مرغی دے سکتے ہو؟

مرغی دے سکتے ہو؟

                                                            آئی یو عارف
پاکستانی عدالت عظمی میں اس وقت پچاس ہزار سے زیادہ کیسز زیر التوا ہیں۔ کچھ کیسز تو دہائیوں سے تصفیہ طلب ہیں۔ اکتوبر 2021 میں ورلڈ جسٹس پراجیکٹ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستانی عدالتوں کا عالمی رینکنگ139  میں سے130 واں نمبر ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق نیپال اور سری لنکا کی عدالتیں بھی انصاف مہیا کرنے میں پاکستانی عدالتوں سے بہتر ہیں۔ برعکس اس کے پاکستان میں اعلی عدالتوں کے محترم ججز کو مراعات کتنی ملتی ہیں اس کا حساب کم از کم مجھ جیسا حساب کتاب میں نالائق بندہ نہیں کر سکتا۔ میں قطعاً یہ نہیں کہہ رہا کہ پاکستان میں انصاف بالکل عنقا ہے یا منصفین کی کریڈیبیلٹی پر کوئی سوال ہے۔ لیکن زبان زد عام جو قصے کہانیاں ہیں وہ سب کے سب غلط تو بھی نہیں ہو سکتے۔ گزشتہ کچھ سالوں میں کچھ سیاسی مقدمات میں جو فیصلے ہوئے ان کے بارے مبینہ طور پر یہ تاثر ابھرا ہے کہ یہ منیجڈ ہیں، عوامی یا سوشل میڈیائی دباو کے زیراثر کئے گئے ہیں؟ اس حوالے سے سوشل میڈیا پر مختلف بنچز بارے جو کچھ کہا گیا وہ آپ کے سامنے ہے۔ بہرحال عدالتی نظام کے حوالے سے ایک کہانی آج کی نشست میں پیش کی جا رہی ہے مگر اس کو کسی ملک کے عدالتی نظام پر چسپاں کرنا قطعی طور پر آپ کا اپنا فیصلہ ہو گا۔ راقم اس کو صرف کہانی ہی سمجھ رہا ہے۔ ایک شخص ذبح کی ہوئی مرغی لے کر مرغ فروش کی دکان پر گیا اور کہا کہ بھائی ذرہ اس مرغی کو کاٹ کر دے دو۔ مرغی فروش نے کہا مرغی رکھو اور آدھ گھنٹے بعد آ کر لے جانا۔ اتفاق سے شہر کا قاضی مرغی فروش کی دکان کے سامنے سے گزرا اور دکاندار سے کہا: یہ مرغی مجھے دے دو۔ دکاندار نے کہا کہ یہ مرغی میری نہیں، بلکہ کسی اور کی ہے اور میرے پاس بھی کوئی اور مرغی نہیں ہے۔ قاضی نے کہا کہ کوئی بات نہیں۔ یہ مرغی مجھے دے دو اور مالک آئے تو کہنا کہ مرغی اڑ گئی ہے۔ دکاندار نے کہا کہ ایسا کہنے کا بھلا کیا فائدہ ہو گا؟ مرغی تو اس نے خود ذبح کر کے مجھے دی تھی، پھر ذبح کی ہوئی مرغی بھلا کیسے اڑ سکتی ہے۔ قاضی نے کہا میں جو کہتا ہوں، اسے غور سے سنو۔ بس یہ مرغی مجھے دے دو اور اس کے مالک سے یہی کہو کہ مرغی اڑ گئی ہے۔ وہ زیادہ سے زیادہ تمہارے خلاف مقدمہ لے کر میرے پاس آئے گا۔ دکاندار نے کہا کہ اللہ سب کا پردہ رکھے اور مرغی قاضی کو پکڑا دی۔ قاضی مرغی لے کر چلا گیا تو مالک بھی آ گیا اور دکاندار سے کہا کہ مرغی کاٹ دی ہے؟ دکاندار نے کہا میں نے تو کاٹ دی تھی، مگر آپ کی مرغی اڑ گئی ہے۔ مرغی والے نے حیران ہو کر پوچھا بھلا وہ کیسے؟ میں نے خود ذبح کی تھی، اڑ کیسے گئی؟ دونوں میں پہلے نوک جھونک شروع ہوئی پھر بات جھگڑے تک جا پہنچی، جس پر مرغی والے نے کہا کہ چلو عدالت میں قاضی کے پاس چلتے ہیں۔ دونوں نے عدالت جاتے ہوئے راستے میں دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک مسلمان ہے ،جبکہ دوسرا یہودی۔ چھڑانے کی کوشش میں دکاندار کی انگلی یہودی کی آنکھ میں لگی اور اس کی آنکھ ضائع ہو گئی۔ لوگوں نے دکاندار کو پکڑ لیا اور کہا کہ عدالت لے کر جائیں گے۔ دکاندار پر دو مقدمے بن گئے۔ لوگ مرغی فروش کو لے کر جب عدالت کے قریب پہنچ گئے تو مرغی فروش اپنے آپ کو چھڑا کر بھاگنے میں کامیاب ہو گیا، مگر لوگوں کے پیچھا کرنے پر قریبی مسجد میں داخل ہو کر مینار پر چڑھ گیا۔ لوگ جب اس کو پکڑنے کے لئے مینار پر چڑھنے لگے تو اس نے چھلانگ لگائی تو وہ ایک بوڑھے آدمی پر گر گیا، جس سے وہ بوڑھا آدمی مر گیا۔ اب اس بوڑھے کے بیٹے نے بھی لوگوں کے ساتھ مل کر اس کو پکڑ لیا اور سب اس کو لے کر قاضی کے پاس پہنچ گئے۔ قاضی مرغی فروش کو دیکھ کر ہنس پڑا، کیونکہ اس کو مرغی یاد آ گئی، مگر باقی دو کیسوں کا اس کو علم نہیں تھا۔ جب قاضی کو تینوں کیسوں کے بارے میں بتایا گیا تو اس نے سر پکڑ لیا۔ اس کے بعد چند کتابوں کو الٹا پلٹا اور کہا کہ ہم تینوں مقدمات کا یکے بعد دیگر ے فیصلہ سناتے ہیں۔ سب سے پہلے مرغی کے مالک کو بلایا گیا۔ قاضی نے پوچھا تمہارا دکاندار پر دعوی کیا ہے۔ مرغی والا بولا: جناب والا اس نے میری مرغی چرائی ہے، کیونکہ میں نے ذبح کر کے اس کو دی تھی، یہ کہتا ہے کہ مرغی اڑ گئی ہے۔ قاضی صاحب مردہ مرغی کیسے اڑ سکتی ہے؟ قاضی: کیا تم اللہ اور اس کی قدرت پر ایمان رکھتے ہو؟ مرغی والا: جی ہاں کیوں نہیں۔ قاضی صاحب: کیا اللہ تعالی بوسیدہ ہڈیوں کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے۔ تمہاری مرغی کا زندہ ہو کر اڑنا بھلا کیا مشکل کام ہے۔ یہ سن کر مرغی والا خاموش ہو گیا اور اپنا کیس واپسی لے لیا۔ قاضی: دوسرے مدعی کو بلاؤ۔ یہودی کو پیش کیا گیا تو اس نے عرض کیا کہ قاضی صاحب اس نے میری آنکھ میں انگلی ماری ہے جس سے میری آنکھ ضائع ہو گئی۔ میں بھی اس کی آنکھ میں انگلی مار کر اس کی آنکھ ضائع کرنا چاہتا ہوں۔ قاضی نے تھوڑی دیر سوچ کر کہا۔ مسلمان پر غیرمسلم کی دیت نصف ہے، اس لئے پہلے یہ مسلمان تمہاری دوسری آنکھ بھی پھوڑے گا، اس کے بعد تم اس کی ایک آنکھ پھوڑ دینا۔ یہ سن کر یہودی پیچھے ہو گیا۔ قاضی: تیسرا مقدمہ پیش کیا جائے۔ مرنے والے بوڑھے کا بیٹا آگے بڑھا اور عرض کیا کہ قاضی صاحب اس نے میرے باپ پر چھلانگ لگائی، جس سے وہ مر گیا۔ قاضی تھوڑی دیرسوچنے کے بعد بولا۔ ایسا کرو کہ تم لوگ اس مینار کے پاس جاؤ اور مدعی بھی اس مینار پر چڑھ کر اس مرغی فروش پر اس طرح چھلانگ لگائے جس طرح مرغی فروش نے اس کے باپ پر چھلانگ لگائی تھی۔ نوجوان نے کہا قاضی صاحب اگر یہ دائیں بائیں ہو گیا تو میں زمین پر گر کر مر جاؤں گا۔ قاضی نے کہا یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔ میرا کام عدل کرنا ہے۔ تمہارا باپ دائیں بائیں کیوں نہیں ہوا؟ مدعی نے اپنا دعوی واپس لے لیا۔ نتیجہ: اگر آپ کے پاس قاضی کو دینے کے لئے مرغی ہے تو پھر قاضی بھی آپ کو بچانے کے لئے ہر ہنر جانتا ہے۔ ویسے اس کہانی کا نتیجہ آپ کے ذہن میں جو بھی بن رہا ہے بس وہی ٹھیک ہے۔ مجھے توبس یہ کہانی حالات کے مطابق معلوم ہوئی تو سوچا آپ کو بھی سناؤں کیا پتہ کسی کا کچھ فائدہ ہو جائے۔