بدیشی زبان

 بدیشی زبان

تحریر: مولانا خانزیب 

قرآن کی سورة روم میں اللہ تعالی فرماتے ہیں، مفہوم جس کا کچھ یوں بنتا ہے کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور تمہاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف اس کی نشانیوں میں سے ہے، بے شک اس میں علم والوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ پختونخوا کے سوات بحرین 'مغل مار' کے علاقے میں کچھ عرصہ پہلے تک بولی جانی والی ہند آریائی گروپ سے تعلق رکھنے والی قدیم  زبان ''بدیشی'' اب معدوم ہو چکی ہے۔ اس زبان کو بولنے اور سمجھنے والے اب صرف تین افراد، رحیم گل ، محبت خان اور شیر علی ہی رھ گئے ہیں مگر وہ بھی کم بولے جانے کے سبب اس زبان میں  بات کرتے ہوئے غلطیاں کر جاتے ہیں۔ بدیشی زبان کی معدومیت کا سبب وہ یہ بتاتے ہیں کہ کچھ عرصہ سے ہمارے گھروں میں اس کو بولنا ترک کیا گیا ہے باہر کے لوگوں کے ساتھ رشتوں ناطوں کی وجہ سے ہم دوسری زبانیں گھروں میں بولنے لگے ہیں جس کی وجہ سے یہ زبان معدوم ہو گئی ہے، پنجابی زبان کروڑوں لوگوں کی زبان ہے کچھ 8 ممالک میں بولی جاتی ہے مگر وہ بھی معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں جنکا بنیادی سبب اسکا نصاب تعلیم کا حصہ نہ ہونا اور پنجابی لوگوں کا گھریلو استعمال میں دوسری زبانوں کی ترویج ہے۔ کسی زبان کی معدومیت فقط زبان تک نہیں رہتی بلکہ اس کیساتھ ایک پوری تاریخ ادب انسانی سماج کے حسن اور تہذیب کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ زبان نہ تو ایک دن میں وجود میں آتی ہے اور نہ ہی ایک دن میں معدوم ہو جاتی ہے۔ یہ ایک اجتماعی سماجی عمل ہوتا ہے جن کی تخلیق اور معدومیت کیساتھ  پوری اجتماعی حافظہ معلق ہوتا ہے۔ مختلف زبانوں کی تخلیق و ترقی کا تجزیہ لسانیات کی مدد سے کیا جاتا ہے عام طور پر زبانیں معاشرے کی ضرورت اور ماحول کے اعتبار سے مختلف ادوار میں ظہور پذیر ہوتی اور برقرار رہتی ہیں۔ قرآن کریم  انسانوں کے جد امجد اور  پہلے زبان بولنے والے حضرت آدم کو کئی زبانوں کا جاننے والا بتاتے ہیں۔ سائنسی تحقیق کے مطابق انسانی سماج ہزاروں سال سے اشاروں کے زبان سے نکل کر باقاعدہ حروف کے اظہار کے ذریعے کلام کا ملکہ حاصل کرنے پر قادر ہوا ہے۔ دو زبانیں عالمگیر ہوتی ہیں ایک اشاروں کی زبان اور ایک مادری زبان جن کو انسان طبعاً سمجھتے ہیں۔ مختلف زبانیں انسانی سماج کے جمالیاتی حسن کا شاہکار ہوتی ہیں چیکوسلوواکیہ کی ایک کہاوت ہے کہ ایک نئی زبان سیکھو اور ایک نئی روح حاصل کرو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ زبان کا بہت گہرا تعلق انسان کے ذہنی ارتقا سے بھی ہے اگرچہ زیادہ زبان جاننا بذات خود انسانی ارتقا کے لیے ضروری نہیں لیکن انسانی ارتقا کا تجربہ وہی لوگ کرتے ہیں جو ایک سے زیادہ زبانیں جانتے ہوں۔زبان کی ابتدا کا پتہ لگانے کے لیے ہم پچاس ہزار سال سے اسی ہزار سال پہلے تک جا سکتے ہیں جہاں ممکن ہوا تھا کہ انسان نے اشاروں کے بعد بولنا سیکھا تھا اکثر ماہر لسانیات کا خیال ہے کہ یہ اس سے کہیں پرانی بات ہو سکتی ہے۔ نیلسن منڈیلا نے کہا تھا،  اگر تم کسی شخص سے اس زبان میں بات کرو جس کو وہ سمجھتا ہے تو وہ بات اس کے ذہن میں اتر جائے گی لیکن اگر تم اس سے اس کی (مادری) زبان میں بات کرو تو وہ اس کے دل میں اتر جائے گی۔ پختونخوا میں26 مادری زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں 72 فیصد افراد پشتو، 28 فیصد افراد ہندکو، سرائیکی، کوہستانی، کہوار، شینا طور والی اور گوجری وغیرہ بولتے ہیں۔ زبانوں پر تحقیق کرنے والے امریکی ادارے کے مطابق ملکوں کے حوا لے سے انگریزی سب سے زیادہ یعنی 112 ممالک میں بولی جاتی ہے جس کے بعد 60 ممالک میں فرنچ، 57 میں عربی، 44 میں ہسپانوی اور جرمن بھی 44 ممالک میں بولی جاتی ہے جبکہ اردو 23، ہندی 20 اور پنجابی 8 ممالک میں بولی جاتی ہے۔ مادری زبانوں کو لاحق خطرات کے حوالے سے پاکستان دنیا میں 28ویں نمبر پر ہے جبکہ بھارت میں سب سے زیادہ196 زبانوں کو خطرات لاحق ہیں امریکا کی 191، برازیل کی 190، انڈونیشیا کی147 اور چین کی144 زبانوں کی بقا کو خطرہ ہے۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا6 ہزار9 سو 12 زبانیں بولی جاتی ہیں جن میں سے516 ناپید ہو چکی ہیں، یونیسکو کے مطابق ہر14 دن بعد دنیا میں بولی جانے والی ایک زبان معدوم ہو جاتی ہے، اگلی صدی یا رواں صدی کے آخر تک دنیا کی نصف زبانیں ختم ہو جائیں گی، اقوام متحدہ کے مطابق دنیا بھر میں ہر2 ہفتے میں ایک زبان اپنی تمام تر ثقافت اور ادب سمیت متروک ہو جاتی ہے۔ 90 فیصد زبانیں ایسی ہیں جن کے بولنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے کم ہے۔537 زبانیں ایسی بھی ہیں جن کے بولنے والے پچاس سے بھی کم رہ گئے ہیں۔