خاندانی رشتے اور موروثی امراض

خاندانی رشتے اور موروثی امراض

تحریر:مولانا خانزیب

قریبی رشتہ داروں میں رشتہ کرنا دنیا میں زمانوں سے ہوتا چلا آ رہا ہے، پختون سوسائٹی میں تو ساٹھ فیصد لوگ آج بھی اپنے قریب کے رشتہ داروں میں رشتے کرتے ہیں۔ ان رشتوں کی وجہ بنیادی طور پر سماجی اور خاندانی اقدار کی مضبوطی تصور کی جاتی ہے کیونکہ کسی اجنبی خاندان میں رشتہ کبھی  بہت سے سماجی مسائل کا سبب بھی بنتا ہے جبکہ اجنبی خاندان میں رشتہ کرنے سے قبل بہت سی سماجی اقدار کی  باتیں ایسی ہوتی ہیں جو معلوم نہیں ہوتیں، بعد میں کسی کی بیٹی بہن کے حوالے سے گھریلو مسائل سامنے آتے ہیں تو اس کے اثرات مستقل طور پر دو خاندانوں کیلئے اذیت کا باعث ہوتے ہیں۔ ان سماجی الجھنوں سے بچنے کیلئے لوگ اپنے پرانے رشتہ داروں میں رشتہ طے کرنا ایک مناسب  اور موزوں حل سمجھتے ہیں لیکن دوسری طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ  روز بروز کچھ موروثی بیماریوں کے ساتھ ساتھ دیگر امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں جن میں بانجھ پن، شوگر، بلڈ پریشر، جگر، گردہ، تھیلیسیمیا، دل اور سینے کے امراض کے علاوہ دیگر بہت سے پیچیدہ امراض بھی شامل ہیں۔ جدید میڈیکل ریسرچ کے مطابق ان بیماریوں کے پھیلاؤ میں ایک بڑا سبب خاندانوں کے اندر مسلسل رشتے کرنا بھی ہوتا ہے۔ چونکہ ہم مشرقی لوگ روایات کے ساتھ کچھ زیادہ چمٹے ہوتے ہیں، روایات سے نکلنا یا ان کو توڑنا ہمارے لئے تقریباً ناممکن ہوتا ہے مگر یہ حقیقت بھی ہمیں نظرانداز نہیں کرنی چاہئے کہ خاندان کے رشتوں کو ہر حال میں فوقیت دے کر ہم سماجی خاندانی الجھنوں سے تو نکل آتے ہیں مگر اپنے بچوں کے مستقبل کو بغیر تحقیق کے اذیت ناک بیماریوں کے سپرد کر دیتے ہیں۔  کزنز میرج میں احتیاط کئے بنا بچے کئی موروثی بیماریوں میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔ شادی سے پہلے جینیاتی، موروثی، جراثیمی اور بانجھ پن کے ٹیسٹ اس لیے بھی ضروری ہیں تاکہ کہیں شادی کا خوشگوار احساس مشکلات کی نذر نہ ہو جائے۔ اگرچہ کچھ لوگ ان حقائق پر کان دھرنے کی بجائے من گھڑت مفروضوں پر اکتفا کرتے ہیں لیکن ڈاکٹروں کے مطابق ان طبی معائنوں سے آپ مستقبل میں مختلف پریشانیوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق ملک بھر میں مختلف بیماریوں میں مبتلا 60 سے70  فیصد بچوں کے ٹیسٹ سے پتہ چلا ہے کہ ان میں یہ بیماریاں موروثی طور پر منتقل ہوئی ہیں۔ آج کل سائنس کا زمانہ ہے، بہت سی مشکلات کا حل ممکن اور آسان بنایا گیا ہے مگر شرط یہ ہے کہ ہم پختون بطور معاشرہ ان سہولیات کو اگر کام میں لائیں تب ممکن ہے کہ اپنے بچوں کو ہم خاندانی موروثی بیماریوں کے اثرات سے محفوظ رکھ سکیں گے۔ اس کا سادہ حل ہے اور وہ یہ کہ جن بچوں کا آپ نے خاندان کے اندر رشتہ کرانا ہے تو نکاح سے قبل دیگر دو تین ٹیسٹوں سمیت ڈی این اے ٹیسٹ کرائیں اگر بچوں میں آنے والے وقت میں کوئی ممکنہ مرض کی تشخیص ہو جاتی ہے تو طبی ماہرین کی ہدایات کی روشنی میں یا تو پھر کسی اور جگہ رشتہ کریں یا تشخیص کے بعد ان موروثی بیماریوں کا کامیاب علاج بھی ممکن ہو سکتا ہے۔ خدارا! خاندان کے اندر رشتوں میں احتیاط کریں اور اگر کرنا ضروری ہو تو جدید سائنسی وسائل سے استفادہ کرنا شرعاً اور رواجاً کوئی گناہ نہیں۔ ڈی این اے (deoxyribonucleic acid) ہر جاندار کے خلیہ (cell) میں ماں باپ کے وراثتی جینز کا ایک چھوٹا سالمہ ہوتا ہے انسانی جسم کے تمام خلیات میں ایک جیسا ڈی این اے پایا جاتا ہے۔ ڈی این اے میں وہ تمام جینیاتی درج ہدایات ہوتی ہیں جن کے تحت زندہ اجسام نشونما پاتے ہیں مثلاً جنس کی تفصیلات، بالوں اور آنکھوں کا رنگ، عمر اور جسمانی ساخت، ساتھ ہی ڈی این اے کے ذریعے یہ بھی ممکن بنایا گیا ہے کہ کون کون سے ممکنہ امراض انسانی جسم کو مستقبل میں لاحق ہو سکتے ہیں ہر انسان اپنے ڈی این اے کی پچاس فیصد معلومات کا حصہ اپنی والدہ جبکہ پچاس فیصد اپنے والد کی نسبت سے وصول کرتا ہے، دونوں کی ترکیب و اجتماع سے انسان کا اپنا ڈی این اے تشکیل پاتا ہے جس سے اس کے متعلق تمام درکار معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔ قدرت کی طرف سے زندگی کا سفر ساٹھ کروڑ سال قبل یک خلوی جانور سے شروع ہوا تھا جبکہ آج کے تخمینوں کے مطابق کسی بالغ انسانی جسم میں اوسطاً تیس کھرب خلیات ہوتے ہیں، اگر آپ ان خلیات میں موجود ڈی این اے مالیکیول کو سیدھا کر سکیں تو ان کی لمبائی34  ارب میل تک ہو سکتی ہے۔ ڈی این اے کسی بھی انسان کا وہ مخصوص جینیاتی کوڈ ہے جس کے ذریعے اس کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں اور یہ معلومات اس کی ظاہری شکل و صورت، زندگی، تاریخ اور شناخت پر مشتمل ہوتی ہیں۔ قدرت کا کرشمہ ہے کہ اس دنیا میں ہر انسان کا ڈی این اے دوسرے انسان سے یکسر مختلف ہوتا ہے۔ ڈی این اے ٹیسٹ کو دنیا میں پہلی مرتبہ پروفیسر جیفریز نے1986  میں ایک جرم کی تحقیقات کے دوران استعمال کیا تھا۔ ہمارے جسم کے ہر ایک سیل میں ڈی این اے موجود ہوتا ہے جو دو کروموسوم پر مشتمل ہوتا ہے جن میں ہر شخص کی انفرادی خصوصیات کا مظہر موجود ہوتا ہے اور یہی خصوصیات آئندہ نسل میں بھی منتقل ہوتی ہیں جس کی وجہ سے آئندہ نسل شکل و صورت، قد کاٹھ اور عادت و اطوار کے لحاظ سے پچھلی نسل سے مشابہت رکھتی ہے۔ ایک انسان کا مجموعی ڈی این اے (جسے جینوم کہا جاتا ہے) تین ارب الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے۔ اگر یہ ساری ہدایات مکمل طور پر لکھی جائیں تو اس سے عام سائز کی تقریباً پانچ ہزار کتابیں بن جائیں گی۔ جینز ڈی این اے کے اندر نمایاں حصے ہوتے ہیں، کسی بھی جاندار کے سارے جسم کی ساخت ان جینز سے مرکب ہوتی ہے جبکہ خلیہ تمام جانداروں کی بنیادی ساختی فعلیاتی اکائی ہوتا ہے۔ انسانی جسم کئی ٹریلین خلیات سے مرکب ہوتا ہے جن کی جسامت تقریباً سو مائیکرو میٹر ہوتی ہے۔ انسان کا ڈی این اے تقریباً تین ارب بیسز کا بنا ہوتا ہے جو سب انسانوں میں 99/.9  فیصد تک برابر ہوتا ہے صرف0/.1  ڈی این اے ایسا ہوتا ہے جس کی وجہ سے ہم ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔ جس شخص کا ڈی این اے لینا ہوتا ہے اس کے بال، خون، تھوک اور ہڈی وغیرہ سے نمونہ لیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے انسانی خلیہ سے ڈی این اے الگ کیا جاتا ہے پھر ایک خاص طریقہ، پی سی آر (polymerase chain Reaction)  کی مدد سے ایک مشین میں اس ڈی این اے کی لاکھوں کاپیاں بنائی جاتی ہیں اور ان لاکھوں کاپیوں کے ذریعے ڈی این اے کا بہتر طریقے سے جائزہ لیا جاتا ہے۔ ڈی این اے کے بعد ڈی این اے فنگر پرنٹ بنایا جاتا ہے۔ دو مختلف نمونوں کے ڈی این اے فنگر پرنٹ میں مماثلت دیکھ کر ان میں کسی باہمی تعلق کا تعین کیا جاتا ہے، حادثہ کی صورت میں جب کوئی لاش بالکل مسخ ہوتی ہے تو اس کے ذریعے شناخت ممکن بنائی جاتی ہے جو اس کے خاندان کے افراد کے نمونہ کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ ڈی این اے سے نسب کے اثبات میں شکوک رفع کرنے کیلئے ولدیت کا تعین ممکن ہوتا ہے، کسی مجرم کی شناخت کیلئے اس سے مدد لی جا سکتی ہے، جائے وقوعہ سے مجرم کے بائیولوجیکل نمونہ کے ذریعے معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ اگر کسی خاندان میں کوئی موروثی بیماری ہو تو ماں باپ کی قبل از پیدائش بچے کے ممکنہ بیماریوں کے حوالے سے جانکاری ممکن ہے۔ اسی طرح شجرہ نسب یا کسی انسانی نسلی گروہ کے تعین کیلئے بھی ڈی این اے کو کام میں لایا جا سکتا ہے جس سے بہت دور دور تک کئی نسلوں تک آبا و اجداد کا تعین ممکن ہوتا ہے۔