افغانستان: ایک نظر

افغانستان: ایک نظر

                                                           عبدالباعث مومند
چاروں اطراف سے خشکی سے گھرا ہوا ملک افغانستان جس کے پڑوس میں ازبکستان، تاجکستان، پاکستان اور ایران شامل ہیں،  1973 میں بادشاہ ظاہر شاہ اٹلی کے دورے پر تھے کہ ان کی عدم موجودگی میں سردار داؤد خان نے انقلاب کی قیادت کرتے ہوئے بادشاہت کا خاتمہ کر دیا اور ملک کو جمہوریہ قرار دے دیا۔1978  تک حالات اس کے قابو میں رہے لیکن اس کے بعد خونی انقلاب نے افغانستان کو معاشی، معاشرتی، اقتصادی اور سیاسی طور پر  ٹٹول کر رکھ دیا اور ایسے جال میں پھنسا کر رکھا کہ آج تک نہ نکل سکا۔ ابھی پچھلے سال جب اگست میں امریکی انخلا اور طالبان کے قبضے کے بعد افغانستان ایک گہرے  تاریک کنویں میں گر گیا ایک ایسے مہلک انسانی بحران کا شکار ہوا جو کہ ایک سال سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود بھی نہ نکل سکا۔ ملک بھر میں شدید غذائی قلت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق95  فیصد گھرانوں کو خوراک کی کمی اور غذائی عدم تحفظ کا سامنا ہے۔ حالات بد سے بدتر  ہوتے جا رہے ہیں۔ افغان بچے تقریباً ہر روز بھوک سے مر رہے ہیں، خواتین اور لڑکیاں تعلیم اور معاشی آزادی سے محروم ہیں، نہایت کسمپرسی اور غلامی کی زندگی جینے پر مجبور ہیں۔ افغانستان نیشنل ڈیولپمنٹ سروے(ANDS)  نے کوشش کر کے ان عوامل کی نشاندہی کی ہے جو غربت پیدا کرنے میں زیادہ حصہ ڈالتے ہیں اور  معاشی اور اقتصادی پسماندگی کو فروغ دے رہے ہیں جیسے کہ بنیادی ڈھانچے کی کمی، اس کے علاوہ منڈیوں تک محدود رسائی، سماجی عدم مساوات، تاریخی اور جاری تنازعات اور ساتھ ساتھ پیداواری صلاحیت کی مختلف رکاوٹیں! یہ سب وہ عوامل ہیں جن پر کام کر کے غربت کی لکیر کو بہتر کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور لوگوں کو بنیادی سہولیات کسی حد تک فراہم کرنے میں کامیابی ملنا یقینی ہے۔ جنرل رابرٹ مارینی، جو کہ بین الاقوامی فلاحی تنظیم انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے ڈائریکٹر ہیں، پچھلے سالOIC  کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لئے پاکستان آئے تھے، انہوں نے اس وقت یہ کہا تھا کہ ''سیاسی مقاصد  انسانی بحران پر غالب نہیں آ سکتے کیونکہ لوگ مر جائیں گے  اور ہم انھیں مرتا ہوا دیکھ رہے ہوں گے، اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ تمام ممالک اپنے سیاسی مقاصد ایک طرف رکھ کر، افغانستان کی مدد کرنے کے بارے میں بات کریں کیونکہ اس کے علاوہ کوئی بھی بات کرنا بے معنی ہے۔'' لیکن سال گزر جانے کے باوجود بھی دنیا کے ممالک صرف دیکھ ہی رہے ہیں اور کوئی ٹھوس لائحہ عمل دکھائی نہیں دے رہا۔ اس وقت کوئی بھی ملک دوسرے ملک کا ہاتھ تھام کر آگے جانے کے بارے سوچ نہیں سکتا کیونکہ ایک طرف تو نیشنلزم عروج پر ہے، ہر کسی کو اپنی پڑی ہے تو دوسری طرف افغانستان کے پڑوس میں رہنے والے سارے ممالک کسی نا کسی خد تک اکنامک کرائسز کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی اثنا میں افغانستان کے سارے مسائل کا حل کابل کی اندر ہی موجود ہے کہ اگر وہ اپنے فصلوں میں تھوڑی نرمی لا کر دنیا کے ساتھ چلنے کی کوشش کریں تو چند ایک ممالک ان کے ساتھ تجارتی معاہدے کر کے کسی حد تک حالات میں بہتری کا باعث بن سکتے ہیں۔ سماجی عدم مساوات، لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی، عورتوں کے نوکری کرنے پر پابندی وغیرہ وغیرہ اس طرح کے سخت فیصلے جو حالیہ دور میں افغان گورنمنٹ نے کئے ہیں، ان پر کوئی بھی ملک افغان گورنمنٹ کو تسلیم کرنے کے لئے راضی نہیں اور نا ہی تجارتی معاہدے طے پائیں گے۔ علامہ محمد اقبال نے اپنے فارسی اشعار میں افغانستان کے بارے بہت خوبصورت بات کہی تھی کہ 
آسیا یک پیکرِ آب و گل است
ملتِ افغاں در آں پیکر دل است
از فسادِ او فسادِ آسیا
از کشادِ او کشادِ آسیا
ترجمہ: ایشیاء پانی مٹی کا ایک وجود ہے۔ ایشیاء کے وجود کے اندر افغان دل کی مانند ہیں (افغانستان) کے فساد میں مبتلا ہونے سے ایشیاء فساد میں ہے! اور اس کی اصلاح میں ایشیاء کی اصلاح ہے!