جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء (چونتیسواں حصہ)

جنرل یحییٰ خان کا مارشل لاء (چونتیسواں حصہ)

مترجم: نورالامین یوسفزئی

راولپنڈی میں بیٹھے جرنیل اور اُن کے کٹھ پتلی سیاستدان (بھٹو اور قیوم وغیرہ) یہ ادراک بھی نہیں رکھتے یا پھر دیدہ و دانستہ سمجھنا نہیں چاہتے کہ جناح صاحب کا پاکستان اور نظریہ خطرے میں ہے، وہ ٹوٹ رہا ہے، نہ تو یہ لوگ ملکی حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہیں اور نہ بین الاقوامی حالات کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ ہر کسی نے اپنا مقصد اور غرض ہاتھ میں پکڑا ہے اور اپنا اُلّو سیدھا کرنا چاہتا ہے اور ناک کے نیچے بھی کسی کو کچھ دکھائی نہیں دے رہا اور تاریخی طور پر بندہ کو وہ واقعہ یاد آنے لگتا ہے کہ جب شاہ شجاع افغانستان سے بھاگ گیا اور اُدھر امیر دوست محمد خان تخت پر بیٹھ گیا تو شاہ شجاع نے انگریزوں کے ساتھ معاہدہ کیا اور فرنگی افواج کے ساتھ افغانستان کو فتح کرنے کیلئے نکل پڑا۔ چونکہ پنجاب میں رنجیت سنگھ کی حکومت تھی اور وہ اس راستے سے نہیں جا سکتا تھا تو اُس نے سندھ، بلوچستان اور قندھار کا ر استہ اختیار کیا مگر سکھوں کو خوش کرنے کیلئے خیبر کی اس طرف کے علاقے اُن کے حوالے کر دیئے۔ پھر جب اُس کی فوج کوچ کر رہی تھی تو سلامی چبوترے پر ایک طرف شاہ شجاع اور دوسری طرف رنجیت سنگھ کھڑا تھا اور اُس چبوترے پر انگریز وائس رائے لارڈ آکلینڈ بھی کھڑا تھا۔ میں یہ سوچ رہا تھا کہ جب یہ تینوں اُس چبوترے پر ایک ساتھ کھڑے تھے تو نہ جانے تینوں کے دماغ میں کیا کیا باتیں، کیا کیا منصوبے گردش کر رہے ہوں گے اور مستقبل کیلئے کیا کیا سوچ رہے ہوں گے؟ شاہ شجاع تو خوش تھا کہ وہ اپنے ایک بھائی (تربور) کو فرنگی کی مدد سے گرا رہا تھا اور خود دوبارہ تاج و تخت کے خواب دیکھ رہا تھا۔ ادھر رنجیت سنگھ یہ سوچ رہا ہو گا کہ افغانستان کے پختون اپنے ہی گھر میں ایک دوسرے کو تباہ و برباد کر دیں گے تو یہ کچھ علاقہ تو میں نے پہلے سے ہتھیا لیا ہے اور باقی افغانستان بھی نہایت آسانی سے میرے ہاتھ آ جائے گا۔ مگر ادھر مشر اُستاد انگریز بھی کھڑا تھا۔ فوج اُس کی تھی، طاقت اُس کی تھی، ہتھیار اور منصوبہ بھی اُسی کا تھا، وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ امیر دوست محمد کو شاہ شجاع کی مدد سے ختم کر دوں گا، شاہ شجاع کا صفایا رنجیت سنگھ کے ذریعے کر دوں گا اور سکھ تو ویسے بھی اللہ کا مارا، پیچھے کچھ نہیں رکھتا تو سب کچھ میرے ہاتھ آ جائے گا۔ بالکل وہی حالات یہاں بھی تھے۔ بھٹو کا تو بس ایک ہی مقصد تھا کہ جرنیل اقتدار میری جھولی میں ڈال دیں۔ اُدھر مجیب اس بات پر مطمئن تھا کہ میں نے انتخاب جیتا ہے اور جمہوری طریقے سے حکومت میرا حق بنتا ہے مگر ادھر جرنیل اس بات پر مطمئن تھے کہ بھٹو اور مجیب کے ٹکراؤ سے میدان ہمارے ہاتھ آ جائے گا۔ یُوں اقتدار کی دیوی ایک بار پھر فوج کے کندھوں پر آ کر بیٹھ جائے گی اور فیلڈ مارشل کے دور سے لے کر اب تک کا ملک کے سیاہ و سفید کا اختیار ایک بار پھر فوج کے ہاتھوں میں رہ جائے گا۔ مگر بین الاقوامی حالات کو کوئی نہیں دیکھ رہا تھا اور پاکستان نے خود کو مکمل طور پر خود خارجی قوتوں کے حوالے کر دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ ہر ملک اپنے مفاد کا سوچتا ہے، اگر باالفرض محال پاکستان اور اُن ممالک کے مفادات میں ٹکراؤ نہ ہوتا اور دونوں کا مفاد شریک ہوتا تو بہتر ورنہ دوسری صورت میں وہ ممالک اپنے مفاد کا سوچتے تھے، اُن کو پاکستان کے مفاد سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اگرچہ پاکستان امریکی دوستی پر اترا بھی رہا تھا اور فوجی معاہدوں پر خود کو محفوظ بھی سمجھ رہا تھا اور چین ہندوستان جنگ میں تو دونوں ایک دوسرے کے بہت قریب بھی آ گئے تھے اور 1965ء کی جنگ میں تو چین نے بھی پاکستان کا ساتھ دیا تھا، یُوں دو عالمی طاقتوں کے ساتھ پاکستان کا تعلق بن چکا تھا، جرنیل تو اور بھی بغلیں بجا رہے تھے کہ دو طاقتوں کے درمیان دلالی جو کی تھی، اُن کو ایک دوسرے کا دوست بنا دیا تھا تو مشرقی پاکستان میں فوج کشی جیسا غیرجمہوری اقدام اور پھر اپنے ہی مسلمان بھائیوں بہنوں کا قتل و قتال، عصمت دری جس کی وجہ سے ساری مہذب دنیا کی رائے پاکستان کے خلاف ہو چکی تھی مگر یہ عقل کے اندھے اس قدر سیدھا سادہ اور واضح اشارہ بھی نہیں سمجھ رہے تھے کہ جب اگست 1971 ء کو ہندوستان اور روس کی دوستی ہو گئی تو اس نے امریکہ اور روس دونوں کو خاموش کر دیا۔ جب سے یہ اطلاع عام ہوئی کہ دنیا بھر کی رائے عامہ پاکستان کے خلاف ہو گئی یہاں تک کہ خود امریکہ میں بھی اس حوالے سے ایک زوردار حرکت موجود تھی کہ یہ حکومت جمہوریت کے قاتلوں اور فوجی آمروں کا ساتھ دے رہی تھی جبکہ وہ لوگ بے بس بنگالیوں پر مظالم ڈھا رہے ہیں۔ یہ خبریں بھی گردش کر رہی تھیں کہ اگرچہ مکتی باہنی نے مون سون کی بارشوں میں کافی تخریب کاری کی ہے، یہ کہ اُس کے رضاکاروں کی گنتی ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جو پاکستانی فوج کی تعداد کے برابر تھی مگر یہ خطرہ بھی پیدا ہو رہا تھا کہ پھر ہندوستان شاید خود مشرقی پاکستان پر حملہ کر دے ایسے میں پاکستان نہایت اطمینان کے ساتھ اپنے ہی گھر میں اپنے ہی لوگوں کے ساتھ برسرپیکار تھا، مجیب پابند سلاسل تھے جبکہ بھٹو واحد قومی لیڈر تھا جس کو ملک کی سلامتی سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ دراصل متحدہ پاکستان میں اُس کے ہاتھ کچھ نہیں آ رہا تھا جبکہ وہ جلد از جلد اقتدار کی کرسی تک رسائی چاہتا تھا بھلے ملک دولخت ہو جائے مگر اُسے اقتدار مل جائے۔ وہ اس بات پر بھی خوش تھا کہ سیاست کا میدان تو وہ ہار چکا تھا مگر مشرقی پاکستان پر فوج کشی کروا کر بنگالیوں کے اس مسئلے کو اس نے جڑ سے اکھاڑ دیا تھا یُوں پاکستان کا خاتمہ اور اُس کا اقتدار یقینی ہو رہا تھا۔ دوسری طرف جرنیل اس بات پر خوش تھے کہ بھٹو اور مجیب کو لڑوا کر وہ لوگ اپنے لئے میدان صاف کر رہے ہیں۔ مگر یہ تو تھی ان لوگوں کی اپنی اپنی سوچ اور یہ لوگ اتنی بڑی حقیقت کو بھول رہے تھے کہ اس ملک کو ہمیشہ خارجی قوتوں نے چلایا تھا خاص طور پر امریکہ نے۔ جب امریکہ کو ان حالات کا پتہ چلا تو اُس نے چین کے ساتھ مل کر یحییٰ خان پر دباؤ ڈالا کہ اب بھی یہ ممکن ہے کہ اس مسئلے کا کوئی سیاسی حل نکالا جائے۔ انہوں نے یہ فیصلہ بھی کیا تھا کہ مشرقی پاکستان کو آزاد کر کے بنگلہ دیش کا اعلان کر دیا جائے۔ جی ڈبلیو چودھری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: 
Yahya Showed one correspondence with Nixon and the Chinese Leaders who were keenly hoping that a political settlement with Bangalis might be possible on the basis of a brotherly parting of the ways. (The last days of united Pakistan by G.W Choudury pg192)
مگر ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستانی حکمران ابھی تک اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ پاکستان کے مستقبل کی قسمت کا فیصلہ اُن کے ہاتھوں سے نکل چکا تھا، اب یہ فیصلہ وہ بین الاقوامی قوتیں کریں گی جن کے ہاتھوں میں پاکستان نے ہمیشہ خود کو اور اپنی قوم کو گروی رکھا تھا۔ فیصلہ بھی ایسا کہ جس کی بنیاد پر پاکستان ٹوٹ جاتا۔ چودھری کہتے ہیں کہ مجھے یحییٰ خان نے خود یہ کہا کہ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ پاکستان ایک نہیں رہے گا، بہتر ہے اس خطے میں دو مسلمان مملکتیں بن جائیں۔ Let there be two muslim states in the Sub Continent (pg197)
یحییٰ خان کے ساتھ چودھری صاحب نے یہ باتیں ستمبر 1971ء میں کی تھیں اور کہتے ہیں کہ یہ اب جان گیا کہ کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے اور کون کھیل رہا ہے؟