بگرام ایئر بیس، ''امریکی شکست'' اور افغانوں کا خون

بگرام ایئر بیس، ''امریکی شکست'' اور افغانوں کا خون

تحریر: مولانا خانزیب

دوحہ امن معاہدے کے بعد یہ توقع ہو چلی تھی کہ ماضی کے تجربات سے گریز کیا جائے گا اور پرامن انتقالِ اقتدار کیلئے مستقبل کے حوالے سے متحارب گروپ بین الافغانی مذاکرات کو کامیاب بنائیں گے اور چالیس سال سے جاری خون ریزی کا خاتمہ ہو سکے گا مگر بدقسمتی سے دوحہ امن معاہدے پر عملدرآمد کے باوجود نہ تو طالبان کی طرف سے فائر بندی کی گئی اور نہ ہی ان کے بقول تشدد میں کمی لائی گئی بلکہ برسرِ زمین حقائق یہ ہیں کہ پانچ ہزار قیدیوں کی رہائی اور بیس سالہ جنگ کے جواز غیرملکی افواج کا انخلا شروع ہونے کے باوجود حالات شدید خون ریزی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ایسے لگ رہا ہے کہ عالمی قوتیں بشمول امریکہ، روس، چین اور افغانستان کے پڑوسی امن کے دیرپا قیام میں مخلص نہیں ہیں اور وہ کوئی جاندار کردار ادا کرنے کے بجائے صرف تماشا کر رہے ہیں یا حالات کے بدامنی کی جانب جانے پر راضی ہیں۔ سرد جنگ کے زمانے میں امریکہ نے اس وقت کی سوویت یونین سے اپنا بدلہ افغانستان میں لیا جبکہ نائن الیون کے بعد وہ موقع روس کے ہاتھ آیا جس کا وہ منتظر تھا۔ امریکہ افغانستان سے حالت جنگ میں نکل رہا ہے اور افغان مسئلے کے کسی دیرپا حل کے بجائے اس طرح کے نکلنے کو ماہرین امریکہ کی شکست اور پسپائی سے تعبیر کر رہے ہیں مگر ایک بات یاد رکھنے کی ہے اور وہ کہ سوویت یونین کے انخلا کے بعد وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا مگر افغانستان سے امریکہ کا نکلنا ان کیلئے عالمی سطح پر کسی قسم کے مشکلات اور مسائل پیدا کرنے کا باعث نہیں بن رہا بلکہ اس انخلا کا براہِ راست اثر افغانستان پر پڑے گا جہاں شورش میں اضافہ ہو گا اور دونوں جانب بڑے پیمانے پر افغانوں کا خون ہو گا۔ میرے خیال میں طالبان سمیت تمام داخلی قوتوں کو اس بات کا ادراک کرنا چاہیے کہ جنگ اور تشدد سے کوئی بھی دیرپا حل نہیں نکلے گا تو بہتر اور مناسب یہی ہو گا کہ وہ افغانیت کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے مل بیٹھ کر حل نکالیں۔ افغانستان میں تقریباً20  برس بعد امریکی فوج بگرام کے فضائی اڈے سے کوچ کر گئی۔ یہ فوجی اڈہ طالبان کی حکومت گرانے اور القاعدہ تنظیم کے ارکان کے تعاقب کے حوالے سے امریکا کے لیے مرکزی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ امریکی ذمے داران کے مطابق افغانستان میں امریکا کے کمانڈر انچیف جنرل اوسٹن ملر بقیہ فورسز کے تحفظ کے لیے اب بھی تمام صلاحیتیں اور اخیارات رکھتے ہیں۔ یہ انخلا اس بات کا واضح ترین اشارہ ہے کہ افغانستان سے آخری امریکی فوجی کے کوچ کا وقت قریب ہے۔ اس ایئر فیلڈ کو سوویت یونین نے سنہ1950  میں تعمیر کیا تھا، جو1980  کی دہائی میں روس کا مرکزی اڈہ بن گیا تھا، جب اس نے افغانستان پر اپنا قبضہ مستحکم کیا اور اس کے دفاع کا آغاز کیا۔ سنہ2001  میں جب امریکہ نے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کیا تو امریکہ کو یہ اڈہ وراثت میں ملا تھا۔ اس وقت بگرام کھنڈرات کی صورت اختیار کر چکا تھا، لیکن امریکیوں نے اس اڈے کو دوبارہ تعمیر کیا اور یہ بالآخر پھیلتا ہوا30  مربع میل (77 مربع کلومیٹر) تک پہنچ گیا۔ اس اڈے پر دو رن وے موجود ہیں، نیا والا رن وے دو میل سے زیادہ لمبا ہے، جہاں بڑے کارگو اور بمبار طیارے اتر سکتے ہیں۔ ایک موقع پر اس اڈے پر تیراکی کے تالاب، سینما گھر اور گرم حمام اور یہاں تک کہ برگر کنگ اور پیزا ہٹ جیسے فاسٹ فوڈ آٹ لیٹس بھی موجود رہے ہیں۔ امریکہ نے بدحواسی کے عالم میں بگرام ایئر بیس کو خالی کیا یہاں تک افغان ملی ارود کو بھی متعین وقت کے بارے میں نہیں بتایا گیا، اڈہ کو خالی دیکھ کر لوگوں نے کئی گھنٹوں تک لوٹ مار بھی کی اور کئی گھنٹے بعد افغان سیکورٹی فورسز کے آنے کے بعد لوٹ مار کرنے والے وہاں سے نکل گئے۔ رواں سال اپریل کے وسط میں اعلان کیا گیا تھا کہ امریکا اپنی دائمی جنگ کو ختم کر کے امریک فوجی اور نیٹو میں اس کے اتحادیوں کو واپس بلائے گا۔ ان اہل کاروں کی تعداد تقریباً7000  ہے۔ امریکا نے سیکورٹی اندیشوں کے سبب افغانسان میں موجود اپنے آخری فوجی کے کوچ کا وقت متعین کرنے سے گریز کیا۔ تاہم کابل میں حامد کرزئی بین الاقوامی ہوائی اڈے کی حفاظت کے سلسلے میں مذاکرات جاری ہیں۔ اس وقت ترک اور امریکی اہل کار مذکورہ ہوائی اڈے کی سیکورٹی سنبھالے ہوئے ہیں۔ ہوائی اڈے کے تحفظ کے لیے ترکی اور افغان حکومت کے درمیان نئے سمجھوتے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ کابل میں امریکی سفارت خانے کی سیکورٹی کے لیے تقریباً650  امریکی فوجی ہوں گے۔ ایک زمانے میں بگرام کے فضائی اڈے پر ایک لاکھ سے زیادہ امریکی فوجیوں کو گزرتے ہوئے دیکھا گیا۔ بگرام کا فضائی اڈہ افغان دارالحکومت کابل کے شمال میں گاڑی کے ذریعے ایک گھنٹے کی دوری پر واقع ہے۔