ڈاکٹر کاظم نیاز: ایک متحرک بیوروکریٹ

ڈاکٹر کاظم نیاز: ایک متحرک بیوروکریٹ

تحریر: ڈاکٹر محمد ہمایون ہما 

اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ہم انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کر چکے ہیں وہ لوگ شدید غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ یہ بات بھی درست ہے کہ وہ عملی طور پر1947  میں رخصت ہو چکے ہیں مگر ہم ان کے بنائے ہوئے قوانین سے اب تک چھٹکارا حاصل نہیں کر سکے۔ سب سے بڑا ادارہ بیوروکریسی کی شکل میں ہمیں ان کی جو میراث ملی ہے74  سال گزرنے کے باوجود اس میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔ بیوروکریٹ سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے۔ اپنی مرضی کا بادشاہ، لامحدود اختیارات اس کی مٹھی میں بند۔ اگر کوئی کام نہ کرنا چاہے تو مولویوں کی طرح ایک سرخ کتاب ان کے سامنے پڑھی ہوتی ہے، اس کے کسی نامعلوم صفحے کی نامعلوم سطر پر انگلی رکھ کر بیوروکریٹ صاحب فرماتے ہیں اس لال کتاب کی دفعہ تین سو بارہ کی شق 410 الف540  میں تمہاری سزا درج ہے۔ میں کیا کر سکتا ہوں ہاں۔۔ ۔ کسی کو درگزر کرنا چاہیں تو منہ زبانی حکم صادر کر دیتے ہیں جا یار۔۔۔ ان معمولی باتوں کی ہم زیادہ فکر نہیں کرتے۔ جعلی دوائیاں بنا۔۔۔ بھوسہ بھرا آٹا فروخت کر۔۔۔ کوکنگ آئل کی جگہ ہربل آئل بیچ، کوئی مائی کا لال تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ لیکن ان اندھیروں میں کچھ شمعیں بھی روشن ہوتی ہیں۔ وہ اپنے حصے کے کام میں بڑی دیانت داری سے مصروف نظر آتے ہیں۔ ہمارے ایک دوست بیوروکریٹ تھے، خود کو slave of the rules کہتے تھے۔ غلط کام کرنے والوں کے لئے ان کی دلیل ہوتی کیوں بھائی۔۔۔ میں آپ کا کرایہ دار ہوں (ستا کنڈر کے اوسم) میں اپنے ضمیر کے سامنے جوابدہ ہوں۔ خدا کے سامنے پیش ہونا ہے کیا پل صراط پر تم مجھے ہاتھ سے پکڑ کر گزارو گے، منکر نکیر کو کیا جواب دوں گا؟ میں ان سے عرض کرتا ہوں یار! گزارا کرو، تھوڑی بہت نرمی بھی کر لیا کرو۔ کہتے جی نہیں! یہ میرا اصول نہیں اور ایک بار پھر وہ مجھے روز قیامت، حساب کتاب، پل صراط اور قبر میں اترنے کے حوالے دینے لگتے۔ یہ تمہید ہم نے یوں باندھی کہ ہمارے دوست امجد علی خادم نے ڈاکٹر کاظم نیاز کو اس صدی کا آدمی کہا ہے اور درست کہا ہے۔ ڈاکٹر کاظم نیاز سے کوئی کام تو نہیں پڑا صرف ایک بار ان کے والد پروفیسر جہانزیب نیاز کی برسی میں ملاقات ہوئی۔ خادم کہتے ہیں اور درست کہتے ہیں کہ ڈاکٹر کاظم، جو دو سال تک ہمارے صوبے کے چیف سیکرٹری رہے، ایک دیانت دار، اپنے کام سے کام رکھنے والے شریف النفس اور خاکسار بیوروکریٹ تھے۔ دو سالوں کے عرصے میں ان کے خلاف کوئی شکایت سامنے نہیں آئی۔ ظاہر ہے جب کوئی بیوروکریٹ کسی ناجائز کو جائز کرنے کے لیے لال کتاب میں سے کوئی دفعہ تلاش نہ کرے اور اپنے ضمیر کے سامنے خود کو جواب دہ سمجھتا ہو ان سے کسی کو کیا شکایت ہو سکتی ہے۔ ڈاکٹر کاظم نیاز طب کے ڈاکٹر ہیں مگر انہوں نے سماجی علوم میں بھی اعلی ڈگری حاصل کی۔ یونیورسٹی میں بھی تعلیم حاصل کی۔ مقابلے کے امتحان میں بیٹھے اور پہلی پوزیشن حاصل کر کے سول سروس جائن کر لی۔ مختلف اعلی عہدوں پر کام کرنے کے بعد مسائل سے بھرپور خیبر پختونخوا میں چیف سیکرٹری کے فرائض دو سال تک کامیابی سے ادا کرنے کے بعد مرکز کے کسی محکمہ میں سیکرٹری بن کر چلے گئے۔ ڈاکٹر کاظم نیاز کے والد پروفیسر جہانزیب نیاز کا شمار اساتذہ الاساتذہ میں ہوتا تھا۔ اسلامیہ کالج میں ایک طویل عرصے تک پروفیسر رہنے کے بعد شعبہ پشتو پشاور یونیورسٹی کے سربراہ رہے۔ وہ ایک اچھے شاعر اور نثر نگار تھے۔ کیونکہ ڈاکٹر کاظم نیاز کی تربیت ایک علمی اور ادبی خاندان میں ہوئی تھی لہذا وہ بھی شاعری سے شغف رکھتے ہیں اور جب تک چیف سیکٹری رہے پشتو ادیبوں کے مسائل کی طرف متوجہ رہے۔ بے شمار ضرورت مند ادیبوں کی مالی امداد کی۔ سلیم راز صاحب کی بیماری کا انہیں معلوم ہوا تو ان کی مزاج پرسی کے لئے ان کے گھر گئے، ہسپتال میں ان کو شفٹ کیا اور ان کے علاج کے لیے خصوصی احکامات جاری کیے۔ جیسے کہ میں نے عرض کیا میں نے گزشتہ سال پروفیسر جہانزیب نیاز کی برسی میں شرکت کی اور وہاں گفتگو بھی کی۔ کچھ بہی خواہوں نے میری گفتگو کا ایک جملہ پکڑ کر ڈاکٹر کاظم نیاز کو بتایا کہ دیکھو ہما کہتا ہے کہ میں پروفیسر جہانزیب نیاز کو پہلی ملاقات میں نہیں پہچانتا تھا۔ اس بات سے ڈاکٹر کاظم گلہ مند بھی ہوئے حالانکہ میرا یہ جملہ سیاق و سباق سے جدا کر کے ان تک پہنچایا گیا تھا۔ یہ1968  کی بات ہے، میں ایم اے اردو کے پہلے سال کا امتحان دے رہا تھا۔ خیبر یونین ہال میں پروفیسر جہانزیب نیاز ہمارے نگران اعلی تھے۔ اتفاق یہ ہوا کہ اس پرچے سے ایک دن پہلے میرے گھر میں انگور کے خوشے اتارتے ہوئے وہاں چتھے سے زہریلی مکھیاں چمٹ گئیں، ہاتھ پھول گیا تھا اور مجھے پڑھنے لکھنے میں شدید تکلیف محسوس ہوئی، میرا سر چکرا گیا اور میں نیم بے ہوش ہو کر گر پڑا۔ نیاز صاحب کی مجھ پر نظر پڑی تو وہ بھاگ کر آئے اور سحر یوسف زئی جو ہال میں ان کے نائب تھے، انہیں کہا کہ اسے باہر لے جاؤ۔ کچھ دیر بعد میری طبیعت بحال ہوئی اور میں پڑھنے لکھنے لگا۔ میں ایک مبتدی لکھاری تھا اور جہانزیب نیاز صاحب اس وقت بھی ایک جانے پہچانے ادیب تھے۔ کیونکہ باالمشافہ کبھی ملاقات نہیں ہوئی تھی چنانچہ میں نے کہا کہ میں اس وقت تک پہچان نہ سکا۔ یہ بات ڈاکٹر کاظم نیاز کے گلہ کا باعث بنی۔ امید ہے اب ان کی غلط فہمی رفع ہو چکی ہو گی۔ میں نے ان کے گلے پر پیر ہارون اور فریدون خان کے ذریعے یہ وضاحت ان تک پہنچا دی تھی۔ جیسے کہ عرض کر چکا ہوں ڈاکٹر کاظم نیاز ایکdedicated  اور دیانتدار بیوروکریٹ ہیں، کوئی لال کتاب ان کے پاس نہیں، کھرے انسان ہیں۔ انہوں نے دو سال تک صوبے کی بے لوث خدمت کی ہے۔ وہ جہاں بھی جائیں گے اپنے فرائض تندہی اور خلوص نیت سے ادا کرتے رہیں گے۔