کورونا اور مہنگائی کا ایکا اور غریب عوام

کورونا اور مہنگائی کا ایکا اور غریب عوام

کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے نتیجے میں حفاظتی اقدامات کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے صوبہ خیبر پختونخوا کے کئی علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے ان علاقوں میں آمدورفت کا سلسلہ محدود کر دیا گیا ہے، حکومتی فیصلے کا مقصد کورونا کے مزید پھیلاؤ کو روکنا ہے، سمارٹ لاک ڈاؤن کیلئے ابتدائی طور پر ان علاقوں کو منتخب کیا گیا ہے جہاں کیسز زیادہ رپورٹ ہونے لگے ہیں اس لئے مزید پھیلاؤ کے روکنے کیلئے اقدام اٹھایا گیا ہے۔ ان علاقوں میں صرف ضروری وجوہات کی بنا پر ہی آمدورفت ہو سکے گی جبکہ دوسری جانب مساجد میں بھی اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

 

اعلامیہ کے مطابق صرف 5 افراد ہی باجماعت نماز کی ادائیگی کر سکیں گے، ضلعی انتظامیہ کی جانب سے افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ خلاف ورزی کرنے والوں کیخلاف سخت ایکشن  لیا جائے تاکہ کسی بھی طرح وبا کے خطرناک حد تک پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ خیبر پختونخوا میں کورونا کیسز کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جس کے تدارک کیلئے حکومتی مشینری حرکت میں آ گئی ہے، کورونا کے باعث لاک ڈاؤن کا فیصلہ درست لیکن یہاں چند ایک سوالات جنم لیتے ہیں، اول تو یہ کہ جن علاقوں میں شمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے ان میں رہنے والے متوسط اور نچلے طبقے کیلئے ہونے والے اقدامات کا بھی اظہار ہونا چاہئے کیونکہ گزشتہ لاک ڈاؤن سے پیدا ہونے والی صورتحال کے آفٹر شاکس اب بھی محسوس ہو رہے ہیں، ایسے میں مہنگائی کی شرح الگ سے مسائل پیدا کر رہی ہے، حکومت کو اس جانب بھی توجہ دینا ہو گی کہ آیا وہ لوگ جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ان کیلئے دانا پانی کا کیا بندوبست ہے، حالیہ منی بجٹ کے باعث ادویات بھی مہنگی ہو گئی ہیں جن کی قیمتوں میں 10روپے سے 350 روپے تک اضافہ ہو گیا ہے، پہلے ہی مسائل کا شکار عوام کو کورونا کے پیش نظر لاک ڈاؤن اور علاج معالجہ کیلئے مستعمل ادویات کی قیمتوں میں اضافہ نے مزید پریشان کر رکھا ہے۔ حکومت کو اس جانب توجہ دیتے ہوئے لائحہ عمل ترتیب دینا ہو گا۔

 

ایسے میں ہسپتال لائے جانے والے مریض جن کی حالت تشویش ناک ہوتی ہے ان کیلئے جان بچانے والی ادویات سمیت مختلف آپریشنوں میں استعمال ہونے والے آلات کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، اوپر سے اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ناقابل برداشت ہے۔ بجلی اور گھی دال کی قیمتیں بھی آسمان کو پہنچ گئی ہیں، ان حالات میں وہ لوگ زیادہ متاثر ہوں گے جو دیہاڑی دار ہیں، جن کی دن بھر کی آمدن چند سو تک محدود ہے وہ بجلی بل اور دیگر یوٹیلٹیز کہاں سے پوری کریں گے ساتھ میں ایس او پیز کی مد میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگ جانے سے ان کی مزدوری بھی چھین لی گئی ہے، حکومت کو چاہئے کہ ان کے گھریلو اخراجات پوری کرنے کیلئے اقدامات اٹھانے کے ساتھ ساتھ انہیں مفت طبی امداد بھی مہیا کی جائے تاکہ ان کو بھی احساس دلایا جا سکے کہ حکومت ان سے غافل نہیں لیکن اگر اس کے خلاف اقدامات اٹھائے گئے یا انہیں نظر انداز کیا گیا تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔ کورونا حقیقتاً ایک خطرناک بیماری ہے جو وبا کی صورت اختیار کر گئی ہے لیکن اس کے تدارک کیلئے گھر گھر ویکسی نیشن لازمی ہے تو ٹھیک اسی طرح گھر گھر راشن پہنچانا بھی انتہائی ضروری بلکہ ناگزیر ہے۔