جہیز لعنت ہی نہیں ظلم بھی ہے

جہیز لعنت ہی نہیں ظلم بھی ہے

                                                   جہیز لعنت ہی نہیں ظلم بھی ہے

 

سب جانتے ہیں کہ جہیز کی وجہ سے معاشرہ روز بروز کس دلدل میں پھنس رہا ہے بلکہ اب تو اسے باقاعدہ ایک فیشن بنا دیا گیا ہے مگر فیشن بنانے والے لوگ یہ کیا جانیں کہ ماں اس خوف سے سو نہیں پاتی کہ جہیز نہیں بنا تو بیٹی کے ہاتھ کیسے پیلے کریں گے، باپ ساری رات کروٹیں بدلتا ہے کہ کتنی مزدوریاں کر کے بیٹی کے جہیز کے پیسے پورے ہو سکتے ہیں اور ایک بیٹی کو جہیز بنا کے رخصت کر بھی لیا تو باقی بیٹیوں کے جہیز کے لئے کیا کریں گے


ہر وہ شخص بھی ظالم ہی ہے جو جہیز لیتا یا دیتا ہے، ظلم سہنے والا بھی ظالموں میں ہی شمار ہوتا ہے، لعنت جہیز کو اس معنی میں کہا جا سکتا ہے کیونکہ اب یہ ایک فیشن بن چکا ہے، ایک رسم چل پڑی ہے، باقاعدہ مطالبے کئے جاتے ہیں، لسٹ پکڑائی جاتی ہے، بیٹی کو جہیز دینا اور شرعی حصہ دینے میں واضح فرق ہے

 

نجانے ایسی کتنی بیٹیاں بہنیں چپ چاپ یہ جنگیں لڑ رہیں ہیں مگر اس جنگ کو روکنے والا کوئی نہیں، خدارا! اب اس ظلم کو ختم کرنے کے خلاف اٹھو، بند کرو یہ ظلم، توڑ دو اس نام نہاد رسم و رواج کی زنجیر کو! اگر اس زنجیر کو توڑنے کے لئے باغی کہلائے جاؤ تو یہ لقب بخوشی قبول کر لو مگر کسی کے جہیز کی لسٹ نہیں

 

عالیہ مصباح

 

کہتے ہیں کہ میر تقی میر نے اپنا گھر بیچ کر اپنی اکلوتی بیٹی کو جہیز دیا تھا۔ شادی کے بعد بیٹی کو کسی نے کہا تیرے باپ نے اپنا گھر اجاڑ کر تیرا گھر بسا دیا، بیٹی بہت حساس تھی یہ سن کر وہ بیمار پڑ گئی اور اسی غم میں گھل گھل کر کچھ ہی دنوں میں انتقال کر گئی۔ میر تقی میر بیٹی کا آخری دیدار کرنے گئے، کفن اٹھا کر بیٹی کو دیکھا اور کیسا غضب کا شعر کہا (جو ان کی زندگی کا آخری شعر کہا جاتا ہے):

 

اب آیا ہے خیال اے آرام جان اس نامرادی میں
کفن دینا تمہیں بھولے تھے ہم اسباب شادی میں

 

جہیز ایک لعنت ہے یہ ہم سب بچپن سے پڑھتے آئے ہیں لیکن کیوں ہے؟ کتنے ہی لوگ اس بات کو سمجھ پائے ہیں؟ شاید یہ پڑھا تو ہم نے ہے مگر اس کی سمجھ ہر ماں باپ کو ہے اور ان ماں باپ کو سب سے زیادہ، جو غربت کی وجہ سے دو وقت کی روٹی بھی بمشکل کھا لیتے ہوں، وہ جہیز کا بوجھ کہاں سے برداشت کریں۔ سب جانتے ہیں کہ جہیز کی وجہ سے معاشرہ روز بروز کس دلدل میں پھنس رہا ہے بلکہ اب تو اسے باقاعدہ ایک فیشن بنا دیا گیا ہے مگر فیشن بنانے والے لوگ یہ کیا جانیں کہ ماں اس خوف سے سو نہیں پاتی کہ جہیز نہیں بنا تو بیٹی کے ہاتھ کیسے پیلے کریں گے، باپ ساری رات کروٹیں بدلتا ہے کہ کتنی مزدوریاں کر کے بیٹی کے جہیز کے پیسے پورے ہو سکتے ہیں اور ایک بیٹی کو جہیز بنا کے رخصت کر بھی لیا تو باقی بیٹیوں کے جہیز کے لئے کیا کریں گے، کسی سے قرض بھی لیا تو ساری زندگی جہیز کا قرض اتارتے اتارتے خود قبر میں اتر جاتا ہے۔ جب ہم سب جانتے ہیں کہ یہ کتنا تکلیف دہ ہے تو ہم خود پے رحم کیوں نہیں کرتے؟ ایک دوسرے کی پردہ پوشی کیوں نہیں کرتے؟ ایک دوسرے کے لئے جینا کیوں مشکل کر رہے ہیں؟ دوسروں پر نہیں تو خود پر رحم کر کے اس زنجیر اس نام نہاد روایت اور رسموں کو توڑ کیوں نہیں دیتے؟ کیا ہم سچ میں تعلیم یافتہ ہیں؟ کیا ہم سچ میں باشعور ہیں یا صرف کچھ اوراق کے رٹے ہوئے طوطے ہیں؟؟کیا ہم اتنے کمزور ہیں کہ اس زنجیر کو نہیں توڑ سکتے؟ 


معاشرے ایسے نہیں بدلتے، انقلاب لانا پڑتا ہے، کسی ایک کو اٹھ کھڑا ہونا ہی پڑتا ہے۔ ہم مذہب کے لئے لڑتے ہیں، لڑاتے ہیں، ایک دوسرے کا قتل مذہب کے نام پے حلال کر دیتے ہیں لیکن کیا ہم اس مذہب پے سچ میں عمل پیرا ہیں؟ ہمارے اندر کا مسلمان کہاں مر جاتا ہے اس وقت جب ہم مجبور ماں باپ پے جہیز جیسی لعنت کا بوجھ ڈال کے کھڑے ہو جاتے ہیں، لسٹ پکڑا دیتے ہیں، تب اسے زمانے کے رسم و رواج کا نام دے کے بات کو ختم کیا جاتا ہے۔ 

 

جہیز صرف ایک لعنت نہیں بلکہ ایک ظلم بھی ہے اور ہر وہ شخص بھی ظالم ہی ہے جو جہیز لیتا یا دیتا ہے۔ ظلم سہنے والا بھی ظالموں میں ہی شمار ہوتا ہے۔ لعنت جہیز کو اس معنی میں کہا جا سکتا ہے کیونکہ اب یہ ایک فیشن بن چکا ہے، ایک رسم چل پڑی ہے، باقاعدہ مطالبے کئے جاتے ہیں، لسٹ پکڑائی جاتی ہے۔ بیٹی کو جہیز دینا اور شرعی حصہ دینے میں واضح فرق ہے۔ جہیز وہ تحائف ہوتے ہیں جو لڑکے والے مانگتے ہیں، باقاعدہ مطالبہ کرتے ہیں جبکہ شرعی حصہ وہ ہوتا ہے جس کا اسلام نے حکم دیا ہے باپ کی جائیداد میں سے حصہ بیٹی کو دینا یہ حکم الہی ہے۔ پھر بات آتی ہے تحائف اور جہیز کی۔ تحائف وہ ہوتے ہیں جو لڑکی کا باپ اپنی طرف سے لڑکی کو دیتا ہے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ  اس کو جائیداد میں اب حصہ نہ دیا جائے۔ جائیداد میں حصہ دینا شریعت کا حکم ہے جبکہ تحائف دینے کی کوئی پابندی نہیں۔ اگر باپ اپنی طرف سے اپنی بیٹی کو کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے مگر وہ دکھاوے کے لئے نہ ہو اور وہ تب ہی دے سکتا ہے جب وہ اتنا افورڈ کر سکتا ہو، قرض لینے کی ضرورت نا پڑے۔ ان سب صورتوں کے علاوہ چیزیں دینا لینا غلط ہے اور اس کی ممانعت اسلام اور پاکستانی قانون دونوں میں ہوئی ہے۔ 

 

پاکستان میں حکومت نے جہیز کو کنٹرول کرنے کے لیے ''ڈاوری اینڈ برائڈل گفٹس رسٹریکشن ایکٹ 1976'' منظور کروایا تاکہ جہیز کی لعنت کو معاشرے سے ختم کیا جا سکے۔ اس قانون کے تحت جہیز پانچ ہزار روپے سے زیادہ دینے پر پابندی عائد کر دی گئی اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں چھ مہینے قید یا جہیز کی مناسبت سے جرمانہ مقرر کیا گیا۔ اس ایکٹ میں حکومت کو یہ بھی اختیار دیا گیا کہ وہ جہیز کی لمٹ سے زیادہ سامان کو بحق سرکار ضبط بھی کر سکتی ہے اور قانون کی رو سے یہ قبضے میں لئے جانے والا سامان کسی غریب لڑکی کی شادی میں حکومت کی طرف سے دیا جائے گا۔ میرا تعلق جس علاقے سے ہے تو وہاں جہیز کا کوئی تصور نہیں وہاں بیٹی کا رشتہ دینا ہی سب سے بڑی بات سمجھی جاتی ہے وہاں بیٹی سے بڑھ کے کوئی چیز قیمتی نہیں ہوتی کہ جہیز میں دی جائے۔ ہاں البتہ جو افورڈ کر سکتے ہوں تو بیٹی کو تحائف دے دیتے ہیں مگر اس کی کوئی  پابندی نہیں ہوتی نا لڑکے والوں کی طرف سے کوئی مطالبہ کیا جاتا ہے۔ تقریباً جتنا میں نے دیکھا ہے لڑکی کو جائیداد کے حصے سے محروم نہیں کیا جاتا نہ ہی جائیداد لینے دینے کی اس رسم کا کوئی وجود ہے۔ اور اسی طرح لڑکی والے بھی حق مہر زیادہ نہیں رکھتے کہ لڑکے والوں کو دقت نہ ہو۔ دونوں طرف سے خیال رکھا جاتا ہے۔ اسbalance  کی وجہ سے ہی ایک اچھی زندگی گزاری جا سکتی ہے کیونکہbalance  اس دنیا کا قانون ہے، کائنات کا سارا نظام اسیbalance  کی وجہ سے قائم ہے۔ یہ بھی تو ایک رسم ہے اس رسم کو کیوں نا لے کے چلیں ہم۔

 

پرسوں مجھ سے ایک لڑکی نے رابطہ کیا اور کہا کہ مجھے آپ کی مدد چاہیے میں نے پوچھا کہ میں آپ کی کیسے مدد کر سکتی ہوں تو جو اس لڑکی نے بتایا اس کی باتوں نے مجھے یہ اتنا لمبا چوڑا مضمون لکھنے پر مجبور کر دیا۔ گفتگو کچھ یوں تھی کہ: اسلام علیکم کیسی ہیں آپ؟ مجھے فلاں نے آپ کا نمبر دیا مجھے آپ کی مدد چاہیے؟ میں نے وسلام کہہ کر پہلے نمبر دینے والے کا نام پوچھا کیونکہ پھر ہمیں کیس وریفیکیشن میں آسانی ہوتی ہے اور پھر اس کی مجبوری پوچھی۔ میرا پوچھنا ہی تھا کہ اس نے ایک ہی بار میں سب کہہ ڈالا: ''جی میری چھوٹی بہن کی شادی ہے۔ میرا کوئی بھائی نہیں اور بابا کا انتقال ہو چکا ہے میں ادھر پشاور میں جاب کرتی ہوں میری تنخواہ23000  روپے ہے جس سے بہت مشکل سے گزار ہوتا ہے۔ اور اس تنخواہ میں بہن کا جہیز نہیں لے سکتی کیونکہ گھر کو بھی چلانا ہے اور میں سب سے بڑی بہن ہوں اور گھر کو میں ہی سنبھالتی ہوں اور کوئی سہارا نہیں ہے۔ ساتھ میں اس نے پنے سارے ڈکومنٹس سینڈ کئے۔ میرے مزید پوچھنے پے بتایا کہ ابو جی کے انتقال کو سات سال ہو گئے ہیں اور امی جی کی11  اگست کو پہلی برسی ہے۔ ابو جی ایف سی میں کام کرتے تھے اور اب میں ایف سی میں بطور لیڈی سولجر کام کرتی ہوں۔'' یہ بات سن کر پہلے تو مجھے اس پے فخر محسوس ہوا کہ کتنی مضبوط ہے پھر آنکھوں میں آنسوں آ گئے کہ حالات نے کن کن مراحل سے گزارا ہو گا، خود شادی نہیں کی مگر بہن کے جہیز کے لئے مدد مانگ رہی ہے اس کی قربانیوں کو کیا نام دوں، وہ الفاظ کاش میرے پاس ہوتے مگر افسوس ہوا اس معاشرے کے بہرے پن پے اندھے پن پے، بے حس ہونے پے! نجانے ایسی کتنی بیٹیاں بہنیں چپ چاپ یہ جنگیں لڑ رہیں ہیں مگر اس جنگ کو روکنے والا کوئی نہیں۔ خدارا! اب اس ظلم کو ختم کرنے کے خلاف اٹھو، بند کرو یہ ظلم، توڑ دو اس نام نہاد رسم و رواج کی زنجیر کو! اگر اس زنجیر کو توڑنے کے لئے باغی کہلائے جاؤ تو یہ لقب بخوشی قبول کر لو مگر کسی کے جہیز کی لسٹ نہیں، خود سے شروعات کر لو یہ رسم آپ نے توڑنی ہے میں نے توڑنی ہے کوئی تیسرا نہیں آئے گا اس ظلم کو ختم کرنے، جہیز مانگا جائے تو انکار کر لو، جہیز مانگنے سے انکار کر لو، دیکھو ایک بار کہ زندگی کتنی آسان ہو جاتی ہے، کتنی خوبصورت کتنی پرسکوں!