انسداد دہشت گردی: ذرہ سی غفلت ملک و قوم سے غداری ہے

انسداد دہشت گردی: ذرہ سی غفلت ملک و قوم سے غداری ہے

عوامی نیشنل پارٹی خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے شمالی وزیرستان، سوات میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر حکومتی خاموشی کو مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے یہ سوال اٹھایا ہے کہ سوات میں پاکستان کا جھنڈا جانوں کے نذرانے دے کر اے این پی نے دوبارہ لگایا تھا، اس بار ہٹایا گیا تو کون لگائے گا؟ سوات میں پولیس پر حملے، سیکورٹی اہلکاروں اور ڈی ایس پی کے اغواء اور جرگہ کے ذریعے ان کی بازیابی یا رہائی پر ردعمل دیتے ہوئے ایمل ولی خان نے یہی سوال اٹھایا ہے کہ کیا ریاست اتنی کمزور ہوگئی ہے کہ اپنے ڈی ایس پی کو چھڑانے کیلئے دہشت گردوں پر جرگے کرائے جا رہے ہیں؟ خیبر پختونخوا کی جنت نظیر وادی میں دہشت گردوں کی اتنی بڑی کارروائی صاحبان اقتدار کے منہ پر طمانچہ ہے، جو حکومت طالبان کو بھتے دے، زندگی کی بھیک مانگے، وہ عوام کی کیا حفاظت کرے گی۔ اے این پی کے صوبائی صدر کے مطابق ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پختونخوا میں آگ لگا دی گئی ہے، (جبکہ) حکومت کے امپورٹڈ ترجمان آج بھی کہہ رہے ہیں کہ بھتے اور دہشت گردوں کی موجودگی (کے دعوؤں) میں کوئی حقیقت نہیں، عوام کی حفاظت کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کرنے ہوتے ہیں، ایک ایسا جذبہ جو کم ازکم اس حکومت میں نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ ہم عرصہ دراز سے کہہ رہے ہیں کہ طالبان گروہ منظم ہو رہے ہیں لیکن کسی نے ہماری بات کو سنجیدہ نہیں لیا، آج سب کچھ ثابت ہو گیا کہ سوات میں پیر کے روز پولیس پر حملہ ہوا اور ڈی ایس پی کو اغوا کیا گیا، وزیراعلی پختونخوا ہمت کریں اور اپنے حلقے میں جاری دہشتگردی پر خاموشی توڑ دیں، حکومت کو دلیری سے سامنے آنا ہو گا، اگر حکومت یہ مجرمانہ خاموشی اختیار کرے گی تو پختونخوا کے عوام نئی آگ کا سامنا کریں گے۔ ہمارے نزدیک دو دہائیوں تک آگ اور خون کے دریا میں نہانے، ستر تا اسی ہزار قیمتی جانیں قربان کرنے اور اربوں کھربوں روپے کا مالی نقصان اٹھانے کے بعد انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ذرہ برابر تغافل، تساہل اور یا معمولی سی غیرسنجیدگی بھی، کوئی معمولی جرم نہیں بلکہ اس ملک اور اس قوم کے ساتھ سنگین غداری ہے۔ بدقسمتی سے اس صوبے کے حکمران اس سنگین جرم کے نا صرف مرتکب ہو رہے ہیں بلکہ وہ ان شدت پسند عناصر کے باقاعدہ باجگزار بھی بن گئے ہیں۔ اخلاقی طور سے اس حکومت کو گھر بیٹھ جانا چاہئے جو اپنی رعایا کی جان و مال کا تحفظ یقینی نہیں بنا سکتی، لیکن یہاں تو اپنی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے عوام کو بے یار ومددگار اور دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑا گیا ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہی ہے کہ اے این پی کے صوبائی صدر کی رائے سے محولہ بالا آراء سے اختلاف ممکن نہیں، حالیہ دنوں میں پیش آنے والے واقعات میں اس آگ کی تپش واضح طور پر محسوس کی جا رہی ہے  جو بقول ایم ولی خان کے اک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس صوبے میں لگائی گئی ہے۔ اور خدشہ ہے کہ اگر اس آگ پر بروقت قابو نہ پایا گیا تو اس کی لپیٹ میں خدانخواستہ نہ صرف یہ ملک بلکہ یہ پورا خطہ آ سکتا ہے۔ ماضی قریب میں اس کا تجربہ ہم کر چکے ہیں، افغانستان میں لگی آگ بالآخر ہمارے گھر تک پہنچ ہی گئی تھی، آج خدانخواستہ اگر وہی تاریخ دہرائی جاتی ہے تو اس کے نتائج کا متحمل یہ ملک ہو سکتا ہے اور نہ ہی یہ قوم!