اے این پی: پیر روخان تا باچا خان صدیوں پرانی قومی تحریک کی امین

اے این پی: پیر روخان تا باچا خان صدیوں پرانی قومی تحریک کی امین

      مولانا خانزیب

جب ریاستیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام ہوتی ہیں تو اس کے نتیجے میں قوموں میں احساس محرومیاں جنم لیتی ہیں جو قومی تحریکوں کو پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ قومی تحریک میں مختلف تنظیمی ڈھانچوں کا وجود مضر نہیں ہوتا جب ان میں بنیادی قومی اہداف کے حصول پر اتفاق ہو کیونکہ مختلف النوع تنظیمی وجود انسانی فطرت کے عین مطابق ہے لیکن اگر یہ تنظیمیں کسی قومی مشکل میں متفقہ لائحہ عمل نہ دے سکتی ہوں تو پھر یہ تنوع خیر کے بجائے شر وانتشار کا سبب ہوتا ہے جس سے نکلنا قومی اجتماعی حافظہ اور سیاسی شعور کی آبیاری کے زور پر ہی ممکن ہے۔ 

 

کوئی بھی ریاست عوام کے بغیر نہیں رہ سکتی کیونکہ ریاست کا پہلا عنصر لوگ یا عوام ہیں اور عوام کے بغیر کوئی بھی ریاست  تشکیل نہیں پا سکتی۔ اگر کسی جگہ انسان ہی موجود نہیں تو وہاں ریاست کی موجودگی اور عدم موجودگی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ دوسرا عنصر  ریاست کیلئے حکومت یا سیاسی تنظیم ہے یعنی جو لوگ موجود ہوں ان میں حقوق و فرائض کی ادائیگی کے ایک طریقہ کار پر اتفاق ہو جو تمام ریاستوں میں آئین فراہم کرتا ہے چاہے وہ تحریری ہو یا غیرتحریری۔ جب ہم آئین کے تقدس کی بات کرتے ہیں تو اس کے پیچھے یہی سوچ کارفرما ہوتی ہے کہ اگر آئین سبوتاژ ہو گا تو ریاست اپنا وجود کھو بیٹھے گی اور پھر اس کے وجود پر سوالات کھڑے ہوں گے۔ تیسرا عنصر علاقہ یا ایک مخصوص جغرافیہ کا وجود ہے جس کو موجودہ ریاستی نظام میں بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے کیونکہ ہر ریاست کی مسلمہ عالمی سرحدیں ہوتی ہیں اور اس کے بعد ہی دوسری ریاست کا علاقہ شروع ہو سکتا ہے لیکن اگر کسی ریاست کے پاس علاقہ ہی نہ ہو یا اس کا جغرافیہ تنازعات کا شکار ہو تو پھر اس  ریاست کا وجود ہی متنازعہ بن جاتا ہے۔ 



عوامی نیشنل پارٹی کی سیاسی جدوجہد کا سرچشمہ فیض و الہام، فخرِ افغان باچا خان کی زندگی ہے، جو اپنی پوری زندگی میں ہمیشہ امن پسندی، عدم تشدد اور پلورل ازم کے رہنما اصولوں پر کاربند رہے اور اپنی زندگی آزادی کے حصول، ناانصافی، استحصال، جبر، غیرمساوی سلوک اور ظلم کے خلاف جدوجہد میں گزاری



کسی بھی ریاست کے اندر قومی تحریکوں کا مطلب ریاست سے بغاوت نہیں بلکہ قومی حقوق کا حصول ہوتا ہے جو اس ریاست کے استحکام کیلئے ضروری ہوتا ہے۔ یہ قومی تحریکیں قوم کی اس ڈوبتی نیا کو پار کرنے کی کوشش کرتی ہیں جو مسائل کے بھنور میں گری ڈانواں ڈول ہوتی ہے، قومی مشکلات کا حصول کیسے سہل بنانا ہے، قومی شعور کو کیسے اس وقت کے تقاضوں اور حقائق کے مطابق کس طرح پروان چڑھانا ھے، یہ سب کچھ قومی تحریک کی آزمائش ہوتی ہے۔ دنیا میں ہر قومی تحریک اپنے ماحول اور وقت کے تقاضوں سے الہام لیتی ہے اور یہی اس کی بقا کا راز ہوتا ہے تاکہ بدلتے ہوئے حالات میں اپنے وجود کو باقی رکھ سکیں۔ 

 

پختونوں کی تاریخ قومی تحاریک اور اس کی جدوجہد سے معمور ہے، پشتون یا افغان تاریخی طور پر ترقی و آزادی پسند اور وطن پرست رہے ہیں، یہ قوم نہ خود کبھی استعمار رہی ہے اور نہ کسی اور کی استعماریت کو کسی زمانے میں قبول و تسلیم کیا ہے۔ مقدونیا کے سکندر اعظم سے لے کر چنگیز خان، عربوں سے لے کر مغل، فرنگ یا پھر اس کا موجودہ مکار مذہبی انتہاپسندانہ روپ، موجودہ مسلط شدہ مذہبی جنونیت اس قوم کی تاریخ نہیں ہے کیونکہ اسلام کے مقدس دین کے ساتھ تو پختون زمانوں سے جڑے ہیں مگر موجودہ ماحول عالمی استعمار اور اس خطے کی مصنوعی قوتوں کی اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے اختراع ہے جس میں استحصال پختونوں کی اجتماعی بے حسی کی وجہ سے اسلام اور پشتون ولی کا کیا گیا ہے۔



باچا خان اور ان کے ساتھی خدائی خدمتگاروں نے جنوبی ایشیاء کی آزادی کے لئے برطانوی سامراج اور نوآبادیاتی قوتوں کے خلاف ہر میدان میں ہراول دستے کا فریضہ انجام دیا اور بیش بہا قربانیاں دیں جو حق، سچ اور انصاف کے متلاشیوں کے لئے مشعل راہ ہیں
 



ایشیاء باالخصوص برصغیر کی تاریخ کے حقیقی اوراق میں ان سب کا مقابلہ کرنے یا ان کی استعماریت کو للکارنے والی کسی قوم کا ذکر اگر آتا ہے تو وہ یہی پشتون ہیں۔ انہوں نے اپنے مٹی کے دفاع کیلئے اور حریت کے دفاع کے لیے سیاست اور عسکریت کے میدان میں ہر وقت اپنی اہلیت و صلاحیت کا لوہا منوایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانچ ہزار سالہ طویل معلوم تاریخ میں آج تک ان کو من حیث القوم کوئی بھی غلام نہیں بنا سکا، کوئی آ کے کہیں سے لپکا بھی ہے تو بہت جلد اس کو حیران پریشان کر دیا ہے مگر بدقسمتی سے اس تاریخی قوم کی قومی مشکلات کسی بھی زمانے میں ختم نہیں ہو سکی ہیں بلکہ ہر وقت ان کی سرزمین جنگ وجدل کے ماحول میں گرم رہی ہے۔ ہندوستان، ایران اور موجودہ افغانستان پر مشتمل علاقوں میں آباد مختلف مذاہب و عقائد رکھنے والے لوگوں پر حکمرانی کے باوجود تاریخ بتاتی ہے کہ یہ قوم کبھی نہ تو فرقہ پرست رہی اور نا ہی کبھی انھوں نے کسی کو ان کے مذہبی عقائد کی بنیاد پر نفرت کا نشانہ بنایا ہے۔ اگر یہ قوم تاریخی طور پر جنونی اور متشدد ہوتی تو اس کے جغرافیہ پر ہزاروں سالہ قدیم بشر دوستی اور امن کی آشا کی طلب گار تہذیبیں جنم نہ لیتیں۔ موجودہ وقت میں اس قوم کا جو تشخص بنایا گیا ہے تاریخ سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔ 

 

اکیسویں صدی میں پارلیمان کی ضرورت، طرز سیاست اور فوائد سے انکار ایک حماقت ہے یا یہ بیانیہ دینا کہ پارلیمان ہماری قومی مشکلات کا مداوا نہیں کر سکتی ایشیاء کے حقائق اور وجودیت سے انکار ہے، جو اپنے آپ پوری قوم کو لاادریت کی گھاٹی میں دھکیلنا ہے اور یہی رویہ درحقیقت اپنی قومی تاریخ سے ناواقفیت کی دلیل ہے  کیونکہ دنیا کی سیاست کا منہج پارلیمان کے اس مہذب طرز حکمرانی تک پہنچتے پہنچتے بہت سے نشیب و فراز سے گزر کر یہاں پہنچا ہے۔ سوال یہ نہیں کرنا چاھئے کہ ہمیں پارلیمانی سیاست میں آنا چاہئے یا نہیں بلکہ سوال دراصل اپنی قومی تاریخ اور اپنی قومی مشکلات کے حل کے حوالے سے کرنا چاہیے کہ ہمیں کب پارلیمانی سیاست میں آنا چاہئے۔ اس سوال اور اس کے تسلی بخش جواب کیلئے آپ کو اپنی قومی تاریخ سے آگاہی اور رہنمائی حاصل کرنا ہو گی۔ سوشل میڈیا پر شوشے چھوڑ کر مغرب کی یخ بستہ ہواؤں میں بیٹھنے والے اس قوم کے حقیقی کرب سے آگاہ نہیں ہیں، گفتار اور کردار کے غازیوں میں بہت فرق ہوتا ہے۔ یہ سوال ہماری قومی تاریخ اور قومی تحریک کی تاریخی جدوجہد کے حوالے سے ہمارے سامنے ایک تصفیہ شدہ شکل میں موجود ہے کہ پارلیمانی سیاست کیا ہے اور قوم کے مسائل کو کس حد تک حل کر سکتی ہے۔

 

26 جولائی 1986 کو کراچی میں ایک بڑے کنونشن میں قومی جمہوری پارٹی (NDP) دوسری سیاسی جماعتوں اور دھڑوں سے مل کر ایک پارٹی بن گئی اور ایک نئی جماعت تشکیل دی گئی جس کا نام عوامی نیشنل پارٹی رکھا گیا۔ ولی خان لکھتے ہیں کہ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ)، جس پر بھٹو کے دور میں پابندی لگائی گئی تھی، اس نام کو آگے پیچھے کر کے یہ نیا نام رکھا گیا۔ خان  عبدالولی خان اس جماعت کے پہلے مرکزی صدر جبکہ لاہور سے تعلق رکھنے والے قوم پرست رہنما سردار شوکت علی پہلے جنرل سیکرٹری منتخب کئے گئے۔ پہلے صوبائی صدر سوات کے افضل خان لالا جبکہ سالار احمد علی پہلے صوبائی سالار تھے۔ درحقیقت یہ جماعت پختون سرزمین پر کوئی نوزائیدہ تحریک نہیں ہے بلکہ کئی صدیوں تک اس کی جڑیں اپنے قومی حافظہ و تاریخ کی درست سمت کے ساتھ لگی ہوئی ہیں۔ 

 

اس خطے کی معلوم تاریخ میں پختونوں کی پہلی قومی تحریک جس نے اس وقت کے استعمار مغل کے ساتھ براہ راست ٹکر لی تھی بایزید روخان کی سربراہی میں اٹھی تھی جو تقریباً ایک صدی تک مغل استعمار کے خلاف اپنی سرزمین کے تحفظ کیلئے لڑتی رہی اور ہزاروں کی تعداد میں پختون اپنی دھرتی پر قربان ہوئے تھے۔ اسی تحریک کی برکت سے پختو ادب کو بڑے بڑے شعرا ملے جنہوں نے آج تک اس تحریک کی روح کو زندہ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ اس کے بعد خوشحال خٹک کی شکل میں 1667  کے بعد ایک بار پھر پختون اٹھتے ہیں اور خوشحال خٹک، دریا خان آپریدے اور ایمل خان مومند کی قیادت میں مغل کو ناکوں چنے چبواتے ہیں۔ خوشحال خٹک پختون قومیت اور اپنی مٹی کی آزادی کی خاطر اپنی شاعری میں پہلی بار قومی احساسات و جذبات کی ترجمانی کا حق ادا کرتے ہیں جن کے اشعار آج بھی پختون بڑے افتخار کے ساتھ اپنی قومی جدوجہد کیلئے بطور دلیل کے بیان کرتے ہیں۔
د افغان پہ ننگ می اوتڑلہ تورہ
ننگیالے د زمانے خوشحال خٹک یم
ایک اور جگہ پختون وطن کے تاریخی جغرافیہ کے حوالے سے کہتے ہیں۔
درست پختون لہ قندہارہ تر اٹکہ
سرہ یو د ننگ پہ کار پٹ او اشکار
اور ایک اور جگہ فرمایا کہ، ع
سر یی ہوری قندہار بل یی دمغار دی
تر دا مینز ہمہ میشتہ واڑہ عبث دی
اٹھارہویں صدی کی ابتدا میں1709  کو  قندھار میں جب میرویس خان ہوتک بابا نے ایرانی جرنیل گورگین کو مارکر حکومت بنائی تو یہ جدید متمدن دنیا میں پختونوں کی بحیثیت قوم زبردست اٹھان تھی جس کے تسلسل  کو1747  میں احمد شاہ ابدالی کی شکل میں ایک زبردست رھبر ملتا ہے۔ احمد شاہ ابدالی پہلی بار پختونوں کے قبائلیت پر مبنی منتشر و غیر سیاسی وجود کو ایک قومیت میں بدل دیتے ہیں اور پختونوں کے افتخار کا عروج دہلی تک پہنچتا ہے۔ پختونوں کے وطن پر اپنے پیر میاں عمر ترکھانڑی کے مشورے پر تاریخ میں پہلی بار ''افغانستان'' کا نام رکھتے ہیں جو تقریباً تین سو سال سے آج تک زندہ وتابندہ ہے۔ جب فرنگی کا راج پورے برصغیر پر قائم ہوتا ہے اور اس کا عروج انیسویں صدی کے اختتام پر اپنی انتہا کو پہنچتا ہے تو پختون سرزمین پر ایک ایسی شخصیت جنم لیتی ہے جو قوموں کی تاریخ میں ہزاروں سال میں بھی کبھی پیدا نہیں ہوتی جس کا نام خان عبد الغفار خان ہے اور پختون قوم ان کو پیار سے باچا خان یعنی بغیر تاج کے اپنی تاریخ کا حقیقی بادشاہ مانتی ہے، جن کی بادشاہی قوم کے سروں پر زور زبردستی  کے بجائے ان کے اذہان اور ان کے دلوں پر ہوتی ہے۔ انجمن اصلاح الافاغنہ اور خدائی خدمت گار تحریک ہی دراصل پیر روخان اور خوشال خٹک کی خوابوں کی تعبیر تھی جنہوں نے عدم تشدد کے فکر پر سیاسی وسائنسی تنظیم کے وجود پر اپنی قوم کو قومی شعور دیا، ان کو اپنی تاریخ سے جوڑ دیا، ان میں اپنی مٹی سے محبت کا جذبہ ابھارا، اپنے وسائل اور حقوق سے آگاہی دلائی اور ساتھ ہی تشدد کے بجائے عدم تشدد کے اصولوں پر سیاسی جدوجہد پر قوم کا اعتماد بحال کیا اور اصلاح معاشرے کیلئے عملی کام کیا۔ 



مقدونیا کے سکندر اعظم سے لے کر چنگیز خان، عربوں سے لے کر مغل، فرنگ یا پھر اس کا موجودہ مکار مذہبی انتہاپسندانہ روپ، موجودہ مسلط شدہ مذہبی جنونیت پشتون قوم کی تاریخ نہیں ہے کیونکہ اسلام کے مقدس دین کے ساتھ تو پختون زمانوں سے جڑے ہیں مگر موجودہ ماحول عالمی استعمار اور اس خطے کی مصنوعی قوتوں کی اپنے مذموم مقاصد کے حصول کیلئے اختراع ہے جس میں استحصال پختونوں کی اجتماعی بے حسی کی وجہ سے اسلام اور پشتون ولی کا کیا گیا ہے




چونکہ تشدد ایک وقتی ردعمل ہوتا ہے جن سے جڑے رہنما بھی ہمارے ہیروز ہیں مگر فرنگی استعمار نے اس خطے میں جو نفرت وانتشار کے بیج بوئے تھے اس کا مقابلہ مختلف الجہات جدید متمدن سیاسی اور سائنسی اپروچ سے ہی ممکن تھا اور فقط عدم تشدد کا نظریہ و عمل ہی ہے جس میں ہار کبھی نہیں ہوتی۔ اس سو سالہ تحریک نے سینکڑوں کی تعداد میں قومی سیاسی لیڈرز اور مایہ ناز ادیبوں کو جنم دیا ہے اور یہ تسلسل ہنوز جاری ہے۔ انگریز یہاں سے چلا جاتا ہے، آزادی کے بعد قوم کے حقیقی ہیروز بشمول باچا خان کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے مگر ان کے ساتھی پھر بھی عدم تشدد اور سیاسی بیداری کے ذریعے قومی حقوق کیلئے اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ باچا خان کے ساتھ پختونوں کو ولی خان کی شکل میں ایک اور دلیر اور جہاندیدہ شخصیت مل جاتی ہے۔ آٹھ فروری1975  کو ان کی جماعت نیشنل عوامی پارٹی پر حیات شیرپاؤ کے قتل کے بعد دوسری بار پابندی لگائی جاتی ہے مگر وہ اپنا سیاسی سفر جیل کی صعوبتوں کے ساتھ جاری رکھتے ہیں۔ این ڈی پی کے پلیٹ فارم سے ملک گیر شخصیت بن جاتے ہیں اور پھر1986  میں اپنی صدیوں قومی تاریخ کی امانت کی خاطر ایک نئی جماعت عوامی نیشنل پارٹی کی بنیاد رکھتے ہیں، ولی خان اس کے پہلا صدر بن جاتے ہیں اور یہ سفر  آج تک رواں دواں ہے۔

 

اس جماعت کے مرکزی صدور اب تک یہ بڑے سیاسی رہنما رہے ہیں۔ 1986تا 1990 عبدالولی خان، 1991تا 1999 اجمل خٹک، 1999تا 2002 اسفند یار ولی خان، 2002 2003 احسان وائن، 2003 تا 2007 اسفند یار ولی خان اور 2007 سے تاحال اسفند یار ولی خان اس جماعت کے سربراہ ہیں۔ منزل کی جانب اس سفر کے راستے میں بے شمار مشکلات آئی ہیں، ہزاروں لوگوں کو قومی شعور کی وجہ سے اور قومی حقوق کیلئے آواز اٹھانے کی وجہ سے شہید کیا گیا ہے، کئی دہائیوں سے لے کر آج تک پختون خطے کے حوالے سے بیباک قومی موقف اپنانے پر اس جماعت کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ تختہ مشق بنائے ہوئی ہے مگر یہ اپنے اصولی موقف سے ایک انچ پیچھے ہٹنے والے نہیں۔ قیدو بند کی صعوبتیں آئی ہیں، غدار، ملک دشمن، روس اور امریکہ کے ایجنٹ، ھندو نواز اور نہ جانے کتنی تہمتیں ان پر لگائی گئیں مگر تاریخ میں آج بھی قوم کے حقیقی خیرخواہ اور اس دھرتی کے سچے وفاداروں کی صف میں کھڑے ہیں۔



کئی دہائیوں سے لے کر آج تک پختون خطے کے حوالے سے بیباک قومی موقف اپنانے پر اس جماعت کو پاکستانی اسٹیبلشمنٹ تختہ مشق بنائے ہوئی ہے مگر یہ اپنے اصولی موقف سے ایک انچ پیچھے ہٹنے والے نہیں، قیدو بند کی صعوبتیں آئی ہیں، غدار، ملک دشمن، روس اور امریکہ کے ایجنٹ، ھندو نواز اور نہ جانے کتنی تہمتیں ان پر لگائی گئیں مگر تاریخ میں آج بھی قوم کے حقیقی خیرخواہ اور اس دھرتی کے سچے وفاداروں کی صف میں کھڑے ہیں


جب آپ حق بات کرتے ہیں، قوم کی درست سمت میں رہنمائی کرتے ہیں تو یہ بہتان تراشیاں آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں کیونکہ کون غدار ہے اور کون وفادار یہ فیصلہ کسی جابر کا اختیار نہیں ہوتا بلکہ یہ آنے والی تاریخ کا اختیار ہوتا ہے۔ ان تمام تر مسائل و مصائب کے باوجود یہ کارواں اور اس کا سفر آج بھی بڑے منظم جماعتی ڈھانچے، جدید سائنسی دنیا کی ضروریات اور لوازمات سے باخبر ہو کے پختونوں کے قومی حقوق کے حصول کی خاطر جاری وساری ہے، بہت سے سنگ میل عبور کئے گئے ہیں جن میں اپنے وطن کا تاریخی نام پختونخوا، اٹھارہویں ترمیم میں صوبائی مختاری کا مقدمہ، پاکستان کے اندر قومی وحدت اور فرنگی سامراج کی ایک لکیر ''فاٹا'' کا خاتمہ اور مزید لکیروں کا خاتمہ شامل ہے۔ امید ہے مزید اہداف کا حصول بھی ممکن بنایا جائے گا۔یہ جماعت صدیوں پرانی قومی تحریک کا تسلسل اور اس کی جدید متمدن شکل اور اس جدوجہد کی امین ہے اس لئے اپنی مٹی اور تاریخ کی خاطر ہر پختون پر حق بنتا ہے کہ وہ اس قومی تحریک کو سپورٹ کرے، وقت کے ساتھ اس کی اصلاح کرے کیونکہ قوم کا لشکر ہر کسی کا ہوتا ہے۔ اگر آج بھی  کسی بھی قومی مسئلے پر فی الفور بغیر لگی لپٹی کوئی ردعمل آتا ہے تو وہ اسی جماعت کا آتا ہے۔ یہ قومی تحریک قومی حقوق کے حصول کی خاطر اپنا آئین، منشور اور اس کی عملی تعبیر کیلئے ایک منظم سیاسی اور سیاسی تربیت سے لیس لاکھوں افرادی قوت اور ڈھانچہ رکھتی ہے، قومی سیاسی شعور کی آبیاری کیلئے اپنے ادارے رکھتی ہے اور اپنی ایک صدی کی جدوجہد اور روایات کے آئینے میں پارلیمانی سیاست کو اس قوم کی فلاح کیلئے ایک درست راستہ سمجھتی ہے۔ 

 

اس جماعت اور اس کے مستقبل کے  حوالے سے ڈاکٹر خادم حسین لکھتے ہیں: اے این پی تشدد اور ہر قسم کی انتہاپسندی کے خلاف ایک واضح موقف کے ساتھ مضبوطی سے ڈٹی کھڑی ہے، پارٹی کا اجتماعی عقیدہ ہے کہ مکالمہ ومذاکرہ تمام مسائل کے حل کا بہترین ذریعہ ہے۔ اے این پی جمہوریت کے استحکام، سیاسی شعورکے فروغ، قانون کی بالادستی اور انصاف تک رسائی کو ممکن بنانے کا عہد کرتی ہے۔ پارٹی پرامن، ترقی پسند اور ایک آزاد معاشرے کے قیام کے لئے جدوجہد کرے گی۔ اے این پی متعصبانہ قومیت، گروہ، جنس، مذہب، نسل، طبقہ اور عقیدہ سے بالاتر تمام شہریوں کے لئے انسانیت کے عقیدے پر مساویانہ حقوق اور مواقع کی فراہمی پر کامل یقین رکھتے ہوئے تمام خود ساختہ امتیازی قوانین اور متنازعہ اصولوں کی نفی کرے گی۔ خواتین، ضعیف العمر اور معذور افراد، مخنث افراد، مذہبی اور نسلی اقلیتوں کو مکمل تحفظ کی ضمانت فراہم کرے گی۔ اے این پی مذہب، روایات اور رواج کی غلط تشریح کی مخالفت کرتی ہے اور غیروں سے نفرت، مذہبی انتہاپسندی اور دہشتگردی جیسے مہلک رویوں کا سدباب کرے گی جو نہ صرف معاشرہ میں گھٹن کا باعث بنتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر کسی ملک کو تنہائی کا شکار بھی کر دیتے ہیں۔  اے این پی باچا خان کے انسانی وقار کے نظریے اور اقدار کی عظمت، پلورل ازم، مقامی اور قومی دانش و شناخت کے فلسفے کو مشعلِ راہ  بنا کر رکھے گی۔ اے این پی سمجھتی ہے  بالکل کہ سیاسی، معاشی اور معاشرتی میدان میں پاکستان کے ہرشہری کو مساوی حقوق اور مواقع ملنا اس کا حق ہے۔ اے این پی دفاع، امورِ خارجہ، کرنسی، مواصلات اور مشترکہ مفادات کونسل کے واضح کردہ محکموں اور اداروں کا مرکز کے ساتھ ہونے کے علاوہ مکمل صوبائی خودمختاری پر یقین رکھتی ہے۔ پارٹی اٹھارہویں آئینی ترمیم کے اطلاق کو یقینی بنائے گی بالخصوص معدنیات، تیل، گیس، پانی و بجلی، توانائی کے مختلف ذرائع اور صحت و تعلیم کے سلسلے میں مستعد اور سرگرمِ عمل رہے گی۔ اے این پی صوبوں اور اضلاع کو متعلقہ امور میں بااختیار بنانے کے لئے منصوبہ بندی اور متعلقہ لائحہ عمل طے کرنے کے لئے سرگرم رہے گی۔ اے این پی اعلی تعلیم اور مالیاتی امور دونوں کے لئے صوبائی کمیشن کے قیام کو ہر ممکن طریقہ سے یقینی بنائے گی۔ اے این پی تمام وفاقی اکائیوں اور قوتوں کی مکمل سیاسی، معاشرتی اور معاشی حقوق کو بطور مساوی شراکت دار کے تحفظ دے گی اور اجتماعی  ترقی اور خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کرنے کیلئے بھرپور ساتھ دے گی۔ اے این پی چاروں صوبوں، سرائیکی بیلٹ اور گلگت بلتستان کے لوگوں کے انفرادی و اجتماعی حقوق اور شناخت کی حفاظت کو یقینی بنانے، آزادانہ طور پر ان کی ثقافتی اور لسانی نشونما اور ترقی کو یقینی بنانے کے لئے پرعزم ہے۔ اے این پی پاکستان کے اندر پختونوں کو متحد کرنے اور قومی دھارے میں لانے کے لئے نوآبادیاتی استعماری تقسیم کو آئینی  ترامیم کے ذریعے ختم کرے گی۔ خیبر پختونخوا کے ساتھ قبائلی علاقہ جات کے ادغام کے لئے طویل تاریخی جدوجہد کو نتیجہ خیز بنانے کے بعد اب اے این پی خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے پختونوں کے درمیان غیرفطری جغرافیائی تقسیم کو ختم کر کے پاکستان میں پختونوں کی ایک وحدت بنانے کے لئے ہر ممکنہ سیاسی و آئینی جدوجہد کرے گی۔ اے این پی کا سرخ جھنڈا ہے کوئی جھنڈا کفر اور اسلام کا نہیں ہوتا، سب رنگ خدا نے پیدا کئے ہیں، پرچم کا مطلب علامت یا نشان ہوتا ہے اور سب سے پہلے اس کا استعمال گروہوں کے مابین جنگوں میں فوجوں کی شناخت کے لیے کیا جاتا تھا لیکن اب یہ ہر ملک، پارٹی اور قوم کا شناختی نشان ہے۔ 

 

ولی خان لکھتے ہیں کہ سرخ جھنڈے کا کمیونزم سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی یہ نشان1917  کے بالشویکوں کے سرخ نشان اختیار کرنے کے تاثر میں اختیار کیا گیا ہے بلکہ یہ غریب مزدور اور پسے ہوئے طبقے کی قربانیوں کی علامت ہے۔ آج بھی پختون قوم اور ان کا وطن استحصال کا شکار ہے۔ آج بھی مختلف قسم کے عفریت پختونوں کا خون چوس رہے ہیں، یہ جھنڈا جو قوم کے مظلوموں کے خون کی قربانی سے سرخ ہوا ہے اور یہ سرخ نشان شگاگو میں1886  کے مزدوروں کے قتل عام کے بعد دوسرے مزدورں نے اپنے مارے گئے ساتھیوں کے خون سے اپنے کپڑے رنگین کرکے اختیار کیا تھا۔ اگر سرخ جھنڈا کفر کا ہے تو کربلا کے میدان میں امام حسین کا علم سرخ نہ ہوتا، رسول اللہۖ ''حل الحمرا'' (سرخ چادر)  کی تعریف نہ کرتے، عن البرا بن عازب رضی اللہ عنہما، قال: ان النبی صل اللہ علیہ وسلم ''رایتہ فی حلة حمرا، لم ار شیئا قط احسن منہ'' برا بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ ایک سرخ جوڑے میں دیکھا۔

 

میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر حسین کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ اسی طرح بیشمار اسلامی ممالک کے جھنڈوں میں سرخ رنگ کا امتزاج نہ ہوتا اور ترکی میں برسرِ اقتدار اسلام پسند طیب اردوان کی اسلامی جماعت کا جھنڈا مکمل طور پر سرخ نہ ہوتا، کفر کا یہ نعرہ افغان وار کے دوران کچھ سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے لگایا گیا باقی اس میں رتی بھر کوئی تاریخی مذہبی حقیقت نہیں۔ 

 

اے این پی ایک قوم پرست اعتدال پسند حقیقت جماعت ہے جو عدم تشدد کے مفکورہ پر سیاسی شعور اور قومی حقوق کے حصول کی قائل ہے، ہر طرح کی مذہبی انتہاپسندی اور جبر کیخلاف ہے۔ اس کی ساری جدوجہد پشتونوں کے قومی حقوق اور محکوم و مظلوم طبقات کے معاشی، سیاسی غرض ہر طرح کے تحفظ کیلئے کے لیے مرکوز رہی ہے، نسل، رنگ اور جنس سے بالاتر ہو کر تمام شہریوں کے مساوی حقوق کی علمبردار ہے، خطے میں اسلحہ کے انباروں اور حربی دوڑ کی سخت مخالف، انتظامی امور میں عسکری مداخلت کی سخت ترین ناقد اور عسکری بجٹ میں کٹوتی کی خواہاں ہے تاکہ بجٹ کو عوام کی مزید فلاح و بہبود کے لیے خرچ کیا جا سکے، صوبائی خود مختاری اور18 ویں ترمیم پر عملدرآمد کی مکمل حامی اے این پی اس امر پر یقین رکھتی ہے کہ سرکاری افسر کو کسی دوسرے صوبے میں تعینات کرنے سے پہلے صوبائی حکومت سے اجازت طلب کی جائے، اس کے ساتھ ساتھ عوامی نیشنل پارٹی جمہوری نظام کے استحکام پر یقین رکھتی ہے اور پڑوسی ممالک کے ساتھ حقائق پر مبنی آزاد خارجہ پالیسی کی حامی ہے، بھارت اور افغانستان سمیت تمام پڑوسی ممالک سے دوستانہ تعلقات قائم کرنے کی علمبردار اور ملک کے داخلی معاملات میں کسی بھی قسم کی دخل اندازی کی شدید مذمت و مزاحمت کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔

 

عوامی نیشنل پارٹی کی سیاسی جدوجہد کا سرچشمہ فیض و الہام، فخرِ افغان باچا خان کی زندگی ہے۔ باچا خان اپنی زندگی میں ہمیشہ امن پسندی، عدم تشدد اور پلورل ازم کے رہنما اصولوں پر کاربند رہے اور زندگی آزادی کے حصول، ناانصافی، استحصال، جبر، غیرمساوی سلوک اور ظلم کے خلاف جدوجہد میں گزاری۔ باچا خان اور ان کے ساتھی خدائی خدمتگاروں نے جنوبی ایشیاء کی آزادی کے لئے برطانوی سامراج اور نوآبادیاتی قوتوں کے خلاف ہر میدان میں ہراول دستے کا فریضہ انجام دیا اور بیش بہا قربانیاں دیں جو حق، سچ اور انصاف کے متلاشیوں کے لئے مشعل راہ ہیں۔