شمالی وزیرستان، سوات میں دہشتگردی کے واقعات پر حکومتی خاموشی مجرمانہ فعل ہے، ایمل ولی خان 

شمالی وزیرستان، سوات میں دہشتگردی کے واقعات پر حکومتی خاموشی مجرمانہ فعل ہے، ایمل ولی خان 

 


عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان، سوات میں دہشتگردی کے واقعات پر حکومتی خاموشی مجرمانہ فعل ہے،

 

سوات میں پاکستان کا جھنڈا جانوں کے نذرانے دے کر اے این پی نے دوبارہ لگایا تھا، اس بار ہٹایا گیا تو کون لگائے گا؟ 

 

سوات میں پولیس پر حملے، ڈی ایس پی کے اغوائ، جرگے کے ذریعے رہائی پر ردعمل دیتے ہوئے اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ کیا ریاست اتنی کمزور ہوگئی ہے کہ اپنے ڈی ایس پی کو چھڑانے کیلئے دہشتگردوں پر جرگے کرائے جارہے ہیں؟ 

 

پختونخوا کی جنت نظیر وادی میں دہشتگردوں کی اتنی بڑی کارروائی صاحبان اقتدار کے منہ پر طماچہ ہے۔جو حکومت طالبان کو بھتے دیں، جان بچانے کی بھیک مانگے، وہ عوام کی کیا حفاظت کریں گے۔ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پختونخوا میں آگ لگادی گئی ہے۔

 

 ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے امپورٹڈ ترجمان آج بھی کہہ رہے ہیں کہ بھتے اور دہشتگردوں کی موجودگی میں حقیقت نہیں۔عوام کی حفاظت کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کرنے ہوتے ہیں جو کم ازکم اس حکومت میں نظر نہیں آتا۔

 

ہم عرصہ دراز سے کہہ رہے ہیں کہ طالبان گروہ منظم ہورہے ہیں لیکن کسی نے بات کو سنجیدہ نہیں لیا۔آج سب کچھ ثابت ہوگیا کہ سوات میں پیر کے روز پولیس پر حملہ ہوا اور ڈی ایس پی کو اغوا کیا گیا۔

 

 ایمل ولی خان نے کہا کہ وزیراعلی پختونخوا ہمت کرے اور اپنے حلقے میں جاری دہشتگردی پر خاموشی توڑ دیں۔زخمی پولیس افسر کی جلد صحتیابی کیلئے دعاگو ہیں، حکومت کو دلیری سے سامنے آنا ہوگا۔اگر حکومت یہ مجرمانہ خاموشی اختیار کرے گی تو پختونخوا کے عوام نئی آگ کا سامنا کریں گے۔