پاکستان اور عمران خان میں کسی ایک کو بچانا ہوگا، اے این پی

پاکستان اور عمران خان میں کسی ایک کو بچانا ہوگا، اے این پی

چارسدہ(نمائندہ شہباز)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر امیرحیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ عوام کو گھبرانا نہیں کا درس دینے والا جعلی وزیراعظم  خود گھبرایا ہوا ہے۔ حالیہ بیانات سلیکٹڈ وزیراعظم کی بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا ثبوت ہیں۔ عوام مزید جعلی حکومت برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ پاکستان اور عمران خان میں کسی ایک کو بچانا ہوگا، دونوں کا ساتھ چلنا ناممکن ہے۔

 

باچا خان اور ولی خان کی برسیوں کی مناسبت سے چارسدہ میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ  مقتدر قوتیں سمجھ لیں تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں۔ انتہاپسندی، تشدد اور جنگ نے تباہی کے سوا پختونوں سمیت پورے پاکستان کو کچھ نہیں دیاہے۔پاکستان اور افغانستان سمیت خطے کو درپیش مشکلات کا حل نظریہ باچا خان میں پوشیدہ ہے۔ امن، ترقی، خوشحالی  اور استحکام کا باچا خان کی سوچ اور فکر کے سوا کوئی راستہ نہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ ماضی میں ہمارے اکابرین نے پرائی جنگ میں کودنے سے منع کیا تھا جسکی پاداش میں ان پر غداری اور کفر کے فتوے لگائے گئے۔ آج پوری دنیا اسکا نتیجہ دیکھ رہی ہے، نہ پاکستان میں امن ہے اور نا افغانستان میں۔ چالیس سال سے پختونوں کا خون بہایا جارہا ہے لیکن ہاتھ کچھ نہیں آیا۔ پختون اپنے خطے میں امن اور خوشحالی چاہتے ہیں اور مزید پرائی جنگ کا ایندھن بننے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا کہ 2018 کے عام انتخابات جمہوریت کے نام پر ایک دھبہ ہے۔ جمہوریت میں الیکشن ہوتا ہے نہ کہ سلیکشن۔ منڈیٹ چوری کرکے پی ٹی آئی کو مسلط کرنے نے پورے ملک کو بحرانوں میں دھکیل دیا ہے۔ اقتدار میں آنے سے قبل کشکول توڑنے کے دعویداروں نے نے قرضے لینے کے ریکارڈ قائم کردیئے۔آج پورے ملک کو آئی ایم ایف کے سپرد کردیا گیا ہے۔ بجلی، گیس، تیل اور دیگر اشیا ضروریہ کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ ملک کے معاشی فیصلے عوام کے مفاد کی بجائے آئی ایم ایف کے مفاد میں ہورہے ہیں۔ٹیکسز اور قیمتیں بڑھانے کا اختیار بھی مالیاتی اداروں کے سپرد کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہاایک کروڑ نوکریاں دینے والوں نے عوام کو بے روزگار کیا ۔ پچاس لاکھ گھر دینے والوں نے لوگوں کے سروں سے چھت چھین لی ہے۔ جن گورنر ہاسز اور وزیراعلی ہاسز کو یونیورسٹیاں بنانے والے تعلیمی اداروں کو ہی بند کروارہے ہیں۔ بہترین اقتصادی پالیسیاں لانے والے آج عوام میں مرغیاں تقسیم کررہے ہیں۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ نے حکمرانوں کی چوریوں بے نقاب کردیا ہے۔ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ چوروں کا اصل سرغنہ وزیراعظم خود ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ اے این پی کے خلاف پراپیگنڈیکئے گئے  لیکن جب پانامہ اور پینڈورا سکینڈلز آئے تو اے این پی کے کسی ایک کارکن کا نام بھی نہیں تھا۔ پورے پاکستان نے دیکھا کہ بے نامی اکانٹس اور آف شور کمپنیاں کن کی ہیں۔ اے این پی آج بھی چیلنج کرتی ہیکہ کسی ایک ذمہ دار پر ایک روپیہ کرپشن ثابت کرکے دکھا دے۔ باچا خان کے پیروکاروں اور ولی خان کے سپاہیوں کو کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔اے این پی نے اپنے دور حکومت میں باچا خان اور ولی خان کے ارمانوں کو تکمیل تک پہنچایا۔ ایک طرف دہشت گردی کا مقابلہ کیا تو دوسری جانب صوبہ بھر میں ریکارڈ ترقیامی کام کئے۔ جو لوگ اے این پی کے خلاف پراپیگنڈے کررہے تھے انکو بتانا چاہتے ہیں کہ دہشت گرد جب تعلیمی اداروں کو بموں سے اڑا رہے تھے تو باچا خان کے پیروکار یونیورسٹیاں ، کالجز اور سکول بنارہے تھے۔باچا خان اور انکے ساتھیوں نے انگریزوں کے ظلم اور جبر کے خلاف جہاد کیا تھااے این پی نیاس ملک کی بقا اور سلامتی کی جنگ لڑی اور قیام امن کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔

انہوں نے کہاکہ عوامی نیشنل پارٹی جھوٹے نعروں پر نہیں عملی اقدامات پریقین رکھتی ہے۔اے این پی نے مرکز میں پختونوں کا مقدمہ جیتا اور پختونوں کو نام کی شکل میں شناخت دی۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم اور صوبائی خودمختاری عوامی نیشنل پارٹی ہی کا کارنامہ ہے۔این ایف سی ایوارڈ کی شکل میں سرخ جھنڈے نے پختونوں کے حقوق کے حصول کو ممکن بنایا۔پختونوں کے حقوق اور وسائل پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔اپنے اکابرین کی قربانیوں کو مشعل راہ بنا کر اپنا سفر جاری رکھیں گے۔

 

جلسہ عام سے اے این پی کیسیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ باچا خان نے پختونوں کی اصلاح کیلئے شعوری کوششیں کی۔باچا خان نے پختونوں کی آپسی دشمنیاں ختم کیں اور اس زمانے میں 130 سے زائد آزاد سکول قائم کئے۔باچا خان نے پختونوں کو عدم تشدد کا جو فلسفہ سو سال قبل دیا آج ساری دنیا اسکی تقلید کررہی ہے۔جو پختون اس زمانے میں جنگ وجدل پر یقین رکھتے تھے انکو امن کی راہ پر گامزن کیا۔انگریزوں کو نہتے ہاتھوں ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کیا اوربرصغیر کو آزاد کیا۔  باچا خان نے پختونوں کی معاشی اصلاحات کیلئے بھی اپنا کردار ادا کیا۔

 

انہوں نے کہا کہ ولی خان نے باچا خان کے فلسفے اور نظریئے کو سیاسی شکل دی اور پاکستان کیاندر مظلوم قومیتوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کی۔ جمہوریت، پارلیمان اور آئین کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلئے ولی خان کا کردار ناقابل فراموش ہے۔ولی خان نے  1973 کے آئین کو صوبائی خودمختاری کی بنیاد رکھی۔جس کو اسفندیار ولی خان کی قیادت میں اے این پی نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کی شکل میں عملی شکل دی۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کے نعرے لگانے والے خود کرپشن کے سرغنہ ہیں۔جھوٹی تبدیلی سے عوام کو اذیت میں مبتلا کرنے والے آج راہ فرار ڈھونڈ رہے ہیں لیکن عوام انکو بھاگنے نہیں دیں گے۔

 

جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے کہا کہ نااہل حکمرانوں نے عوام کو ضروریات زندگی خریدنے کے قابل تک نہیں چھوڑا ہے۔روزانہ کے حساب سے نئے ٹیکسز نے عوام کو مزید اقتصادی مشکلات کا شکار بنا دیا ہے۔سرکاری ملازمین، طالبعلم اور کسان سمیت تمام شعبوں کے لوگ سراپا احتجاج ہیں۔

 

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ موجودہ دورحکومت میں جو زیادتی کی جارہی ہے اسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔صوبے میں نااہل حکمرانوں کو اقتدار پر مسلط کرنا صوبے کے عوام کے خلاف ایک منظم سازش تھی۔  عوام پوچھنا چاہتے ہیں کہ نو سالہ دور اقتدار میں صوبے کی نااہل حکومت نے کس فورم پر صوبے کی  نمائندگی کی ہے؟صوبے کے عوام کو معاشی پابندیوں کا شکار بنادیا گیا ہے اور افغانستان کے ساتھ تجارت کے سارے راستے ان پر بند کردیئے گئے ہیں۔   صوبے کے عوام اپنے حقوق پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور نااہل حکمرانوں سے ایک ایک پائی کا حساب لیں گے۔ باچا خان اور ولی خان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عوام کے حقوق اور خوشحالی کیلئیاپنا کردارادا کرتے رہیں گے۔ جلسہ عام سے بزرگ رہنما اور سابق وفاقی وزیر حاجی غلام احمد بلورنے بھی خطاب کیا۔

 

اس موقع پر اے این پی کے مرکزی اور صموبائی قائدین سمیت کثیر تعداد میں دیگر ذمہ داران اور کارکنان بھی موجود تھے۔