انتہاپسندی کے اسباب اور سدباب

انتہاپسندی کے اسباب اور سدباب

                                                           ماہ نور خان


یہ بغض ہم نے جو سینوں میں پال رکھا ہے
اسی نے سب کو مصیبت میں ڈال رکھا ہے


انتہاپسندی کو انگریزی زبان میںextremism  اور عربی میں التطرف کہا جاتا ہے یعنی غیرمعتدل۔ مفکرین کے نزدیک کسی بھی مسئلے میں اپنی ذاتی رائے کو حتمی سمجھنا اور حرف آخر قرار دینا، اسی کو حق سمجھنا، اس کو منوانے کے لیے تشدد کا راستہ اختیار کرنا اور کسی دوسرے کی رائے کو قبول نہ کرنا انتہاپسندی کہلاتا ہے۔ انتہاپسندی بنیادی طور پر ایک انسانی رویہ یا ذہنی رجحان ہے۔ ہر وہ شخص یا گروہ جو طاقت کے ذریعے اپنے خیال یا ایجنڈے کی زبردستی لوگوں میں بڑھاوا دینا چاہتا ہے وہ انتہاپسند ہے۔ قطع نظر اس بات سے کہ اس کا خیال یا ایجنڈا کیا ہے؟ انتہاپسندی ایک معاشرتی ناسور ہے جو معاشرے کی اخلاقی اقدار اور امن و سکون کو غارت کر دیتا ہے۔ یہ دنیا مسائل کا گڑھ ہے، یہاں بے شمار مسائل رونما ہوتے، پروان چڑھتے اور پھر اپنی موت آپ مر جاتے ہیں۔ جدید دور میں بھی چند مسائل ایسے ہیں آج کی ساری دنیا عموماً اور اسلامی ممالک خصوصاً جن کی لپیٹ میں ہیں۔ ان میں سے ایک بڑا مسئلہ جس کی آتش زدگی سے بننے والا دھواں تقریباً پوری دنیا کو سیاہ کر رہا ہے وہ مسئلہ ہے انتہاپسندی۔ انتہاپسند عناصر نے اپنے کردار کی سیاہی سے صفحہ عالم پر خون کی جو سرخی پھیلائی ہے ہفت اقلیم اس کی دسیسہ کاریوں سے حیران و پریشان ہے۔ کسی بھی معاشرے میں انتہاپسندی کے بڑھنے کی کئی ایک وجوہات ہو سکتی ہیں۔ انتہاپسندی کے اسباب اور اس کا حل تلاش کرنے سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہو گا کہ انتہاپسندی کیا چیز ہے؟ یہ کیسے پیدا ہوتی ہے؟ کیوں کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس نے سماج میں سچائی تک پہنچنے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں۔ انتہا پسندی کی دو بنیادی وجوہات ہیں: ایک اعتقادی جسے مذہبی انتہاپسندی بھی کہا جاتا ہے اور دوسری عملی جسے سیاسی یا قومی انتہاپسندی بھی کہا جاتا ہے۔ معاشرے میں انتہاپسندی کو فروغ دینے میں سب سے بڑا کردار دگرگوں معاشی صورتحال کا ہے۔ جس ملک کے28  فیصد عوام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہوں، وہاں والدین اپنے بچوں کو اعلی تعلیم حاصل کروانے کے لئے کیسے بھیج سکتے ہیں۔ انتہاپسندی کی ایک اہم وجہ غیرفطری اور غیرشرعی سیاسی گروہ بندیاں ہیں جس کے بعد مسلمان کی محبت اور نفرت سیاسی وابستگی پر محیط ہو گئی ہے۔ مذہبی انتہاپسندی کے فروغ میں مذہبی منافرت نے نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ فرقہ وارانہ فسادات کی بدولت ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔ مسلکی اختلافات دنیا کے تمام مذاہب اور معاشروں میں پائے جاتے ہیں لیکن مسلک کے حوالے سے جو شدت ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے شاید ہی کہیں اور ہو۔ انتہاپسندی درحقیقت قرآن و سنت سے انحراف ہے اور قرآن و سنت کی من مانی تعبیر و تفسیر اس انتہاپسندی میں اضافے کا سبب ہے۔ اسی طرح سے جہالت انتہاپسندی ہی نہیں بلکہ تمام خرافات اور انحرافات کی جڑ ہے۔ انسان میں انتہاپسندی لاعلمی اور جہالت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ الغرض ان چند بنیادی اسباب کے علاوہ بھی کئی دوسرے اسباب ہیں جو سماج میں ناسور کی شکل اختیار کر چکے ہیں لہذا ضروری ہے کہ انتہاپسندی کے اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور اس کا حل تلاش کر کے سدباب کیا جائے تاکہ ملک و ملت اور دین و مذہب انتہاپسندی کے شر سے محفوظ ہو کر اعتدال کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے


خدا کے نام پہ اپنا مفاد چاہتے ہو
تم اپنے جھوٹے قصیدوں پہ داد چاہتے ہو
خدا سے پوچھو کسی روز استخارہ کرو
تم اِس زمین پہ کتنا فساد چاہتے ہو


انتہاپسندی کو بڑھاوا دینے میں ایک اور انتہائی اہم کردار مذہبی اور مسلکی منافرت کا بھی ہے۔ دنیا کے ہر مذہب اور ہر قوم میں مسالک پائے جاتے ہیں مگر جو شدت پسندی ہمارے ہاں موجود ہے وہ دنیا کے کسی خطے میں موجود نہیں ہے۔ ہمارے ہاں چھوٹے چھوٹے اختلافات کو بنیاد بنا کر قتل وغارت کا وہ بازار گرم کر دیا جاتا ہے کہ جس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ مغربی دنیا 2 عظیم جنگیں لڑنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ جنگ اور اختلافات کسی مسئلے کا حل نہیں ہیں بلکہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر بڑے سے بڑا مسئلہ حل کیا جا سکتا ہے مگر ہم ابھی تک انہی گھسے پٹے اختلافات میں الجھ کر اپنا اور قوم کا نہ صرف وقت ضائع کر رہے ہیں بلکہ انتہاپسندی کے فروغ میں پیش پیش ہیں۔ ہمارے حکمران اور ریاست گزشتہ کئی دہائیوں سے بہت جارحانہ رہے ہیں۔ اس تعلیمی پالیسی کے زیرِ اثر تیار ہونے والی نسل کو وہ بطور ایندھن استعمال کرتے رہے۔ یوں پاکستان میں شدت پسندی کی فصل پکتی رہی اور اس سے وابستہ عناصر کو بڑھاوا ملتا رہا۔ تنگ نظری، اپنے مذہبی حریفوں سے نفرت، عدم برداشت اور جارحیت ہمارے مزاج کا حصہ بنتی رہی اور ہم دنیا سے کٹتے کٹتے اپنے خول میں بند ہوتے چلے گئے۔ آج بھی پاکستان کا نظامِ تعلیم ایسا کوئی کردار ادا کرنے میں ناکام ہے جس سے عوام میں واقعی سماجی شعور اور انسانی رویے فروغ پا سکیں اور ہم تعصبات کی تنہائی سے نکل کر عالمگیر معاشرے کا باوقار حصہ بن سکیں۔ آج بھی ہمارا نصابِ تعلیم رواداری، انسان دوستی اور مسلمہ انسانی اقدار پر خاموش ہے اور ہم خطے میں امن، سلامتی اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے میں بری طرح ناکام ہیں۔ آج بھی ہمارے نصاب کے مضامین اپنی کمزوریوں کو زیر بحث لانے کے بجائے غیرضروری مواد سے اٹے پڑے ہیں۔ رشوت ستانی اور میرٹ کا قتل عام ناانصافی کی مثالیں ہیں، جو انتہاپسندی کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کی وجہ سے افراد مایوسی کے سمندر میں ڈوب جاتے ہیں، جب لوگوں کو اپنے حقوق بھی میرٹ پر نہ ملیں تو پھر لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ کسی انتہاپسند گروپ کی وساطت سے اپنی محرومیوں کا ازالہ کریں۔ ہمارے سماجی قدروں کے مختلف درجے ہیں، جو کہ متوازن معاشرے کے ڈھانچے سے مناسبت نہیں رکھتے۔ معاشرے میں وڈیروں، جاگیرداروں اور امرا کے طبقے کو نہایت عزت سے دیکھا جاتا ہے۔ انتہاپسندی کسی مخصوص طبقے تک محدود نہیں، بلکہ معاشرے کے تمام طبقات میں در آئی ہے۔ ملک کی ایک اہم سیاسی جماعت سے قلم کاروں کی اکثریت کو شکوہ ہے کہ اس کے کارکنان ذرا سے اختلاف رائے کو بھی برداشت نہیں کرتے اور اپنے نقطہ نظر سے اختلاف کرنے والوں پر مغلظات کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں۔ اس سیاسی جماعت کا دعوی ہے کہ ملک کے نوجوانوں کی اکثریت اس کی حامی ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو ہمارے نوجوان تہذیب کے دائرے سے کیوں نکل ر ہے ہیں؟ درحقیقت یہی وہ فرسٹریشن ہے جس نے معاشرے کی اکثریت کو اپنا شکار بنا رکھا ہے۔ چونکہ نوجوانوں کی اکثریت استحصال کا شکار ہے اور جب کسی نے انہیں تبدیلی کا خواب دکھایا اور اس خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لئے ان کی قوت کو بروئے کار لانا چاہا تو اس قوت کے احساس نے ان نوجوانوں کو بھی فاشزم کی جانب دھکیل دیا۔ اگر ہم اپنے معاشرے سے انتہاپسندی اور شدت پسندی کو جڑ سے اکھاڑنا چاہتے ہیں تو اس کے لئے ہمیں ترجیحی بنیادوں پر کچھ اقدامات کرنا ہوں گے۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام اور نصاب کو ازسر نو مرتب کرنا ہو گا، اس میں ایسے اسباق اور ابواب شامل کرنا ہوں گے جن سے انتہاپسندی کے خاتمے میں معاونت مل سکے۔ اس کے علاوہ ہمیں اپنے دینی مدارس میں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ وہاں کسی قسم کی انتہاپسندی اور شدت پسندی کی تعلیم نہ دی جا سکے بلکہ اسلام کے امن اور رواداری کے پیغام کو عام کیا جائے۔ ہمیں بطور مجموعی اپنے رویوں میں برداشت اور تحمل کا مادہ پیدا کرنا ہو گا تا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر جنم لینے والے جھگڑے اور نفرتیں خود بخود ہی ختم ہوجائیں اور اس بڑھتی ہوئی شدت پسندی کو لگام دی جا سکے۔ اگر ہم واقعی انتہاپسندی کے خاتمے میں سنجیدہ ہیں تو ہمیں یہ تمام تر اقدامات فوری بنیادوں پر کرنے ہوں گے تاکہ ہم صحیح معنوں میں ایک پرامن اور روادار معاشرہ تخلیق کر سکیں۔