سانحہ کوئٹہ واقعے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رپورٹ پر من و عن عملدرآمد سے مزید واقعات کو روکا جاسکتا ہے۔اسفندیارولی خان

سانحہ کوئٹہ واقعے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رپورٹ پر من و عن عملدرآمد سے مزید واقعات کو روکا جاسکتا ہے۔اسفندیارولی خان

 

عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیارولی خان نے کہا ہے کہ سانحہ کوئٹہ میں شہید وکلاء ہمارا فخر ہے، انکی قربانی رائیگاں نہیں جائیگی۔ ہم کوئٹہ سمیت ہر شہید کے وارث ہیں جنہوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دیں۔

 

سانحہ 8 اگست کی چھٹی برسی پر جاری پیغام میں اے این پی سربراہ اسفندیارولی خان نے کہا کہ چھ برس پہلے کوئٹہ میں بلوچستان کے نامور وکلا کو بے دردی سے شہید کیا گیا۔

 

پاکستان کی تاریخ میں سانحہ کوئٹہ بہت بڑا سانحہ تھا جس میں دہشت گردوں نے خونی کھیل کھیلتے ہوئے 60 سے زائد وکلا اور دیگرافراد کو شہید اور درجنوں کو زخمی کیا۔اس حملے نے عدل و انصاف کیلئے لڑنے والی وکلاء برادری کو شدید صدمے سے دوچار کیا۔

 

سانحہ 8 اگست میں بلوچستان کے وکلاء کی ایک پوری نسل کو صفحہ ہستی سے مٹایا گیا۔ان تمام واقعات اور صدموں کے باوجود وکلاء کا بنچ و بار کے تقدس کیلئے کھڑا ہونا قابل فخر ہے۔

 

 اے این پی سربراہ کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی رپورٹ پر من و عن عملدرآمد سے مزید واقعات کو روکا جاسکتا ہے۔اس رپورٹ کے ساتھ ساتھ نیشنل ایکشن پلان پر بھی عملدرآمد کیا جائے۔

 

اسفندیارولی خان نے کہا کہ خطے میں جاری کچھ سازشی عناصر آج بھی امن کی راہ میں رکاوٹ ہے، حکومتیں اس معاملے کو سنجیدہ لیں۔ہم باچا خان بابا کی سوچ اور فکر پر عمل پیرا ہو کر تمام انسانیت کی فلاح کی بات کرتے ہیں۔امن کے قیام کیلئے باچا خان بابا کی سوچ و فکر کی ساری دنیا کو ضرورت ہے