رفوگر

رفوگر

تحریر: ہدایت ساغر 

چی عظمت تہ ئی د اغیارو سترگی رپی 
ہر سڑے دی باچا خان غوندے بدنام شی 
بلاشبہ باچا خان اپنے دور کے سب سے بڑے رفوگر تھے جہاں بھی ظلم وستم دیکھتے اپنی قوم کو مسائل میں گھرا دیکھتے وہاں پہنچ کر رفوگری کرتے مگر بدقستمی سے ان کو ایسی قوم ملی جو ان کی عظمت کو نہ پہچان سکی اور آج بھی بہت سے نوجوانوں کو پتہ ہی نہیں کہ باچا خان کون تھے؟ باچا خان وہ تھے جو خان بہرام خان کے ہاں پیدا ہوئے جہاں زندگی کی تمام آسائشیں میسر تھیں مگر انہوں نے وہ راستہ چنا جو کانٹوں بھرا تھا، جو مشکلات سے بھرا ہوا تھا مگر اس انسان نے ان ہی راستوں پر چلنا پسند کیا۔

 

باچا خان وہ تھے جو اپنی قوم میں بیداری لانا چاہتے تھے جو ہر ہفتے اپنے ڈیرے پر لوگوں کو بلاتے اور زراعت کے فوائد سے آگاہ کرتے، چائے پانی پلاتے تاکہ ان کی قوم میں زراعت سے محبت پیدا ہو اور وہ اپنے قدموں پر خود کھڑے ہو جائیں۔ باچا خان جب دو پشتون خاندانوں میں دشمنی کی انتہا کو دیکھتے تو صبح سویرے حجرے میں جا کر صفائی کرتے اور چارپائی نکال کر لوگوں کے آنے کا انتظار کرتے۔ جب میزبان آتے مہمان ہر کام سرانجام دے چکا ہوتا، کیا کوئی اپنی قوم کیلئے اتنا کر سکتا ہے؟ باچا خان نے اپنی قوم کیلئے اپنی پسلیاں تڑوائیں مگر جابر کے سامنے سر جھکانا پسند نہیں کیا، نہ بندوق اٹھائی نہ ڈنڈا اٹھایا مگر دلیل کا جھنڈا لے کر کامیابی کو چوما۔ وہی باچا خان جو پختونوں کو خوشحال خان خٹک کی طرح یکجا کرنا چاہتے تھے مگر پختون اپنے بہی خواہوں کو نہیں پہچانتے، باچا خان کو بھی نہیں پہچانا۔ وہ باچا خان جو نجوکاکا بٹیار کو اپنے کندھے پر بٹھا کر دریا پار کراتے ہیں اور مساوات کا اعلی نمونہ پیش کرتے ہیں، وہ بہی خواہ جو سارے پختونوں کو بیدار کرنے کیلئے اور انہیں تعلیم سے روشناس کروانے کیلئے آزاد مدرسے قائم کرتے ہیں اور سب سے پہلے اپنی اولاد کو اس میں داخل کروا دیتے ہیں اس لئے کہ قوم انگلی نہ اٹھائے اور بلاجھجھک اپنے بچوں کو مدرسے میں داخل کروائیں۔ اس باچا خان کو اپنی والدہ کی وفات کا پتہ جیل میں چلتا ہے۔

 

ایک چھوٹا بچہ اخبار اٹھا کر دوڑتا آتا ہے کہ اخبار لے لو، باچا خان کی ماں وفات پا گئی ہیں۔ یہ کون برداشت کر سکتا ہے؟ مگر وہ پتہ نہیں کون سی مٹی کے بنے ہوئے تھے انہوں نے یہ بھی برداشت کر لیا۔ جن کی شادی کل ہو رہی ہو اور انگریز ان کو اٹھا کر لے جائیں پھر بھی برداشت کریں یہ تو مٹی کے بنے ہوئے بت برداشت نہیں کر سکتے مگر انہوں نے سہہ لیا۔ جنہوں نے ٹکر کے میدان میں سات سو شہدا کے جنازے اٹھائے اور بغاوت نہیں کی سمجھو کہ وہ کتنے وفادار تھے۔ آج بھی ان پر غداری کے فتوے ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے، وہ تو معصوم تھے کسی جانور کی جان بھی نہیں لے سکتے تھے، وہ تو بس ہر جگہ جا کر یکجہتی اور اخوت کا پیغام دیتے، وہ غدار ہوتے تو پاکستان کی قانون ساز اسمبلی میں جا کر ملک کی وفاداری کا حلف نا اٹھاتے۔ ان کے بیٹے اور نواسے پارلیمانی سیاست کا نام نہ لیتے۔ وہ تو تھک گئے تھے، ہر روز یہ کہہ کر کہہ کہ میں محب وطن شہری ہوں، اس ملک کا وفادار اور عوام کا بھلا چاہنے والا، وہ تو اپنی قوم کے اندر نفاق ختم کرنا چاہتے تھے، وہ تو امن کے داعی تھے۔ جو ان کو غدار ٹھہراتے تھے آج ان کی قبروں پر فاتحہ پڑھنے والا کوئی نہیں اور باچا خان کی قبر پر فاتحہ پڑھنے والے بے شمار، جانثار آج بھی ان کی برسی پر لاکھوں کی تعداد میں امڈ آتے ہیں۔ وہ زندہ ہیں اور زندہ رہیں گے مگر ناقدری پر دل گرفتہ قبر میں سو رہے ہیں اور اپنے چاہنے والوں کو اب یاد آنے پر آنسو بہا رہے ہیں۔ بقول شاعر 
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن 
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ