سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان​​​​​​​

سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان​​​​​​​

علی سید ٹھیکیدار
سینیٹر حاجی ہدایت اللہ خان1957  میں پیدا ہوئے، ابتدائی اور میٹرک تک تعلیم اپنے گاؤں منڈا ہی میں حاصل کی، گورنمنٹ ڈگری کالج تیمرگرہ سے فیکلٹی آف آرٹس کی سند حاصل کرنے کے بعد یونیورسٹی آف پشاور سے گریجویشن اور پھر ماسٹر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔ وہ طالبعلمی کے زمانے میں فٹبال کے بہترین کھلاڑی اور اسلامی جمیعت طلبہ کے سرگرم رکن تھے۔


1980 کی دہائی ان کے لئے کامیابیوں کی دہائی ثابت ہوئی جب وہ ایک قریبی دوست کے اصرار پر کاروبار کی غرض سے سعودی عرب گئے اور چند سال وہاں گزارنے کے بعد واپس آ کر ہدایت انٹرنیشنل ریکروٹنگ کے نام سے ٹریولنگ ایجنسی قائم کی جو ان کیلئے سونے کی چڑیا ثابت ہوئی اور چند سالوں میں کروڑ پتی بن گئے۔ اس منافع بخش کاروبار کے ساتھ ساتھ سیاست میں بھی حصہ لیتے رہے اور اپنی سخاوت، رواداری اور راست گوئی کی وجہ سے سیاسی میدان میں بھی نام پیدا کیا۔ وہ جماعت اسلامی کے اہم ارکان میں سے تھے اور مخلتف احتجاجی تحریکوں میں حصہ لینے کی وجہ سے16  ایم پی او کے تحت جیل بھی کاٹنی پڑی تھی۔ وہ ایک مذہبی ذہنیت والے انسان اور راسخ العقیدہ مسلمان ہیں اس لئے ان کا اکثر وقت قرآن کی تلاوت اور عبادات میں صرف ہوتا ہے۔


2002 کے الیکشن میں قومی اسمبلی کی نشست پر الیکشن لڑنے کیلئے جماعت اسلامی کے امیدواروں کی فہرست میں شامل ہوئے۔ بتایا جاتا ہے کہ  جماعت اسلامی کے ارکان کی کثیر تعداد نے ان کے حق میں رائے دی لیکن اس کے باوجود ان کو ٹکٹ نہ مل سکا۔ اگرچہ جماعت اسلامی کے چیدہ چیدہ ارکان ان کو ایک بڑا منصب دینے کے خواہشمند تھے لیکن حاجی ہدایت اللہ خان نے اس فیصلہ کو دل سے قبول کیا اور بدستور جماعت اسلامی سے اپنی وابستگی جاری رکھی۔2005  میں اس وقت جماعت اسلامی سے اختلافات کھل کر سامنے آئے جب جماعت اسلامی کی طرف سے ان کے بھائی حاجی عنایت اللہ کو بلدیاتی الیکشن سے باہر کرنے کی کوشش کی گئی اور اسی سال ان کے بھائی حاجی عنایت اللہ جماعت اسلامی سے دل برداشتہ ہو کر عوامی نیشنل پارٹی میں  شامل ہو گئے اور عوامی نیشنل پارٹی کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ کر یونین کونسل ناظم اور پھر ضلعی ناظم منتخب ہوئے لیکن حاجی صاحب پھر بھی جماعت سے وابستہ رہے۔


2008 کے جنرل الیکشن میں حاجی بہادر خان گریجویشن کی شرط پورا نہ کرنے کی وجہ سے الیکشن نہیں لڑ سکتے تھے اس لئے عوامی نیشنل پارٹی کے ایک نمائندہ وفد نے انہیں باقاعدہ اے این پی میں شامل ہونے اور پی کے76  سے الیکشن لڑنے کی دعوت دی۔ انہوں نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا اور عوامی نیشنل پارٹی میں شامل ہو کر صوبائی حلقے سے الیکشن لڑنے  کا اعلان  کیا اور یوں الیکشن میں کامیابی حاصل کر کے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہو گئے۔ یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ عوامی نیشنل پارٹی نے صوبے میں اکثریت حاصل کر کے حکومت بنائی اور یوں اے این پی کے صدر اسفندیار ولی خان نے ان پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے انہیں صوبائی کابینہ میں شامل کیا اور محکمہ لائیوسٹاک کے وزیر بن گئے۔


حاجی ہدایت اللہ نے اپنے دور اقتدار میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے اور ہزاروں نوجوانوں کو روزگار بھی دلوایا۔ انھوں نے علاقے میں امن اور بھائی چارے کی فضا قائم کی اور ہر غریب مسکین اور لاوارث کے سر پر ہاتھ رکھ کر مالی امداد سے نوازا۔ انھوں نے برابری کی بنیاد پر تمام لوگوں کی خدمت کی اور ہر مشکل وقت میں عوام کے درمیان موجود رہے اور اب تک لوگوں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔2020  کے سینیٹ الیکشن میں حصہ لیا اور ایک بار پھر سرخرو ہوئے۔ اب وہ ایوان بالا میں ایک فعال ممبر کا کردار ادا کر رہے ہیں اور مختلف ملکی اور بین الاقوامی ایشوز پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں۔ مزے کی بات تو یہ ہے کہ ان کی زندگی میں کبھی کوئی اتار نہیں دیکھا گیا بلکہ ہر وقت چڑھاؤ ہی چڑھاؤ نظر آتا ہے۔ 


اس وقت وہ عوامی نیشنل پارٹی میں مختلف عہدوں پر فائز ہیں؛ مرکزی سیکرٹری مالیات، صوبائی اور مرکزی ورکنگ کمیٹیوں کے ممبر اور ایک اہم مشاورتی کمیٹی تھنک ٹینک کے ممبر بھی ہیں۔ حاجی ہدایت اللہ ایک ایماندار، روادار، صاف گو، نیک اور سخی انسان ہونے کے ساتھ ایک منجھے ہوئے سیاست دان بھی ہیں۔ ان کی خدمات، ان کی سخاوت کے واقعات ان کی سیرت و اخلاق، ان کی مذہبی خدمات، ان کی عبادات اور ان کی رحم دلی اور مہربانی کو زیر بحث لانا مشکل کام ہے۔