ڈاکٹر نجیب اللہ کی قومی مصالحتی پالیسی اب بھی کار آمد ہے

ڈاکٹر نجیب اللہ کی قومی مصالحتی پالیسی اب بھی کار آمد ہے

 شمیم شاھد
 افغانستان کے سابق صدر اور پشتونوں کے مقبول ترین رہنماؤں کے صف اول میں شامل شہید ڈاکٹر نجیب اللہ کی ستائیسویں برسی کے موقع پر ایک بار پھر خطے میں ایک نئی جنگ کی صف بندی شروع ہونے کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، مگر ان حالات میں بھی ماضی کے طرح پشتونوں کی مذہبی سیاسی سماجی اور قبائلی قیادت مکمل طور پر منقسم ہے، افغانستان چونکہ پشتونوں کا گھر اور مرکز ہے اور جب بھی سامراجی غاصب قوتوں نے افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں پر کام شروع کیا ھے تو سب سے پہلے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان ہی کے پشتونوں کو بھی تقسیم در تقسیم کر دیا ہے ۔ یہ حالات اب کے نہیں بلکہ عرصہ دراز سے جاری ہیں، پاکستان بننے کے بعد اگر ایک طرف قیام پاکستان کے لئے سب سے جدوجہد کرنے والے بنگالیوں کو دیوار سے لگایا گیا تھا تو پشتون قیادت کو بھی کمزور کرنے کے کسی بھی موقع کو ضائع نہیں کرنے دیا گیا تھا۔ اور پشتونوں کی حقیقی قیادت کو اگر ایک طرف مذہبی نعروں پر کمزور کرنے کی سعی کر دی گئی تھی تو اس قسم کی سازشوں میں ترقی پسند سوشلسٹ نظریات کے حامل بعض عناصر کو بھی بخوبی استعمال کیا گیا ہے ۔ عین وہی طریقہ کار افغانستان میں ایک ایسے وقت عالمی سطح اپنایا گیا تھا جب شہید ڈاکٹر نجیب اللہ نے افغانستان کی ایک آزاد خودمختار اور غیر جانبدار حیثیت کی بحالی پر کام شروع کر دیا تھا، در حقیقت ببرک کارمل کے بر سر اقتدار آنے کے بعد جب شہید ڈاکٹر نجیب اللہ کو سابق حکمران پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کے اہم عہدوں پر کام کرنے کا موقع ملا تو اس نے ملک کو بیرونی سازشوں اور اندرونی محاذ آرائی سے نجات دلانے کے ایک منصوبے پر کام شروع کیا جس کے نتیجے میں نہ صرف افغانستان سے سوویت یونین کی افواج کا انخلا ممکن ہوا بلکہ پاکستان کے حمایت یافتہ مجاہدین بھی تتر بتر اور ایک دوسرے کے ساتھ مشت و گریبان ہوگئے تھے ،1986 کے اوائل میں پارٹی کا سربراہ بننے کے بعد سابقہ سوویت یونین کی افواج کے انخلا  کے ساتھ ساتھ قومی مصالحتی پالیسی کا نفاذ بھی کیا تھا یہ ایک ایسی مصالحتی پالیسی تھی جس کے نتیجے میں افغانستان جنوبی ایشیا کا سب سے پر امن مترقی اور خوشحال ملک بن سکتا تھا مگر بد قسمتی یہ تھی کہ ایک طرف جہاد اور انقلاب کے نام پر افغانستان کی سیاسی اور مذہبی قیادت ایک دوسرے کے ساتھ مشت و گریبان تھی تو دوسری طرف طرف پاکستان کی پشتون قیادت بھی مختلف نعروں کی بنیاد پر ایک منظم منصوبہ بندی کے ساتھ گروہوں میں بٹ چکی تھی، قومی مصالحتی پالیسی کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ افغانستان کی جہادی تنظیموں میں پاکستان کی استعماری قوتوں کا پسندیدہ انجینئر گلبدین حکمتیار ہی تھا جس نے مرحوم خان عبدالولی خان کے ذریعے شہید ڈاکٹر نجیب اللہ کی خواست کو مسترد کردیا تھا جبکہ پاکستان میں کوئی اور نہیں بلکہ وہ نام نہاد وہ ترقی پسند تھے جو کبھی مضبوط وفاق اور کبھی مضبوط صوبوں کے نام پر پارٹیوں کے بعد پارٹیاں تشکیل دینے پر پر اسرار ملکی اور بیرونی جاسوسی اداروں کے سامنے  ہمیشہ بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ اب کی بار اگر نام نہاد مذہبی شخصیات افغانستان میں طالبان کے برسر اقتدار آنے پر بغلیں بجاتی ہیں تو بلکل اسی طرح وہی نام نہاد ترقی پسند پاکستان ہی کے پشتونوں کو تقسیم در تقسیم کے عالمی سامراجی قوتوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے ، اس وقت پشتونوں کی لگ بھگ ایک درجن  سیاسی جماعتوں میں منقسم ہے اور اکثریت صرف ایک جماعت کی پالیسی اور قیادت پر اعتراضات کر رہی ہے۔ تمام  عوامی نیشنل پارٹی جو حقیقی معنوں میں مرحوم مصلح اور مبلغ خان عبدالغفار خان المعروف باچاخان کے عدم تشدد کے فلسفے کی وارث ہے کی مخالفت میں ایک ہے مگر کبھی اپنے آپ میں سے کسی ایک جماعت یا ایک رہنما پر بھی متفق نہیں ہوسکتے ۔ شہید ڈاکٹر نجیب اللہ نے  جولائی 1990 کے اواخر میں راقم کو واضح الفاظ میں کہا تھا کہ مرحوم باچا خان کا خاندان بالخصوص خان عبدالولی خان اور انکے بچے کبھی بھی پشتونوں کے ساتھ غداری یا جفا کے مرتکب نہیں ہوسکتے ۔ انہوں نے اسی وقت عوامی نیشنل پارٹی کے خلاف نام نہاد ترقی پسندوں کی جماعت بننے پر سخت غم و غصے کا اظہار بھی کیا تھا ۔ بعد میں وہی جماعت تین چار گروہوں میں بٹ کر اب سیاسی جماعتوں کے مقبرے کا حصہ بن چکی ہے ۔ اب بھی کچھ نت نئے تجربوں کے تحت پشتونوں کو تقسیم در تقسیم پر کام جاری ہے ۔ مخلص پشتونوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ شہید ڈاکٹر نجیب اللہ کی قومی مصالحتی پالیسی کے عملی نفاذ پر خلوص نیت سے کام شروع کرکے  پشتونوں کے خلاف خلاف عالمی اور علاقائی سطح پر کی جانے والی سازشوں کو ناکام بنا دے ۔