باچا خان پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں

 باچا خان پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں

تحریر: مولانا خانزیب

ذیل میں باچا خان کی کراچی میں پاکستان کی پہلی قانون ساز اسمبلی میں کی گئی اس تقریر کو حرف بہ حرف شریک کر رہے ہیں۔ یہ تقریر74  سال گزرنے کے باوجود آج بھی اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے جتنی کہ اس وقت کے حالات میں۔ میں تقریر پر زیادہ تبصرہ نہیں کرنا چاہتا فقط دو باتیں اجمالاً عرض کرنی ہے۔ ایک یہ کہ جو لوگ پشتون بیلٹ میں قومی سیاست کے نام پر متحرک رہتے ہیں اور وہ لوگ جو ایک کثیر القومی فیڈریشن کے ساتھ کسی قوم کے تعلق کو سمجھنا چاھتے ہیں یا وہ لوگ جو قومی سیاست کے کاز کے نشیب و فراز  اور اہداف سے واقفیت نہیں رکھتے پاکستان کے ساتھ بطورِ ایک خودمختار شہری کے ساتھ چلنے، سمجھنے میں خلفشار کا شکار ہوتے ہیں یا جو تاریخ کا درست رخ سمجھنے کے ادراک سے عاری ہوتے ہیں باچا خان کو پاکستان تسلیم کرنے کا طعنہ دیتے ہیں وہ یہ تقریر ضرور پڑھیں۔ ساتھ ہی جن لوگوں نے اس وقت سے لے کر آج تک باچا خان کو سوویت یونین اور ہندوستان کا وفادار کہا ہے یا جو باچا خان کو مذھب مخالف کے طور پیش کررہے ہیں یا وہ لوگ جو آج اسلام کے نام پر سیاست چمکاتے ہیں ان کو یہ تقریر ضرور پڑھنی چاھئے کہ پاکستان کی پہلے قانون ساز اسمبلی میں وقت کے حکمرانوں سے اسلام اور نظامِ مصطفیٰ کے نفاذ کا اس ریاست میں کس نے باضابطہ طور پر پہلی بار پرزور مطالبہ کیا تھا؟ درحقیقت باچا خان کا اسلامی نظام کا مطالبہ سردریاب میں پاکستان بننے کے ایک سال بعد خدائی خدمتگاروں کے اجلاس میں اس قرارداد کی ترجمانی تھی جس میں مملکتِ خداداد کے خلفاء سے اسلامی نظام کے عملی نفاذ کی تاریخ میں پہلی بار استدعا کی گئی تھی۔ بدقسمتی سے اس ملک کی حکمران اشرافیہ کی یہی حقیقی تاریخ رہی ہے کہ اس ریاست کے غدار بھی یہ بنگال و بلوچستان کی شکل میں  خود رہے ہیں، اسلامی نظام کے نفاذ میں بھی اول روز سے آج تک یہ رکاوٹ رہے ہیں مگر بدنامی باچا خان کی تقدیر میں نوشتہ ئے دیوار کی گئی ہے۔ 1948 کو مجلس آئین ساز اسمبلی میں بابائے امن خا ن عبدالغفار خان کے تاریخی خطاب کا متن ملاحظہ کریں:
''اس ایوان کے سامنے کٹوتی کی تحریک پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میں پاکستان کی انتظامیہ کے بارے میں اپنے خیالات کا کچھ اظہار کر سکوں، اس سے میری مراد نہ تو حکومت پاکستان کے وقار کو کم کرنا ہے اور نہ ہی اس کا مقصد اس کے عیب نکالنا ہے میری خواہش صرف یہ ہے کہ اس حکومت کے ذمہ دار جو غلط فہمیاں پیدا کر رہے ہیں ان پر کچھ روشنی ڈالوں۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے اور میری جماعت کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ ہم پاکستان کے دشمن ہیں اور اسے ہم تسلیم نہیں کرتے اور اسے برباداد کرنا چاہتے ہیں، میں اس جواز میں کوئی بحث ومباحث کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں صرف اتنا کہوں گا کہ مجھے میرے صوبے میں جب بھی اظہار خیال کا موقع ملتا ہے میں نے اس سے پر کافی روشنی ڈالی ہے اس کے باوجود پاکستان کے ذمہ دار افراد میں غلط فہمیاں ہیں کہ میں پاکستان کا دوست ہوں یا دشمن؟ غالباً میرے بارے میں اس رائے کا اظہار کیا جاتا ہے کہ میں پاکستان کوصفحہ ئے ہستی سے مٹا دینا چاہتا ہوں تاہم یہ حضرات اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ میں نے مختلف مواقع پر ایسی غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے اپنے صوبے میں جہاں کہیں بھی عوام کو خطاب کرنے کا موقع ملا ہے میں نے ان پر واضح کیا ہے کہ بلاشبہ میں تقسیم ہند کا مخالف تھا میری رائے تھی کہ ہندوستان کو تقسیم نہ کیا جائے کیونکہ تقسیم ہند کے نتائج اب ہمارے سامنے ہیں، ہزاروں، لاکھوں جوان اور بوڑھے مرد اور عورتیں تہ تیغ کئے گئے اور برباد ہو گئے اب جبکہ تقسیم ہو چکی تو  جھگڑا بھی ختم ہو گیا ہے میں نے ہندوستان کی تقسیم کے خلاف کافی تقریریں کیں لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا کسی نے میری بات سنی، میں نے فرنٹیئر کی مسلم لیگی حکومت کو پیشکش کی کہ ہم آپ کو حکومت چلانے کا موقع دیتے ہیں لیکن حکومت نے پٹھانوں کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ اتنا خراب تھا کہ اسے بہت مشکل سے برداشت کیا جا سکا، لوگ میرے پاس آتے اور پوچھتے ہیں پاکستان نے جو صورت حال پیدا کر رکھی ہے آپ اس کا ازالہ کریں گے؟ ہم لوگ ہیں جنہوں نے دنیا کی مضبوط قوم برطانیہ کا مقابلہ کیا کیونکہ وہ ہم پرحکمرانی کرنا چاہتی تھی، میں انہیں تسلی دیتا ہوں کہ اب صورتحال بدل گئی ہے، اس دور میں غیرملکی طوق ہمارے گلے میں تھا اب مسلمانوں کی اپنی حکومت ہے میں نے بار بار حکومت پاکستان سے کہا کہ ہم آپ کو حکومت کرنے کا موقع دیتے ہیں لیکن ہماری راہ میں رکاوٹیں ڈالی گئیں ایک صورت حال پیدا کی گئی کہ باہمی انتشار اس حدتک پیدا کیا جائے کہ فریقین تباہ وبرباد ہوں اور حکومت اپنا تعمیری کام نہ کر سکے، مجھے اس خطرے کا احساس ہے، آپ میرے بارے میں جو مرضی رائے قائم کر لیجے، میں تخریب کار آدمی نہیں تعمیر کا آدمی ہوں میں یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ خدائی خدمتگار تحر یک سیاسی نہیں معاشرتی تحریک تھی لیکن وہ ایک طویل داستان ہے اور میں اسے دہرانا نہیں چاہتا اس تحریک کو معاشرتی تحریک سے سیاسی معاشرتی تحریک میں تبدیل کرنے کا ذمہ دار کون تھا؟ انگریز! میں نے صرف یہیں نہیں بلکہ میں نے بڑے انگریزوں کے سامنے بھی اس بات کو دہرایا ہے، ہم پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ خدائی خدمتگار حکومت کو تعمیری کام نہیں کرنے دیتی لیکن ایسا پروگرام صرف اسی صورت میں پایہ تکمیل کو پہنچ سکتا ہے جب ملک میں امن ہو ہم سے اس امر کا اعلان کرایا گیا تھا کہ اگر حکومت پاکستان ہماری عوام اور ملک کے لئے کام کرے گی تو ہم اس کا ساتھ دیں گے، میں دوبارہ اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ میں پاکستان کو برباد نہیں کرنا چاہتا  تباہی سے ہندو مسلمان، فرنٹیئر، پنجاب، بنگال یا سندھ کو فائدہ نہیں ہو گا فائدہ صرف تعمیر سے ہو گا۔ میں دوٹوک الفاظ میں یہ بات دہرانے کا  خواہاں ہوں۔ اس ایوان میں آپ سب کے سامنے  کہ اس ملک میں ہماری خدمات آپ کے لئے حاضر ہوں گی، گزشتہ سات ماہ سے پاکستان کی انتظامیہ کو دیکھ رہا ہوں لیکن مجھے انگریز انتظامیہ اورموجودہ انتظامیہ میں کوئی فرق دکھائی نہیں دیتا  ممکن ہے میں غلط ہوں لیکن عام تاثر یہی پایا جاتا ہے، اگر آپ جائیں اور غریب عوام سے پوچھیں تو آپ کو میرے نظریہ کی تصدیق ملے گی۔ یہ ہو سکتا ہے کہ طاقت کے زور پر آپ یہ آواز دبا دیں مگر آپ طاقت استعمال کر یں گے، یہ بات عارضی ہو گی، اسے چھوڑ ئیے! آج ملک میں پہلے سے زیادہ کرپشن ہے، آج برطانوی عہد سے زیادہ بے اطمینانی پائی جاتی ہے، میں یہاں ایک دوست کی حیثیت سے آیا ہوں میں جو حقائق آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں اس پر ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں!  اگر آپ انہیں پاکستان کے لئے مفید سمجھیں تو بہتر ہو گا  ورنہ انہیں نظر انداز کیجئے! آخر ہم نے انگریزوں کیخلاف جنگ کیوں لڑی؟ ہم نے یہ جنگ اس لئے لڑی تاکہ یہ ملک ہمارا ہو جائے اور ہم اس پر حکمرانی کر سکیں مگر بدقسمتی سے آج انگریزوں کی تعداد پرانی حکومت سے زیادہ ہے بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ آج باہر سے زیادہ انگریزوں کو بلایا جا رہا ہے بدقسمتی سے آج ہم جائزہ لیتے ہیں تو آج فرنٹیئر اور قبائلی علاقوں میں اس پرانی پالیسی پر ہی عمل کیا جا رہا ہے اور وہی ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں، ہم نے اس نظام میں کوئی تبدیلی محسوس نہیں کی، ہمارے ہندو بھائیوں نے ہندوستان کے صوبوں میں مقامی لوگوں کو مقررکیا ، نہ صرف مردوں کو گورنر مقررکیا گیا بلکہ ایک عورت کو بھی گورنر مقرر کیا گیا بنگال اور پنجاب میں ایسا کوئی شخص نہیں تھا جسے گورنر بنایا جا سکتا وہی انگریز جس کو ہم نے ملک سے نکال باہر کیا تھا، آج پھر اپنے عہدوں پر فائز ہیں، کیا یہ ایک اسلامی حکومت ہے ؟ کیا یہ اسلامی پاکستان ہے؟ انتظامیہ میں صرف یہی خرابی نہیں بلکہ جس طرح پہلی حکومت آرڈیننس جاری کرتی تھی ویسے ہی اب جاری کئے جا رہے ہیں، مجھے سب سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب سرحد حکومت اسی زبان اور جذبہ کے تحت احکامات جاری کرتی ہے انگریز یہاں ہماری بہتری کے لئے نہیں آئے، اس کا مقصد اپنے اغراض کو حاصل کرنا تھا، مجھے برطانیہ سے کوئی گلہ نہیں مجھے تو پاکستان سے شکایت ہے کیونکہ یہ ہمارے بھائی ہیں اور یہ حکومت ہماری اپنی حکومت ہے ہمیں برطانوی ہتھکنڈے چھوڑ دینے چاہئیں، اگر ہم نے پرانے ہتھکنڈے جاری رکھے تو وہ پاکستان بھی جو ہم نے بڑی مشکلات کے بعد حاصل کیا ہے ہم اسے کھو دیں گے، ایک اور بات جو میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں مجھ پر اکثر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ میں پٹھانوں میں علیحدہ قومیت کے جذبات پیدا کرنا چاہتا ہوں اور صوبائیت کو میں ہوا دینے کا خواہاں ہوں، حقیقت یہ ہے آپ اس صوبہ پرستی کے خالق ہیں ہم پٹھانوں کو ان باتوں کا علم نہیں ہم نہیں جانتے کہ صوبہ پرستی کیا ہوتی ہے، پٹھانوں میں اس کا وجود موجود ہی نہیں، آپ سندھ کو لیجئے کیا  صوبہ پرستی ہم نے پیدا کی ہے، سوال یہ  پیدا ہوتا ہے کہ صوبہ پرستی کیسے پیدا کی جاتی ہے؟'' لیاقت علی خان نے تقریر کے دوران مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ہم صو بہ  پرستی نہیں پاکستان پر یقین رکھتے ہیں! خان عبدالغفار خان نے کہا: ''صوبہ پرستی پنجابیوں کے سوا کس نے سکھائی ہے؟ یہ ہو سکتا ہے کہ آپ اسلام کے نام پر کچھ دیر کے لئے عوام کو گمراہ کر سکیں لیکن آپ طویل مدت تک ایسا نہیں کر سکتے، یہ عارضی چیز ہوگی میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کس نے ایسے حالات پیدا کئے ہیں اور کیوں؟ یہ آئین فطرت ہے کسی ملت کا ماحول ہوتا ہے اس لئے ایسے حالات خود بخود پیدا نہیں کیے جاتے، وزیراعظم لیاقت علی خان صاحب! انہیں پیدا کیا گیا ہے۔'' لیاقت علی خان بیچ میں بولے ''خان عبدالغفارخان میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ جتنا زیادہ آپ اس مسئلے کو چھیڑیں گے اتنی زیادہ بدمزگی پیدا ہو گی،  میں تلخی پیدا نہیں کرنا چاھتا۔ آپ میری فطرت سے واقف ہیں میں تقریر کرنا بھی پسند نہیں کرتا، میں پہلی بار تقریر کر رہا ہوں اور وہ بھی اس لئے کہ آپ کو میرے خیالات کا پتہ چل جائے۔'' تقریر کے دوران لیاقت علی خان ایک بار پھر بولے ''ہم چاہتے ہیں کہ آپ تمام پٹھانوں کو متحد کرنے میں مدد کریں۔'' خان عبدالغفار خان نے جواب دیا؛ ''ہم آپ سے مل سکتے ہیں افغانستان سے نہیں، آپ کا ہم پر افغانستان سے زیادہ حق ہے؛ اگر ہمارے بنگالی بھائی جو خیبر سے دو ہزار میل دور ہونے کے باوجود ہمارے ساتھ ایک ہو سکتے ہیں وہ پاکستان سے مل سکتے ہیں ہمارے بھائی بن سکتے ہیں تو ہمارے اپنے بھائی کیوں ایسا نہیں کر سکتے؟ پٹھان جو ہمارے اتنے نزدیک ہیں اور انگریزوں نے جو ان کی شہرت کو نقصان پہنچایا اس لئے کہ پٹھانوں کا اتحاد ان کے لئے خطرے کا باعث بن سکتا تھا لیکن آپ تو ہمارے بھائی ہیں آپ ہم سے کیوں ڈرتے ہیں۔'' لیاقت علی خان؛ ''کیا پٹھانستان ملک کا نام ہے یا ایک کمیونٹی ہے؟'' خان عبدالغفار خان؛ ''پٹھان ایک کمیونٹی کا نام ہے ہم ملک میں اپنے علاقے کا نام پختونستان رکھیں گے۔'' لیاقت علی خان: 
''مہربانی کر کے اپنے نقطے کی وضاحت فرمائیے۔'' خان عبدالغفار خان: ''ہمارے پٹھانستان کا کیا مطلب ہے؟ میں ابھی اس کی وضاحت کئے دیتا ہوں، اس صوبے میں آباد لوگوں کوسندھی کہا جاتا ہے اور ان کے ملک کا نام سند ھ ہے، اس طرح پنجاب یا بنگال پنجابیوں یا بنگالیوں کی سرزمین ہے اسی طرح شمالی مغربی سرحدی صوبہ ہے ہم ایک عوام ہیں، ہماری سرزمین پاکستان کے اندر ہے ہم یہ بھی چاہتے ہیں کہ ملک کا نام لینے سے عوام کو یہ پتہ چلے کہ یہ پختونوں کا وطن ہے، کیا یہ بات تعلیمات اسلامی کی منافی ہے؟ میں یہاں اس امر کی وضاحت کر دوں کہ ہندوستانی عوام ہمیں پٹھان کہتے ہیں اور ایرانی عوام افغان کہتے ہیں، ہمارا اصل نام پختون ہے ہم پختونستان چاہتے ہیں ہم یہ چاہتے ہیں کہ ڈیورنڈ لائن کے اس طرف پٹھان پختونستان کے اندر آپس میں مل جائیں اور متحد ہو جائیں، اگر آپ یہ دلیل دیں گے کہ اس طرح پاکستان کمزور ہو جائے گا تو میں یہ کہوں گا کہ ایک علحیدہ سیاسی اکائی کی تکمیل کے باعث پاکستان کمزور نہیں ہو گا، مضبوط تر ہو گا، بہت مشکلات کی وجہ سے اعتماد کا فقدان ہوتا ہے لیکن جب اعتماد ہو تو مشکلات ختم ہو جاتی ہیں، حکومتیں اعتماد سے چلتی ہیں نہ کہ بے اعتمادی سے! ایک دوسری  بات کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں  کہ ہمیں یہ کہا گیا ہے کہ ہم مسلم لیگ میں شامل ہو جائیں، میں سمجھتا ہوں کہ مسلم لیگ نے اپنا فرض انجام دے دیا ہے حصول پاکستان کے بعد مسلم لیگ کا کام ختم ہو گیا ہے اب ہمارے ملک میں دوسری جماعتوں کو کام کرنا چاہئے جو اقتصادی بنیادوں پر کام کر یں اورموجودہ عدم مسادات کو ختم کریں اگر ہم میں کوئی اختلافات ہوں ہم انہیں بحث و تمحیص سے دور کریں ۔ اسلام قوت برداشت کی تعلیم دیتا ہے، پاکستان ایک غریب ملک ہے اس کی حکومت کو سرمایہ داروں کی طرح نہیں ہونی چاہیے ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ مملکت پاکستان کو کس طرح چلایا جائے؟ پاکستان کو کس طرح چلایا جائے؟ ہمارے سامنے اولین اسلاف کی مثال موجود ہے، ہمارے عظیم مذہبی رہنماؤں نے اسلامی سلطنتیں قائم کیں ان کی تعداد صرف تین تھی اگر ہم اپنے زعما کے طریقوں کو نہیں اپنائیں گے تو ہم اپنے ملک کی بنیادوں کو کس طرح مضبوط استوار کر سکیں گے؟ آپ حضرت علی کے اسم گرامی سے واقف ہیں، انہوں نے جو کچھ کیا وہ اسلام اور عوام کی خاطر کیا۔ روایت ہے کہ ایک دفعہ حضرت کے چہرہ مبارک پر ان کے دشمن نے تھوک دیا تو حضرت علی نے اسے معاف کر دیا، کیونکہ اگر وہ اسے ہلاک کر دیتے تو وہ ذاتی بدلہ کہلاتا، یہ وہ روح ہے جو ہمیں اپنانی چاہیے اب آئیں حضرت ابوبکر صدیق کی حیات اقدس کا مطالعہ فرمائیں، انہوں نے اپنے لیے جو معمولی سا وظیفہ مقر کیا وہ تمام مسلمانوں کے لئے تھا، اب آپ کا موقف یہ تھا کہ ہر کسی کے لئے زندگی کی بنیادی ضروریات یکساں ہیں نہ کہ جس طرح دعوی کیا جاتا ہے کہ آپ کی ضروریات زیادہ اور ہماری کم ہیں۔ یہی طرز عمل حضرت عمر فاروق کا بھی تھا۔ مسلمانوں کی سلطنت جو اتنی دیر قائم رہی، اس کی تعمیر حضرت عمر نے قائم کی تھی آپ کو اس بات کا علم ہو گا کہ اگر کسی غریب آدمی نے بھی حضرت عمر پر تنقید کی تو اس پر نہ تو انہوں نے کسی کو دھمکی دی اور نہ ہی اس سے ناراض ہوئے بلکہ حضرت عمر نے اس کی تسلی کے لئے درست حقائق کو پیش کیا، اس قسم کے قائدین کی رہنمائی میں مسلمان بھی گمراہ نہیں ہو سکتے، اگر آپ اس روح کو فروغ دیں گے  تو آپ کی سلطنت اسی طرح مضبوط ہو سکتی ہے، جب آپ خلیفہ منتخب ہوئے اور جب اجرت کا فیصلہ کیا جانا تھا تو آپ نے فرمایا کہ میں تو مسلمانوں کا خادم ہوں مجھے اتنی مزدوری دی جائے جتنی مدینہ کے کسی مزدور کو دی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ میں یہ کہتا ہوں کہ پاکستان ایک غریب ملک ہے اس کو ان اصولوں پر چلایا جائے، اس وقت جو طریقے اختیار کئے گئے ہیں ان سے پاکستان خوشحال نہیں ہو سکتا، میں یقیناً حکومت پاکستان کی حمایت کروں گا اگر یہ اسلامی اصولوں پر چلے میرا پاکستان کا نظریہ یہ ہے کہ یہ آزاد پاکستان ہو یہ کسی ایک خاص کمیونٹی یا فرد کے زیر اثر نہ ہو اس کی خارجہ پالیسی آزاد ہو، پاکستان تمام لوگوں کے لئے ہو ہرکسی کو یکساں فائدہ و حقوق پہنچے چند افراد استحصال نہ کریں ہم چاہتے ہیں کہ حکومت پاکستان چند افراد کے ہاتھوں میں نہ کھیلے، جہاں تک فنی ماہرین کا تعلق ہے بے شک پاکستان  یا انگلینڈ سے بلائیے لیکن جہاں تک ایڈمنسٹریشن کا تعلق ہے بس اس بات سے اتفاق نہیں کر سکتا کہ پاکستان میں اہل حضرات کا فقدان ہے اور تمام لوگ نااہل ہیں، اگر ہندو اپنے معاملات کو خود چلا سکتے ہیں تو ہم ایسا کیوں نہیں کر سکتے، بہت سے انگریزوں کو یہاں ملازمت میں رکھا گیا ہے اور مزید تازہ افراد آ رہے ہیں، میں یہ کہوں گا کہ یہ بات پاکستان کے لئے اچھی نہیں۔''
25 مارچ 1948 کو کی گئی یہ تقریر ''باچا خان اور آزادی کے ہیروز'' نامی کتاب سے ماخوذ ہے۔