یہاں پر دریا بہتا تھا جبکہ شمال کا اوپری علاقہ اوچ اس دریا کا ساحل اور خشک علاقہ ہے۔ اسی زمانے میں اِس علاقہ کو 'وچ' کہا جاتا تھا جو کہ پشتو زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی 'خشک' کے ہیں۔ بعد میں یہ نام 'وچ' سے 'اوچ' بن گیا۔ ایک روایت کے مطابق راجہ جے پال نے اپنی بیٹی 'اوچھا رانی' کی نسبت سے یہ نام رکھا تھا۔ مساگا کا شہر اس وقت بھی ہر طرف سے پہاڑوں میں گرا ہوا تھا جو اس کی قدرتی دیواریں تھیں۔ مساگا کی لڑائی میں سکندر اعظم 'اریگائن' کی لڑائی کے بعد دوسری بار زخمی ہوا۔ 

 

بدھ مت کے دور میں جب گندھارا کے نام سے وہ تہذیب اس خطے میں پروان چڑھی تو چکدرہ کے مقام پر بھی بہت سے معابد، خانقاہیں اور مینار تعمیر کئے گئے جن میں سے بہت سے کے آثار ابھی تک موجود ہیں۔ ان میں جبہ گئی، اندھن ڈھیرئی، اوچ، چٹ پٹ، بامبولے، نیمو گرام اور 'شمشی خان' کے تاریخی آثار شامل ہیں۔ ان آثار میں پہاڑی کے اوپر دم کوٹ کی خانقاہ اور قلعہ بھی شامل تھا جس پر اب 'چرچل پیکٹ' موجود ہے۔ دم کوٹ کا  قلعہ پہلی بار ایک ہزار قبل از مسیح میں فتح کیا گیا تھا پھر 'سیتھو پارتھین' کے دور میں پہلی صدی عیسوی میں فتح کیا گیا۔ کشان، کنشکا اور اوویسو دیوا کے دور کے آثار بھی یہاں ملے ہیں۔ ہندو شاہی کے دور میں یہ مضبوط دفاعی حصار تھا اور یہاں پر کئی ادوار کے آثار قدیمہ ملے ہیں۔ گندھارا آرٹ کے دور میں چکدرہ کا مقام ایک علمی مرکز تھا۔ چینی سیاح 'فاہیان' جب403  میں اس علاقے میں آتا ہے تو وہ سوات تک کے علاقے میں پانچ سو خانقاہوں کا ذکر کرتا ہے۔ جب ہیون سانگ 518 میں آتا ہے تو  وہ دریائے 'سواستو' (موجودہ دریائے سوات) کے کنارے پندرہ سو خانقاہوں کا ذکر کرتا ہے۔ پرویش شاہین کے بقول  دریائے سوات کو زمانہ قدیم میں ریگ وید اور سنسکرت میں کئی اور ناموں؛ سوسالوسن، سولی، سواستو، سواسلوس، سوکت، گوڈامبر، سوپوفو اور 'سوتو' سے یاد کیا گیا ہے۔ ووکنگ آخری چینی شخص تھا جو اس علاقے میں 783 میں آیا تھا۔

 

بدھ مت کے زوال کے بعد اس خطے پر 'ھندو شاہی' کا غلبہ آیا اور صوابی کے ھنڈ سے وہ اس علاقے پر کنٹرول رکھتے تھے۔ ھندو شاہی کے دور میں اس علاقے میں سات بڑے قلعے تھے جن میں چکدرہ کا دم کوٹ قلعہ بھی شامل تھا۔ محمود غزنوی کے دور میں جب وہ ھندوستان پر اس راستے سے حملہ آور ہو رہا تھا، ان علاقوں سے وہ گزرتا تھا۔ اس نے بدھ مت اور ھندو شاہی کی تعمیرات و تہذیب کو مسمار کیا، دم کوٹ چکدرہ کی خانقاہ کو بھی اس وقت مسمار کیا گیا۔ محمود غزنوی کے بعد یہ علاقہ اور دوسرے حکمرانوں کی دلچسپی کا مرکز نگاہ بھی تھا۔ غوری، ترک، مغل اور افغان حکمرانوں کے زیرِ تسلط رہا۔ پندرہویں صدی  تک گبریوں  کے زیر اثر رہا جس کا آخری حکمران سلطان اویس تھا۔ ملک احمد کی قیادت میں سولہویں صدی کے بعد یہ علاقے ایسپزو کے تسلط میں رہے۔ جب بابر اس علاقے میں آتا ہے، بی بی مبارکہ کا اس سے بیاہ ہو جاتا ہے تو ملک شاہ منصور کی بیٹی کو قبیلہ کے ملکان 'چکدرہ ناوہ' کے راستے (بابر کی بارات کو) لے جاتے  ہیں۔ بابر کے آنے کے وقت ایسپزو اور مغلوں کے درمیان جو خیر سگالی کا جرگہ ہوا تھا وہ مقام تیمرگرہ سے مشرق کی جانب چھوٹے پہاڑوں میں 'جرگہ ڈھیرئی' کے مقام پر ہوا تھا، جو تیمرگرہ سے منڈہ جندول کے راستے میں ایک پرانا گاؤں 'خیمہ' کے نام سے آباد ہے جہاں بابر کا شاہی خیمہ لگا تھا۔ 

 

جلال الدین اکبر کے دور میں جب 'اباسین' پر کشتیوں سے پل بنایا گیا، پشاور کی طرف اٹک اور ٹیکسلا کے درمیان ایک اور راستہ 1581ع میں بنایا گیا جس کی وجہ سے باجوڑ اور چکدرہ کے تاریخی قدیمی راستے کی اہمیت کم ہو گئی۔1586  میں جب زین خان کوکہ باجوڑ سے ہوتا ہوا ایک بڑے لشکر کے ہمراہ چکدرہ پہنچا، ابو الفتح اور بیربل کی قیادت میں مزید فوجی کمک چکدرہ تک بھیجی گئی مگر ناکام جنگی حکمت عملی کی وجہ سے وہ پورا لشکر ملندری بونیر کے پہاڑوں میں تباہ ہو گیا۔ چکدرہ کے قلعہ میں مغل فوج موجود ہوتی تھی اور ان علاقوں میں ان کا اثر وکنٹرول صرف برائے نام تھا۔ سکھ دور میں یہ علاقے آزاد رہے۔  انگریز کے دور میں مارچ1895  کے اوائل میں غازی عمرا خان نے چکدرہ قلعہ پر قبضہ کیا، راموڑہ میں بھی ایک قلعہ پر قبضہ کیا اور اپنے ایک ساتھی محمد شاہ خان کو چکدرہ حوالہ کیا۔ اس قلعہ پر غازیوں کی طرف سے شدید مزاحمت بھی ہوئی تھی۔ 1895 میں ریاستِ جندول کے زوال کے وقت سخاکوٹ اس کی آخری حد تھی۔

 

اس وقت چترال کے اندرونی حالات بھی ٹھیک نہیں تھے۔ شیر افضل خان نے چترال پر قبضہ کیا تھا تو دوسری طرف جندولی لشکر اور انگریزوں کے درمیان ایک لڑائی میں دو انگریز لیفٹیننٹ ایڈورڈ اور لیفٹیننٹ پاولر گرفتار ہوئے، جنہیں ریاست جندول کے صدر مقام باڑوہ (ثمر باغ) میں قید کیا گیا۔ چترال پر شیر افضل خان کا قبضہ اور دو انگریز افسروں کا قید ہونا، ان معاملات نے انگریز کو اشتعال دلا کر ملاکنڈ پر قبضہ کرنے کا موقع فراہم کر دیا۔ انہی حالات کو دیکھتے ہوئے یکم اپریل 1895 کو برطانوی حکومت نے ملاکنڈ پر حملہ کی اجازت دے دی۔ تین بریگیڈز پر مشتمل چترال ریلیف فورس تشکیل دی گئی جو پشاور سے ملاکنڈ روانہ ہوئی۔3  اپریل 1895 کو برطانوی سامراج نے ملاکنڈ پر یلغار کی۔ یہی وہ پہلا موقع تھا جب ملاکنڈ میں انگریز داخل ہوئے۔

 

غازی عمرا خان کی فوج اور برطانوی فوج میں سخت جنگ چڑھ گئی جس کے نتیجے میں خان عمرا خان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ کابل چلے گئے۔ چترال ریلیف فورس نے ملاکنڈ کو فتح کر کے سوات کے پار جانے کا ارادہ کیا۔ چکدرہ کے مقام 'پل چوکی' پر پانچ سو گز پل تعمیر کیا گیا اور اس کے شمال کی جانب ایک پہاڑی پر قلعہ تعمیر کیا گیا جو اب چکدرہ قلعہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس لڑائی کے بعد انگریز نے فیصلہ کیا کہ چکدرہ کے قلعہ میں باقاعدہ فوج کو رکھا جائے گا۔ اور پرانی بنیادوں پر ایک بہت بڑا قلعہ بنایا گیا۔ قلعہ کی تعمیر 1895 میں کی گئی۔ یہ قلعہ دفاعی لحاظ سے کمزور تھا۔ یہاں سے ادینزئی، بٹ خیلہ، تھانہ اور سوات کے کچھ علاقوں کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے لیکن دم کوٹ پہاڑی پر واقع پیکٹ سے قلعہ پر حملہ کیا جا سکتا تھا۔ 

 

ملاکنڈ رائزنگ 1897 میں لکھا گیا ہے کہ چکدرہ قلعہ کی کمزوری دم کوٹ پہاڑی ہے۔ اس پہاڑی سے قبائل آسانی سے براہِ راست قلعہ کے اندر حملہ کر سکتے ہیں۔سر ونسٹن چرچل اپنی کتاب (دی سٹوری آف ملاکنڈ فیلڈ فورس) میں لکھتے ہیں کہ چکدرہ کا قلعہ ایک چٹان پر تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کے ایک طرف میدان ہیں اور دوسری طرف پہاڑ۔ اس کا دفاع قدرتی چٹانیں کرتی ہیں، لیکن تعمیر کے وقت اس کو دفاعی لحاظ سے تعمیر نہیں کیا گیا تھا۔ قلعے پر باہر سے گولہ باری کرنا آسان ہے۔ اس قلعہ کو فتح کرنا مشکل نہیں۔ اس وقت چکدرہ قلعہ میں برطانوی فوج  کی 45ویں سکھ رجمنٹ کو تعینات کیا گیا۔ بعد میں 1897 میں سرتور فقیر کی سربراہی میں قبائل جمع ہوئے، اور27  جولائی 1897 کو چکدرہ قلعہ پر حملہ کیا گیا۔ سخت جنگ لڑی گئی جو کئی دنوں تک جاری رہی یہاں تک کہ قبائل اپنے ساتھ سیڑھیاں بھی لائے تھے تاکہ قلعہ میں اندر جانے کے لیے  استعمال ہو سکیں۔ امید تھی کہ سرتور فقیر یہ جنگ جیت جاتے۔ ان کو پختہ یقین تھا کہ فتح انہیں کو نصیب ہو گی۔ اس وقت قبائل، چکدرہ گاؤں کی مسجدوں میں نماز اور نوافل پڑھتے اور قلعہ پر حملہ آور ہوتے۔ بعد میں اگست 1897 کو چکدرہ اور ملاکنڈ قلعوں کی مدد کے لیے برٹش انڈین رجمنٹس بھیجی گئیں جس کے ساتھ ہی قبائل منتشر ہوئے اور اس جنگ کا خاتمہ ہوا۔ 

 

دم کوٹ پہاڑی پر واقع سگنل ٹار سے ہیلیوگراف کے ذریعہ ملاکنڈ قلعہ تک پیغام بھیجا جاتا تھا۔ ہیلیوگراف میں ایک آئینہ لگا ہوتا تھا اور سورج کی روشنی میں پیغام کی ترسیل ہوتی تھی۔ اس وجہ سے چرچل پیکٹ کو 'شیشو پیکٹ' (شیشہ بمعنی آئینہ پشتو زبان میں) بھی کہا جاتا ہے۔ چرچل پیکٹ کے مقام پر شیشوں کے ذریعے سگنل پوائنٹ بنا دیا گیا۔1897  کی سرحدی لڑائیوں میں چکدرہ کے قلعے پر غازیوں کی طرف سے ایک بہت بڑی لڑائی لڑی گئی اور انگریز فوج کو کافی نقصان پہنچایا گیا، چکدرہ کے مقام پر دریا پر بنائے گئے پل کو بھی تباہ کیا گیا۔ اس پیکٹ کو بعد میں برطانوی وزیر اعظم سر ونسٹن چرچل کے نام سے منسوب کیا گیا۔ چرچل پیکٹ تک بیس پچیس منٹ میں بہ آسانی پہنچا جا سکتا ہے۔ تقریباً تین میٹر کی اونچائی والا یہ پیکٹ دم کوٹ پہاڑی پر وا ضح نظر آتا ہے۔ پیکٹ کے بالکل سامنے سفید پتھروں سے 'چرچل پیکٹ' لکھا ہوا ہے جسے دریائے سوات کے پار سے دیکھا جا سکتا ہے۔ دریائے سوات آگے جا کر باجوڑ کی حدود میں داخل ہو کر چارسدہ ابازو کی طرف نکل جاتا ہے۔ اس سگنل ٹارکو سر ونسٹن چرچل کا نام  اس وجہ سے نہیں  دیا گیا کہ 1897 کی جنگ میں چرچل بذاتِ خود شریک تھا۔ چرچل اس وقت ہندوستان میں بھی  نہیں تھا۔ کہیں بعد میں جب ستمبر1897  کو بینڈن بلڈ کی سربراہی میں باجوڑ پر فوج کشی کی گئی ونسٹن چرچل اس وقت فوج کا حصہ بنے تھے۔ ملاکنڈ فیلڈ فورس کے ساتھ بطور ایک نامہ نگار کے وہ پہلے پہل آیا تھا۔ اس حوالے  سے ڈاکٹر سلطان روم لکھتے ہیں: سر بنڈن بلڈ اس وقت ملاکنڈ فورس کا سربراہ تھا۔ اس کے عملے میں اس کے لیے کوئی آسامی نہیں تھی۔ چناں چہ بنڈن بلڈ نے اسے بطورِ نامہ نگار آنے کی دعوت دے دی۔ چرچل کی ماں لیڈی رینڈولف چرچل نے ڈیلی ٹیلی گراف کے ایڈیٹر سے انتظام کروایا کہ ان کے فی کالم کی پانچ پاؤنڈ ادائیگی کر کے شائع کریں گے۔

 

قارئین! چرچل پیکٹ ایک خوبصورت سیاحتی مقام پر واقع ہے۔ اس سے ایک طرف دریائے سوات تو دوسری طرف ضلع ملاکنڈ کا پورا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ سیاحوں کے لیے یہ جگہ منفرد ہو گی مگر حفاظتی اقدامات اور چکدرہ قلعہ میں پاکستان سکاؤٹ اور آرمی کی موجودگی کے تناظر میں چرچل پیکٹ سیاحت کے لیے بند ہے۔ اس کو سیاحت کے لیے کھول کر یہاں کی تاریخی اور سیاحتی اہمیت اجاگر کی جا سکتی ہے۔ یہاں پر سیاحت کے حوالے سے ایک دلکش مقام لڑم ٹاپ بھی ہے جو دور دور سے اپنی خوبصورتی کی وجہ سے سیاحوں کو یہاں کھینچ لاتا ہے۔ اوچ سے لڑم ٹاپ تک پہنچنے کا راستہ ایک گھنٹہ ہے۔ لڑم ٹاپ پر پہنچ کر فطرت کی رعنائیاں آپ کا استقبال کریں گی۔ ضلع دیر کے فلک بوس چوٹیوں کے بیچوں بیچ لڑم ٹاپ سحرزدہ مناظر کے ساتھ ساتھ جغرافیائی، تاریخی اور سیاسی پس منظر بھی رکھتا ہے۔ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے یہ جگہ انگریزوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ انگریز یہاں پر شکار کے لئے آتے تھے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان بھی یہاں شکار کھیلنے کیلئے آتے تھے۔ 

 

اس وادی کی وجہ تسمیہ کے بارے میں مقامی لوگ کہتے ہیں کہ اس وادی کے پہاڑوں میں بچھو زیادہ ہونے کی وجہ سے اس جگہ کا نام 'لڑم' رکھا گیا۔ بچھو کو پشتو زبان میں لڑم کہتے ہیں۔ لیکن تاریخی اعتبار اس جگہ کا نام ایک انگریز خاتون 'مس لرم' کے نام سے رکھا گیا تھا۔ بعد میں یہ 'لرم' سے بگڑ کر 'لڑم' بنا۔ انگریزوں نے یہاں ایک بڑا قلعہ بھی بنایا تھا۔ یہاں پر سیاحوں کیلئے کسی قسم کا کوئی ریسٹورنٹ وغیرہ کا کوئی انتظام نہیں ہے، اگر حکومت کی طرف سے اس سیاحتی مقام کو توجہ دی جائے، پانی کا بندوست ٹاپ پر کیا جائے تو یہ جگہ اس علاقے کی سیاحت کے حوالے سے ایک اہم پوائنٹ بن سکتی ہے۔