کورونا کی وباء اور خواتین پر تشدد

کورونا کی وباء اور خواتین پر تشدد

عالمی وبا کورونا کے ایک سال کے دوران خیبر پختونخوا میں تشدد کی وجہ سے ایک سو چوبیس خواتین اور بچیاں قتل کی گئیں جبکہ پنجاب میں تین سو دو، سندھ میں ایک سو تیرا، بلوچستان میں انیس اور گلگت بلتستان میں66  خواتین تشدد کر کے قتل کر دی گئیں

 

تحریر۔اسماء گل

 

گزشتہ برس ضلع چارسدہ کے تھانہ پڑانگ کی حدود میں اک لاوارث خاتون کی لاش برآمد ہوئی جس کے بعد پولیس نے لاش کو تحویل میں لے کر قبرستان میں دفنا دیا۔

 

مقتولہ صبیحہ کا تعلق تاج حضرو اٹک سے تھا، ان کے والد خیر علی نے پولیس کو بتایا کہ ان کی بیٹی کی2016  میں علی رضا نامی شخص سے شادی ہوئی تھی، ایک سال بعد گھریلو تنازعہ کے بعد میاں بیوی میں طلاق ہو گئی اور ان کی طلاق کو ایک سال ہو گیا تھا، مقتولہ صبیحہ کا ایک بیٹا بھی ہے، چھ ماہ قبل گھر سے غائب ہوئی جس پر متعلقہ تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی پھر سوشل میڈیا پر اپنی بیٹی کی تصویر دیکھ کر معلوم ہوا کہ میری بیٹی کو کسی نے قتل کر دیا ہے، ہماری کسی سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے۔

 

اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ عورت فاونڈیشن کی رپورٹ ''عالمی وبا کورونا کے دوران خواتین اور بچیوں پر تشدد'' میں بتایا گیا کہ2020  میں پاکستان میں دو ہزار دو سو ستانوے خواتین تشدد کا نشانہ بنیں جن میں چھ سو چوبیس کو قتل کیا گیا۔ ان واقعات میں بیشتر خواتین غیرت کے نام پر قتل کی گئیں جبکہ کئی خواتین خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوئیں۔

 

عالمی وبا کورونا کے ایک سال کے دوران خیبر پختونخوا میں تشدد کی وجہ سے ایک سو چوبیس خواتین اور بچیاں قتل کی گئیں جبکہ پنجاب میں تین سو دو، سندھ میں ایک سو تیرا، بلوچستان میں انیس اور گلگت بلتستان میں66  خواتین تشدد کر کے قتل کر دی گئیں۔

 

رپورٹ کے مطابق 2020 میں پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور ہری پور میں عالمی وبا کے دوران مجموعی طور پر خواتین پر تشدد کے193  واقعات رپورٹ ہوئے،20  خواتین غیرت کے نام پر قتل کی گئیں،35  خواتین خودکشی جبکہ68  دیگر وجوہات کی بنا پر قتل ہوئیں۔ اسی طرح34  خواتین کو جنسی زیادتی جبکہ17  خواتین کے اغوا اور ایک خاتون تیزاب گردی کا شکار رہی۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ 2020 کے دوران پشاور میں خواتین پر تشدد کے64  واقعات رونما ہوئے جن میں گیارہ خواتین کی خودکشیاں، آٹھ خواتین غیرت کے نام پر قتل اور30  خواتین دیگر وجوہات کی بنا پر قتل ہوئیں۔

 

اسی سال پشاور میں دو لڑکیوں کے ساتھ اجتماعی زیادتی بھی ہوئی جبکہ دس خواتین کے اغوا کے مقدمات بھی درج ہوئے۔ اسی طرح مردان میں عالمی وباء کورونا کے دوران مجموعی طور پر26  خواتین تشدد کا نشانہ بنیں جن میں13  عورتیں تشدد کے بعد قتل کی گئیں اور پانچ غیرت کے نام پر قتل ہوئیں جبکہ چار خواتین نے خود کشیاں کیں اور دو اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ مردان میں ایک خاتون کے اغوا کا مقدمہ بھی درج ہوا۔ چارسدہ میں سات خواتین خود کشیاں کرنے پر مجبورہوئیں اور چار غیرت کے نام پر جبکہ تین خواتین دیگر وجوہات کی بنا پر قتل کی گئیں، تین خواتین جنسی زیادتی کا نشانہ بنیں، تین خواتین اغوا بھی ہوئیں۔ اسی طرح نوشہرہ میں چھ خواتین قتل مقاتلے کا نشانہ بنیں، تین غیرت کے نام پر جبکہ چھ نے خودکشی کی۔ نوشہرہ میں آٹھ خواتین جنسی زیادتی اور دو کے اغوا کے مقدمات درج ہوئے۔ اسی طرح ہری پور میں سولہ خواتین قتل مقاتلے کا نشانہ بنیں، انیس جنسی زیادتی، سات نے خودکشی اور ایک خاتون اغوا بھی ہوئی۔

 

رپورٹ میں عالمی وبا کورونا کے وقت خواتین اور بچیوں پر تشدد کے واقعات کی روداد میں ایک واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ کیسے ہمارے معاشرے میں بچیاں غیرمحفوظ ہیں اور وہ مختلف تکالیف سے گزرتی ہیں اور بالآخر ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ واقعہ کی تفصیلات میں بتایا گیا کہ لوئر دیر کے علاقہ میدان کی12  سالہ مقتولہ مسماة ن اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ رہائش پذیر تھی اور ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد9  جولائی2020  کو اس کی شادی علاقہ میں ایک نوجوان کے ساتھ کر دی گئی تاہم مسماة ن شادی کے چند دن بعد بیمار ہوئی اور تیمرگرہ کے ہسپتال میں زیر علاج رہی۔ مسلسل علاج معالجے کے باوجود اس کی صحت دن بدن بگڑتی گئی تو اس کے شوہر اور سسرال والوں نے بچی کو بیماری کی حالت میں اپنی سوتیلی ماں کے گھر بھیج دیا جہاں11  جولائی2020  کو اس کی پراسرار موت واقع ہوئی۔

 

ان کی موت کے بعد بچی کے قتل کا مقدمہ لعل قلعہ میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر ہونے کے بعد21  جولائی کو پوسٹ مارٹم آنے کے بعد مقامی پولیس نے بتایا کہ ڈاکٹروں کے مطابق بچی طعبی موت مری ہے تاہم ایف آئی آر میں پولیس نے بچی کی کم عمری کی شادی کی غرض سے نوعمر بچیوں کی شادی پر پابندی ایکٹ کے تحت دائر درخواست پرگرفتاریاں عمل میں لائیں۔ لیکن بچی کے کیس کو دیر لوئر کی ایک مقامی غیرسرکاری تنظیم نے آگے بڑھاتے ہوئے دعوی کیا کہ مقدمہ کے اندارج میں پولیس نے غلط بیانی سے کام لیا ہے اور الزام لگایا کہ بچی کی طعبی موت نہیں بلکہ سوتیلی ماں کے تشدد کی وجہ سے ہوئی ہے اور کہا کہ پولیس نے پوسٹ مارٹم رپورٹ سے پیشگی مقدمہ درج کر کے بچی پر تشدد کا تذکرہ رپورٹ میں نہیں کیا۔

 

عورت فاؤنڈیشن کی ریذڈنٹ ڈائریکٹر شبینہ آیاز کے مطابق صرف گھروں میں موجود خواتین نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے ہر شعبہ میں موجود خواتین کو مختلف چلینجز درپیش ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خواتین کو معاشی اور معاشرتی مشکلات کے ساتھ ساتھ کئی ایشو کا سامنا ہے، طے شدہ قوانین پر عمل درآمد کے لئے جہاں کمیٹاں پہلے سے موجود ہیں وہاں جب ان کے پاس خواتین کی ہراسمینٹ یا دیگر ایشوز کے متعلق کیسز جاتے ہیں تو کمیٹیوں میں موجود لوگ خواتین کو درپیش چلینجز سے آگاہ ہی نہیں ہوتے، اکثر جگہوں پر ہم نے دیکھا ہے کہ جب کوئی خاتون اپنے تحفظ کے متعلق کوئی شکایت کرتی ہے تو متعلقہ شبعہ میں موجود حکام کوشش کرتے ہیں کہ وہ متاثرہ عورت کی مدد کے بجائے اپنے ساتھی کو بچا سکیں اور جو متاثرہ خاتون ہوتی ہے ظاہر ہے وہ ان مشکلات کو برداشت کرتی رہتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ انصاف نہ ملنے کی صورت میں خاموشی اختیار کرنے سے ایک کے بعد دوسرا اور تیسرا واقعہ رونما ہوتا چلا جاتا ہے۔

 

انہوں نے تجویز دی کہ صوبائی محستب ادارے کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے اور اس کا دائرہ کار بڑھا کر صوبے کے تمام اضلاع تک وسعت دینی چاہیے کیونکہ ہراسمنٹ کے واقعات صرف پشاور تک محدود نہیں یہ واقعات آئے روز مختلف اضلاع سے رپورٹ ہو تے رہتے ہیں، ایسے واقعات میں خواتین کو خود پر اعتماد بڑھانے کی ضرورت ہے اگر کوئی عورت کسی بھی قسم کی ہراسمنٹ کا سامنا کر رہی ہو تو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھائے اس بات کی پرواہ کیے بغیر کہ اس کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ چپ ہونے سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ مسائل کے خلاف آواز اٹھانے سے ان کا حل ممکن ہے۔