انجمن اصلاح الافاغنہ

انجمن اصلاح الافاغنہ


روخان یوسف زئی

خان عبدالغفار خان یعنی باچا خان جس دور میں پیدا  ہوئے اْس دور میں پشتونوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی مفلوج تھی۔ پشتون معاشرے کے اندر بہت ساری خرابیاںایسی رچی بسی تھیں کہ اْن کو نکال باہر کرنا تو درکنار بلکہ اْن کی نشاندہی کرنا بھی بہت مشکل کام تھا۔ پشتون قوم اس برائی کے دلدل میں ایسی دھنسی ہوئی تھی  اوربدقسمتی سے پشتونوں میں ایسا کوئی شخص یعنی لیڈر موجودنہیں تھا کہ وہ اِن خرابیوں کی نشاندہی کر کے ان کی اصلاح اور ان سے نکلنے کا راستہ  دکھا سکے۔ مْلاقوم کی اصلاح تو دور کی بات وہ خو د اپنی اصلاح نہیں کر سکتے تھے جس سے پشتون غیر اسلامی رسم و رواج میں دھنستے گئے اوربات اس حد تک پہنچ گئی  تھی کہ تعلیم حاصل کرنے کے خلاف فتوے جاری کر دئیے  گئے تھے۔اور یہ بات معاشرے میں پھیلائی گئی کہ:
سبق د مدرس وئی ، د پارہ د پیسے وئی
جنت کے بہ ئے زائے  نہ  وی
پہ  دوزخ کے  بہ غوٹے وئی 
ترجمہ:۔ جولوگ ان مدارس (سکولوں)میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اْنکے لئے جنت میں کوئی جگہ نہیں ہے بلکہ وہ دوزخ میں جا ئیں گے۔اِسی مشکل اور نااْمیدی کے دور میں اللہ تعالی نے پشتونوں میں ایک ایسے بندے کو پیدا کیا جسے پوری دنیا باچا خان کے نام سے جانتی ہے لیکن اصل میں اْس کا نام خان عبدالغفار خان تھا،باچا خان چارسدہ کے گاؤں اْتمانزئی میں بہرام خان کے پیدا ہوئے۔آپ کے والد بہرام خان علاقے کے معزز خان تھے۔باچا خان نے بچپن بڑے ٹھاٹ سے گزارا کیونکہ سب سے چھوٹا ہونے کے ناطے وہ والدین کا لاڈلا تھاوہ باچا خان کی ہر بات کو مانتے تھے۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ نازوادا سے پلا بڑا، باچا خان گھر میں آرام سے بیٹھ سے کر اپنے والد کی جاگیر سے کماؤ کھاتا لیکن اْس نے ایسا نہیں کیا بلکہ اْس نے پشتونوں کی اصلاح اور اْن کو راہِ راست پر لانے کا بیڑہ اپنے سر اْٹھالیا۔جو آسان کام نہیں تھالیکن جس کام کے لئے اللہ ایک بندے کو چْنے وہ کبھی بھی ناکام نہیں ہوسکتا۔

 

انجمن اصلاح الافاغنہ کی تحریک، باچا خان نے پشتون معاشرے کی اصلاح کے لئے شروع کی تھی لیکن مالی مشکلات، تعلیم یافتہ افراد اورمصلح لوگوں کی کمی، اپنوں کی بے وفائی ، انگریزوں کی سازش اور اچھے عہدوں اور مرتبوں کے بھوکے خوانین کی مخالفت نے اس تحریک کو نقصان پہنچایا،باچا خان اس تحریک کا مرکز ومحور تھا۔ انہوں نے اپنی طرف سے بھر پور کوشش کی کہ تحریک میں قابل ،دیانتدار اور محب وطن لوگوں کو شامل کریں جوآگے چل کر اْن کی غیر موجودگی میں قوم کی رہنمائی کر سکے لیکن بات وہی پہ اٹکی رہی۔ تحریک میں باچا خان کا ساتھ دینے بہت سارے پشتون آگے آئے لیکن افسوس کہ ایساکوئی بھی پیدا نہ ہوا جو باچا خان کی غیر موجودگی میں اس تحریک کو آگے لے کر جا سکے اور یہی وجہ تھی جب باچا خان نے خدائی خدمتگار تحریک کا آغازکیا  تو انجمن تاریخ کے ایک نئے موڑ پر آ گئی
 

 


باچا خان نے بہت ہی کم عمری میں پشتونوں کی اصلاح کا کام شروع کیا تھاسب سے پہلے باچا خان نے مثال قائم کرتے ہوئے اپنی خواہش یعنی فوج میں نوکری سے اْس وقت انکار کیا جس وقت ایک انگریزفوجی نے ایک پشتون فوجی کی بے عزتی کی اور اْسی بے عزتی کو لے کے باچا خان نے فوج میں نوکری سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد باچا خان نے 1910 ء  میں مولوی عبدالعزیز کے تعاون سے اْتمانزئی میں ایک مدرسے کی بنیاد رکھی اور حصول علم کے لئے مزید مدرسے بنانے کی کوشش جاری رکھی۔اْس دور میں اس طرح کے مدارس بنانا اتنا اسان کام نہیں تھا،کیونکہ اْس وقت پشتون مْلاؤں اور پیروں کے دامِ فریب میں مکمل طور پر گرفتار تھے۔ اس لئے کسی دوسرے واعظ کا اثر قبول کرنے لئے تیار نہیں تھے۔ اسی وجہ سے باچا خان نے ان مدارس کی سرپرستی کے لئے حاجی صاحب ترنگزئی (حاجی فضل واحد)کو چْنا۔ کیونکہ حاجی صاحب بذات خود ایک مشہور مصلح بزرگ تھے جو اْس وقت انگریزوں کے زر خرید نہیں تھے اور تمام پشتونوں کے لئے قابل قبول تھے اور سب سے بڑی بات یہ کہ کوئی بھی اْن کے کردار اور علم پر انگلی نہیں اْٹھا سکتا تھا۔باچا خان نے پشتون معاشرے سے غیر اسلامی رسم و رواج کے خاتمے کے لئے اور اْن کی اصلاح کے لئے عملی جد وجہد کا آغازبہت پہلے کیا تھا، پشتونوں کی اصلاح کی سوچ کو لے کر با چا خان اپنے خودنوشت "زما ژوند او جدوجہد"(میری زندگی اور جدوجہد) میں رقم طراز ہیں کہ
"کہ میں مشن سکول میں اپنے ہیڈ ماسٹر وگرم صاحب اور اْن کے بھائی ڈاکٹر وگرم سے بہت متاثر ہوا تھاان کی قربانیوں نے مجھ پر بڑا اثر کیا تھا مجھے خیال آیا کہ میں بھی اپنی قوم اور وطن کی خدمت کروں ان دنوں جہالت کیوجہ سے ہماری قوم کی حالت بہت بْری تھی نہ حکومت کی جانب سے اور نہ قوم کی طرف سے تعلیم اور اصلاح کا کوئی انتظام تھا اور اگر کسی گاؤں میں کوئی پرائمری سکول ہوتا بھی تو مولوی حضرات کسی کو تعلیم حاصل کرنے نہیں دیتے تھے۔میں چاہتا ہوں کہ پشتون بچوں کی تعلیم کے لئے ملک میں اسلامی مدارس قائم کروں اور اپنی عمر اسی خدمت میں گزار دوِں۔

 


مختلف مشکلات کے باوجود انجمن اپنا کام بخوبی نبھا رہا تھا پہلے دس سالوں میں انجمن کی مالی پوزیشن کافی بہتر ہوگئی تھی کیونکہ انجمن کے ممبران اپنا چندہ باقاعدگی سے دیتے رہے اسی سلسلے میں باچا خان نے اپنی ذاتی7000 روپے کی زمین خرید کر اْس کی آمدن کو انجمن کے لئے وقف کر دیا جس سے انجمن کی مالی پوزیشن کو کافی سہارا ملا لیکن انجمن کی کامیابی انگریزوں کوہضم نہیں ہو رہی تھی اور اس کی ناکامی کے لئے مختلف حربے اپنائے گئے اسکے علاوہ انگریزوں نے بہت سارے پیرومرید اور ملاؤں کو پیسے دے کر انجمن کو بدنام کر نے کی کوشش کی مْلاؤں نے انجمن کے تحت چلنے والے آزاد مدارس کی تعلیم کو دنیاوی تعلیم کہہ کر عام پشتونوں کو ان سے دور رہنے کی تلقین کی

 


 باچا خان نے سب سے پہلے اپنی ذات کو انہی زریں اْصولوں پر عمل پیرا ہو کر کے دکھایا اور پھر دوسروں کو اس راہ پر چلنے کی ترغیب دی۔ وہ سب باتیں جو پشتونوں نے اپنے معاشرے میں ناسمجھی کیوجہ سے شامل کرلی تھیں جن میں سے چیدہ چیدہ یہ تھی۔ 1۔پشتون عورتوں سے اچھا برتاؤنہیں کرتے تھے، اْن کوخودسے کمتر سمجھتے اور اْن کو تعلیم دیناگناہ سمجھتے تھے،2۔ اْن کو وراثت میں حصہ دینا اپنی توہین سمجھتے تھے، 3۔بیماری میں ڈاکٹر کے پاس جانے کی بجائے مْلا کے پاس دم ودرودکے لئے جاتے،4۔ صدقے و خیرات نقد نہیں دیتے، 5۔ مردے کے جنازے کے وقت اسقاط(سخات) دینا اور فوتگی پر خواتین کی سینہ کوبی کرنا ، 6۔ مزاروں پہ جانا، اْن سے مانگنا اور اْن کی مٹی یا دوسرے اشیاء کو متبرک سمجھنا،7۔ بیٹی کو بیاہتے وقت اْس کے پیسے وصول کرنا اور شادی بیاہ کے موقع پر دوسرے غیر اسلامی رسم ورواج کا اپنانا، 8۔ تعلیم کا حاصل نہ کرنا ۔ 9۔ آپس کی دشمنیاں۔ 10۔روز بروز بگڑتی ہوئی معاشی حالت ،11۔ غلامی، 12۔ زبان و ادب کا زوال۔
با چا خان نے ان سب غیر اسلامی اور فضول رسم ورواج کوپشتون معاشرے سے جڑ سے اْکھاڑنے کے لئے  اپنی کمر کس لی۔ ان فرسودہ  رسومات سے جن جن لوگو ں کو فائدہ ہوتا تھا اْنہوں نے باچا خان کے خلاف آواز اْٹھائی لیکن باچا خان ثابت قدم رہے اور نہ ہی اپنے مقصد سے پیچھے ہٹے۔ باچا خان نے اپنے ذات سے ابتدا کی اور اپنی شادی اور والد ین کی فوتگی پر فضول رسموں پر خرچ ہونے والے رقم قوم کی خدمت کے لئے چندے میں جمع کی۔ اس مقصدکے حصول کے سلسلے میں باچا خان کے کافی دوست اْن کے ہمراہ مل گئے جوخود بھی ان رسومات سے اختلاف  رکھتے تھے لیکن اکیلے وہ اس کے خلاف آواز اْٹھانے کی جرات نہیں کر سکتے تھے اور اْنہوں نے باچا خان کی آواز پہ لبیک کہا۔معاشرے کی اصلاح کے لئے باچاخان نے سب سے پہلے پشتونوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی سعی کی اس سلسلے میں باچا خان نے اپنے دوستوں میاں احمد شاہ ، قاضی عطاء اللہ ، حاجی عبدالغفار، محمد عباس خان ، عبدالاکبر خان اکبر،، تاج محمد خان، عبداللہ شاہ اور خادم محمد اکبر کے تعاون سے یکم اپریل 1921ء کو  اْتمانزئی میں آزاد سکول کی بنیاد رکھ دی۔ اپریل کے دوسرے ہفتے میں عباس خان کے حجرے میں ایک میٹنگ طلب کی گئی جس میں پشتون معاشرے کی تعلیم ، اصلاح اورترقی کے لئے ایک انجمن بنانے کی تجویز پیش کی گئی جس کی تمام  شرکاء  نے تائیدکی۔ اور اسطرح انجمن اصلاح الافاغنہ کا قیام عمل میں آیا۔ میٹنگ کے شرکاء  درجہ ذیل تھے۔

 

 دسمبر 1922ء میں میاں معروف شاہ اور خادم محمد اکبر کے کہنے پر انجمن کا اجلاس بلایا گیا اور اجلاس میں عباس خان کواپنے غیر لچکدار رویے کیوجہ سے انجمن کی صدارت سے ہٹا کر عبدالاکبر خان اکبر کو انجمن کا نیا صدر منتخب کیا۔عبدالاکبر خان نے انجمن کی بہتری کے لئے دن رات کام کیا اور انجمن کے کاروان میں بہت سارے ایسے نام شامل کئے جو بعد میں انجمن کے لئے اہم ستون ثابت ہوئے

 


1۔خادم محمد اکبر (چارسدہ)۔2۔ مولانا محمد اسرائیل (اْتمانزئی)  ۔3۔ میاں عبداللہ شاہ (قاضی خیل چارسدہ)۔4۔ اکبر خان (اْتمانزئی) ۔5۔ فضل کریم میاں (اْتمانزئی)۔ 6۔ عبدالاکبر خان اکبر۔7۔ حاجی عبدالغفار (اْتمانزئی)۔8۔ محمد عباس خان (اْتمانزئی)9۔عبدالغفار خان (باچا خان) انجمن بنانے کا مقصد پشتون معاشرے سے غیر اسلامی رسم ورواج کا خاتمہ، پشتونوں میں اتفاق واتحاد پیدا کرنا، جنگ وجدل کی نفی کرنا ، عدم تشدد کی پرچار، اجتماعیت کی نشونما اور سب سے بڑھ کر تعلیم کی ترویج کرنا قرار پایا گیا۔ یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اْتمانزئی کے سکول کو مرکزی تسلیم کر کے اس کے شاخیں پورے پشتونخوا میں پھیلائی جائیں۔انجمن کے لئے آئین لکھنے کی ذمہ داری عبدالاکبر خان اکبر، میاں احمد شاہ اور خادم محمد اکبر کو دے دی گئی۔ کمیٹی نے دس بارہ دنوں کے  بعد درجہ ذیل سفارشات پیش کیں جو بعدمیں ضروری ترامیم کے بعد انجمن کے لئے باقاعدہ آئین کی شکل متفقہ منظور کر لی گئی؛

 


معاشرے کی اصلاح کے لئے باچاخان نے سب سے پہلے پشتونوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کی سعی کی اس سلسلے میں باچا خان نے اپنے دوستوں میاں احمد شاہ ، قاضی عطاء اللہ ، حاجی عبدالغفار، محمد عباس خان ، عبدالاکبر خان اکبر،، تاج محمد خان، عبداللہ شاہ اور خادم محمد اکبر کے تعاون سے یکم اپریل 1921ء کو  اْتمانزئی میں آزاد سکول کی بنیاد رکھ دی۔ اپریل کے دوسرے ہفتے میں عباس خان کے حجرے میں ایک میٹنگ طلب کی گئی جس میں پشتون معاشرے کی تعلیم ، اصلاح اورترقی کے لئے ایک انجمن بنانے کی تجویز پیش کی گئی جس کی تمام  شرکاء  نے تائیدکی۔ اور اسطرح انجمن اصلاح الافاغنہ کا قیام عمل میں آیا

 


1۔اس انجمن کا نام 'انجمن اصلاح الافاغنہ " یعنی پشتونوں کی اصلاح کا جرگہ ہو گا۔
2۔فیصلے اکثریت  رائے کی بنیاد پر کئے جائینگے۔
3۔انجمن کے اپنے باقاعدہ ممبر ان ہونگے۔ 
4۔انجمن اپنی آمدن اور خرچ کا  باقاعدہ حساب  رکھنے کا پابند ہو گاجس کی رپورٹ  سالانہ اجلاس میں پیش کی جائے گی۔
5۔انجمن کے دفتر کے مقام کا فیصلہ انجمن ممبران کریں گے۔
6۔انجمن کے مجلس شوری  ٰکے ممبران کی تعداد پچاس ہوگی۔ 
7۔مجلس شوریٰ کا اجلاس ہر15 دن میں ایک مرتبہ ضرور بلایا جائے گا۔
8۔مجلس شوریٰ کے ممبران انجمن اور مدارس کے اخراجات کے بھی ذمہ دار ہوں گے ۔
9۔دوسری جماعتوں کی طرح انجمن عام لوگوں سے چندہ جمع نہیں کرے گی۔
10۔مجلس شوری کا ہر ممبر سالانہ 50 روپے چندہ جمع کرنے کا پابند ہو گا۔
11۔انجمن کی شاخیں عام علاقوں تک پھیلائی جائیں گی اور ان ذیلی شاخوں میں وہ لوگ ممبران بن سکیںگے جو انجمن کے منشور کے ساتھ مکمل متفق ہوںاور تمام تر علاقائی دھڑے بندیوں سے مبرا ہوں اور تھانہ کچہریوں کے فضول چکروں سے اپنے آپ کو بچا کے رکھتے ہوں۔ یہ ممبران  فیرنگی استعمار کے لئے کام نہ کرتے ہو ںاور پشتو زبان کی ترویج  اور پشتونوں سے محبت رکھتے ہو۔
12۔مجلس شوری کا جرگہ اْتمانزی میں سالانہ مشاعرے کا انعقاد کرے گا اورجس میں صوبے کے تمام شعراء کو جلسے میں شرکت کے لئے باقاعدہ مدعو کیا جائے گا۔
13۔یہ جرگہ قومی شعراء کی حوصلہ افزائی کرے گا اور ان میں نادار شعراء کی حسب توفیق امداد کرے گا۔ 
14۔یہ جرگہ ،اگر اجازت ملی توایک اخبار، رسالہ کا  اجراء کرے گی۔
15۔انجمن کا ایک صدر، دو نائب صدور، ایک جنرل سیکرٹری اور ایک نائب سیکرٹری یا ناظم اور ایک خزانچی ہو گا۔

 

باچا خان نے 1910ء میں مولوی عبدالعزیز کے تعاون سے اْتمانزئی میں ایک مدرسے کی بنیاد رکھی اور حصول علم کے لئے مزید مدرسے بنانے کی کوششیں جاری رکھیں،اْس دور میں اس طرح کے مدارس بنانا اتنا آسان کام نہیں تھا،کیونکہ اْس وقت پشتون مْلاؤں اور پیروں کے دامِ فریب میں مکمل طور پر گرفتار تھے


16۔ مدارس کے امتحانات کے لئے ایک ممتحن یا انسپکٹر ہو گا  ،
آئین کے مطابق انجمن کے پچاس ممبران نامزد کیے گئے جن کے نام درجہ ذیل ہیں؛
1۔ محمد عباس خان (اْتمانزئی) 2۔ حاجی عبالغفار خان (اْتمانزئی)۔3۔ حاجی محمد اکرم (خانمائی) 4۔عبدالاکبر خان (عمرزئی)۔5۔ جمعدار نور محمد خان (ترنگزئی)۔ 6۔ محمد زرین خان (ترنگزئی)۔ 7۔ غلام محی الدین خان (تنگی)۔8۔ میا ں صاحب  زیارت شاہ  (کاکا صاحب)۔9۔ میاں جعفر شاہ (زیارت کاکا)۔ 10۔ فضل اکرم (نرے قلعہ)۔11۔ فضل ربی  (بدرگہ)۔12۔ تاج محمد خان  (چارسدہ)۔13۔ میاں احمد شاہ (قاضی خیل)۔14۔ میاں عبداللہ شاہ  (قاضی خیل)۔15۔ خادم محمد اکبر (چارسدہ)۔16۔ جلیل خان (جلیل )۔17۔مولانا شاہ رسول (امازو گڑھی)۔18۔ شاہ محمد خان ( میر زئی)۔19۔شیر بہادر خان (کوتر پانڑہ)۔20۔امیر ممتاز خان (بنوں)۔21۔خوشحال خان (باری کاب)۔22۔ شاہ پسند خان (چا رغلی )۔23۔ بیرسٹر محمد جان (بنوں)۔24۔ قاضی عطاء اللہ (مردان)۔25۔محمد رمضان (ڈی آئی خان)۔26۔ حکیم عبدالسلام (ہری پور)۔27۔ میاں صاحب  (پکلی )۔28۔ ثمین جان خان (محب بانڈہ)۔29۔ علی اصغر خان (ہزارہ)۔30۔ آفندٰ ی صاحب (ملا کنڈ)۔31۔ حمزہ خان (گودر)۔ 32۔ کْنڈہ چاچی (اْتمانزئی)۔33۔فیض محمد خان (اْتما نزئی)۔34۔غندل خان (چارسدہ)۔35۔ حاجی شاہنواز خان (چارسدہ)۔36۔ عنایت اللہ خان (عمر زئی)۔37۔ عادل شاہ (ترنگزئی) ۔38۔ زرین خان۔39۔محمد اکبر خان۔40۔ مدد خان  (ترنگزئی)۔41۔ میاں فضل لطیف (تنگی)    ۔42۔ عبدااللہ خان  (زرین آباد)۔43۔ حکیم صاحب (گھڑی حمید گْل)۔44۔ عبدالروف (کتوزئی)۔45۔ پیاری بھابھی سعداللہ خان کی بیوی۔46۔ محمد شاہ خیال گروی  ۔47۔ خان آباد خان (اْتمانزئی )۔48۔مولانا خلیل الرحمان برازی (تنگی) ۔49۔ مولانا میر زئی۔50۔ بہادر خان (عمر زئی) ۔اکتوبر 1921ء میں آئین انجمن کے ممبران کے سامنے رکھ دیا گیا جس میں مولانا اسرائیل کے کہنے پر مدرسوں میں دینی تعلیم کی ایک شق شامل کرنے کی سفارش کی گئی جسے شامل کر کے آئین کو متفقہ طور پرمنظور کرلیا گیا۔ اس کے بعد انجمن کے عہدیدارن کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ جس میں محمد عباس خان کو انجمن کا صدر، خادم محمد اکبر نائب صدر، میاں عبداللہ شاہ خزانچی اور میاں عبدالمعروف شاہ کو مدارس کے شعبہ امتحانات اور پیشہ ورانہ اْمور کا سربراہ منتخب کیا گیا۔اس میٹنگ کے دوران ہی درجہ ذیل ممبران نے چندہ کیا جس کی تفصیل یہ ہیں؛1۔عبدالاکبر خان اکبر  (500 روپے)    ۔2۔ باچا خان  (500روپے)۔3۔ میاں عبداللہ شاہ  (500 روپے) ۔4۔ محمد عباس خان (500 روپے)۔5۔ کنڈہ چاچی (500 روپے) ۔6۔ حاجی عبدالغفار خان  (500 روپے)۔7۔ تاج محمد خان  (500 روپے)۔ 8۔ فیض محمد خان  (250 روپے)۔9۔ غندل خان   (250 روپے)۔10۔میاں احمد شاہ (250 روپے)۔11۔ میاں فضل لطیف (250 روپے)۔12۔ غلام محی الدین (200 روپے )ٍ۔13۔عنایت اللہ خان (100 روپے)14۔ عادل شاہ (50 روپے) ۔15۔ زرین خان (50 روپے)16۔ حاجی شاہنواز خان  (50 روپے)۔17۔محمد اکبر خان   (50 روپے)۔18۔ میاں زیارت شاہ  (50 روپے)۔19۔ مدد خان  (50 روپے)۔20۔ عبداللہ خان  (50 روپے)۔21۔ حکیم صاحب (50 روپے)22۔ عنایت اللہ خان (50 روپے)۔23۔ عبدالرؤف (50 روپے)224 پیار بھابھی (50 روپے)۔25۔ محمد شاہ (50 روپے) ان کے علاوہ عام لوگوں کو بھی انجمن کے اغراض و مقصد اْجاگر کرنے کے لئے مدعو کیا گیا تھا ۔

 

تحریک خلافت میں حصہ لینے کیوجہ سے باچا خان اور اْس کے ساتھیوں کو انگریز حکومت نے دسمبر 1921ء میں گرفتار کیا اور تین سال قید کی سزا سنائی۔جس کی وجہ سے انجمن کے اْمور بْری طرح سے متاثر ہوئے۔ حکومت وقت نے وقفے وقفے سے باچا خان کے ساتھیوں کو رہا کیا تو وہ دوبارہ انجمن کو فعال کرنے میں جْت گئے اور بہت کم عرصے میں انجمن دوبارہ فعال ہوگئی

 

ان میں اکثر نے انجمن و مدارس کے لئے مالی امداد کرنے کے وعدے کئے جس کو  بعد میں عملی جامہ بھی پہنایا۔ پشتو کا مشہور محاورہ ہے کہ:۔ "ہر سڑے پیدا دے، خپل خپل کار لرہ "ترجمہ؛۔ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے مخصوص کام کے لئے پیدا کیا ہے۔اسی محاورے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے باچا خان نے بھی باربار اس بات کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ:۔"کار لہ خلق پیدا کڑئی ،خلقو لہ کار مہ گورئی "ترجمہ ؛۔ کام کیلئے بندے ڈھونڈئیے نہ کہ بندوں کے لئے کام۔انجمن کے انتظام کو درست سمت چلانے کے لئے بندوں کی قابلیت اور اہلیت کو مد نظر رکھا گیااسی لئے انجمن کے تین حصوں میں تقسیم کیا گیا اور ہر حصے کے لئے تین کمیٹیاں بنائی گئیں۔1۔ ایگزیکٹیو کمیٹی جن میں زیادہ تر خوانین تھے جو صرف چندہ اکھٹا کرتے تھے اور اس کمیٹی کے ممبران کی تعداد 11 تھی۔ 2۔ دوسری کمیٹی کا نام مشاورتی کمیٹی تھی جس کے ممبران کی تعداد 64 تھی اور اس کے ذمے دوسری کمیٹیوں کو مشاورت کے علاوہ ممبران کی تعدادمیںاضافہ کرنے  کے لئے کام کرنا تھااورعوام میں انجمن کے بارے میں مثبت پروپیگنڈہ کرنا تھا۔ 3۔ تیسری کمیٹی جس کو جنرل کمیٹی کا نام دیا گیا کے ممبران کی تعداد 94 تھی۔ اس کمیٹی کاکام مدارس کا انتظام و انصرام سنبھالنا تھا۔اس کمیٹی کے زیادہ تر ممبران نے اپنے آپ کو انتظام کے ساتھ ساتھ سکول میں پڑھانے کے لئے وقف کر دیا کیونکہ اْس وقت سکول میں اساتذہ کی بہت کمی تھی۔باچا خان نے خود اس میں حصہ لیا اور سکول میں پڑھاتے رہے۔اْن کے علاوہ اس کام میں مقصود جان ، امیر ممتاز خان، شیخ صنوبر، بازاد خان، ہستم خان ، محمد عمر اور میاں احمد شاہ پیش پیش تھے۔اس کے علاوہ بھی وقتاً فوقتاً انجمن کے دوسرے رہنماؤں نے بھی پڑھانے میں اپنا حصہ ڈالا اور طلباء اْن لیڈروں کے تجربات سے مستفید ہوتے رہے۔ تحریک خلافت میں حصہ لینے کیوجہ سے باچا خان اور اْس کے ساتھیوں کو انگریز حکومت نے دسمبر 1921ء میں گرفتار کیا اور تین سال قید کی سزا سنائی۔جس کی وجہ سے انجمن کے اْمور بْری طرح سے متاثر ہوئے۔ حکومت وقت نے وقفے وقفے سے باچا خان کے ساتھیوں کو رہا کیا تو وہ دوبارہ انجمن کو فعال کرنے میں جْت گئے اور بہت کم عرصے میں انجمن دوبارہ فعال ہوگئی۔

 

 انجمن کے زیر انتظام سکولوں میں علم کے علاوہ طلباء کوفنی مہارت سکھانے پر بھی زور دیا گیا جس میں سلائی اور دستکاری وغیرہ کے ہنر بھی شامل تھے،اس کام کے لئے پڑھائی کے علاوہ دو گھنٹے کا اضافی وقت مخصوص تھا جس میں طلباء یہ ہنر سیکھ کر دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے اپنا چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرنے کے قابل بن جاتے

 

دسمبر 1922ء میں میاں معروف شاہ اور خادم محمد اکبر کے کہنے پر انجمن کا اجلاس بلایا گیا اور اجلاس میں عباس خان کواپنے غیر لچکدار رویے کیوجہ سے انجمن کی صدارت سے ہٹا کر عبدالاکبر خان اکبر کو انجمن کا نیا صدر منتخب کیا۔عبدالاکبر خان نے انجمن کی بہتری کے لئے دن رات کام کیا اور انجمن کے کاروان میں بہت سارے ایسے نام شامل کئے جو بعد میں انجمن کے لئے اہم ستون ثابت ہوئے۔عبدالاکبر خان کی صدارت، خادم محمد اکبر اور میاں معروف شاہ کی زیر نگرانی اْتمانزئی کے سکول کے سالانہ امتحان 25دسمبر1922ء کو کرائے گئے۔اْس وقت سکول میں 180 کے قریب طلباء زیر تعلیم تھے جس میں باچاخان کے بڑے بیٹے عبدالغنی خان بھی شامل تھے۔ انجمن کے زیر انتظام سکولوں میں علم  کے علاوہ طلباء کوفنی مہارت سکھانے پر بھی زور دیا گیا جس میں سلائی اور دستکاری وغیرہ کے ہنر بھی  شامل تھے۔اس کام کے لئے پڑھائی کے علاوہ دو گھنٹے کا اضافی وقت مخصوص تھا۔ جس میں طلباء یہ ہنر سیکھ کر دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے اپنا خود کا چھوٹا موٹا کاروبار شروع کرنے کے قابل بن جاتے۔ مذکورہ فنی ہنر سکھانے کے لئے باچا خان اور اْس کے کچھ ساتھیوں جس میں عبدالاکبر خان اکبر، عباس خان اور میاں عبداللہ شاہ نے  علیحد ہ سے چندہ ڈال کے گجرات سے کھڈیاں منگوائیں اور ساتھ میں کاریگر بھی بھلائے تاکہ وہ طلباء کویہ کام بہتر طور پر سکھائیں۔مختلف مشکلات کے باوجود انجمن اپنا کام بخوبی نبھا رہا تھا پہلے دس سالوں میں انجمن کی مالی پوزیشن کافی بہتر ہوگئی تھی کیونکہ انجمن کے ممبران اپنا چندہ باقاعدگی سے دیتے رہے اسی سلسلے میں باچا خان نے اپنی ذاتی7000 روپے کی زمین خرید کر اْس کی آمدن کو انجمن کے لئے وقف کر دیا جس سے انجمن کی مالی پوزیشن کو کافی سہارا ملا لیکن انجمن کی کامیابی انگریزوں کوہضم نہیں ہو رہی تھی اور اس کی ناکامی کے لئے مختلف حربے اپنائے گئے اسکے علاوہ انگریزوں نے بہت سارے پیرومرید اور ملاؤں کو پیسے دے کر انجمن کو بدنام کر نے کی کوشش کی مْلاؤں نے انجمن کے تحت چلنے والے آزاد مدارس کی تعلیم کو دنیاوی تعلیم کہہ کر عام پشتونوں کو ان سے دور رہنے کی تلقین کی۔ دوسری جانب انگریز کے جاسوسوں نے انجمن کے ممبران میں رخنہ ڈالنے کی کوشش بھی کی تاکہ انجمن آگے بڑھنے کی بجائے اپنے ہی مسائل میں پھنس کر خود بخود ختم ہو جائے اور اس کی مثال میاں معروف شاہ کی تھی جس نے عباس خان اور باچا خان اور دوسرے ساتھیوں میں تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کی جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہے جس سے انجمن کی کارکردگی پر منفی اثر پڑا،انہی باتوں کو لے کر میاں معروف شاہ نے اپنی عہدے (ممتحن مدارس) سے استعفی ٰ دے دیا ۔

 

خان عبدالغفار خان یعنی باچا خان جس دور میں پیدا  ہوئے اْس دور میں پشتونوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی مفلوج تھی۔ پشتون معاشرے کے اندر بہت ساری خرابیاںایسی رچی بسی تھیں کہ اْن کو نکال باہر کرنا تو درکنار بلکہ اْن کی نشاندہی کرنا بھی بہت مشکل کام تھا۔ پشتون قوم اس برائی کے دلدل میں ایسی دھنسی ہوئی تھی  اوربدقسمتی سے پشتونوں میں ایسا کوئی شخص یعنی لیڈر موجودنہیں تھا کہ وہ اِن خرابیوں کی نشاندہی کر کے ان کی اصلاح اور ان سے نکلنے کا راستہ  دکھا سکے

 

انجمن اصلاح الافاغنہ کی تحریک، باچا خان نے پشتون معاشرے کی اصلاح کے لئے شروع کی تھی لیکن مالی مشکلات، تعلیم یافتہ افراد اورمصلح لوگوں کی کمی، اپنوں کی بے وفائی ، انگریزوں کی سازش اور اچھے عہدوں اور مرتبوں کے بھوکے خوانین کی مخالفت نے اس تحریک کو نقصان پہنچایا،باچا خان اس تحریک کا مرکز ومحور تھا۔ انہوں نے اپنی طرف سے بھر پور کوشش کی کہ تحریک میں قابل ،دیانتدار اور محب وطن لوگوں کو شامل کریں جوآگے چل کر اْن کی غیر موجودگی میں قوم کی رہنمائی کر سکے لیکن بات وہی پہ اٹکی رہی۔ تحریک میں باچا خان کا ساتھ دینے بہت سارے پشتون آگے آئے لیکن افسوس کہ ایساکوئی بھی پیدا نہ ہوا جو باچا خان کی غیر موجودگی میں اس تحریک کو آگے لے کر جا سکے اور یہی وجہ تھی جب باچا خان نے خدائی خدمتگار تحریک کا آغازکیا  تو انجمن تاریخ کے ایک نئے موڑ پر آ گئی۔انجمن کا دوسرا تاریخی موڑ 1929ء میں خدائی خدمتگار تحریک کی شکل میں سامنے آیا۔ جو آنے والی کئی دہائیوں تک عدم وتشدد، آزادی، اقتصادی ترقی، سماجی انصاف، جمہوریت اور صنفی برابری کے لئے مبارزہ کرتی رہی۔ تقسیم ہند کے بعد اسی تحریک کا ایک اورموڑ سامنے آیا۔1957 ء میں نیشنل عوامی پارٹی وجود میں آگئی جس نے پاکستان کے اندر عوام کے حق حکمرانی ، صوبائی خود مختاری ، آزاد خارجہ پالیسی اور سماجی انصاف کے لئے سب سے توانا آواز اْٹھائی۔ آج یہ تحریک عوامی نیشنل پارٹی کی شکل میں وفاقی پارلیمانی جمہوریت، صوبائی خودمختاری ، آزاد خارجہ پالیسی ، عوام کے حق حکمرانی ، آئینی و پارلیمانی بالا دستی اور سماجی انصاف کی سب سے توانا آواز ہے۔