اے این پی مضبوط بلدیاتی نظام دیکھنا چاہتی ہے، میاں افتخار

اے این پی مضبوط بلدیاتی نظام دیکھنا چاہتی ہے، میاں افتخار

نوشہرہ ۔۔۔عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ عوامی نیشنل پارٹی عوام کو اختیار مند بنانے کیلئے بلدیاتی نظام کو مضبوط دیکھنا چاہتی ہے۔ موجودہ حکومت بلدیاتی نظام سے ضلعی حکومتوں کا خاتمہ کرکے عوام کو بےاختیار رکھنا چاہتی ہے۔ اپنی نااہلی کی وجہ سے پی ٹی آئی کی حکومت بلدیاتی انتخابات سے بھاگ رہی ہے۔ اپنی نااہلی کی وجہ سے پی ٹی آئی حکومت بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار ڈھونڈ رہی ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اپنے مفادات کیلئے عوامی سیاسی پارٹیوں کو کمزور کرتی ہیں اور سلیکٹڈ حکمرانوں کواقتدار پر مسلط کرتی ہے۔

 

پبی میں بلدیاتی انتخابات بارے کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتخار حسین نے کہا کہ حکومت کی ناکام معاشی اور اقتصادی پالیسیوں  نے عوام کو مہنگائی اور بے روزگاری کے بحران سے دوچار کردیا ہے۔ آج بنگلہ دیش جیساملک بھی معاشی ترقی میں پاکستان سے آگے ہے۔ ماضی میں بھی حکومتوں نے قرضے ليے ہیں، جتنی بدحالی  موجودہ دور حکومت میں آئی ہے اسکی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ روپیہ کے مقابلے میں ڈالر آسمان سے باتیں کر رہا ہےاور ناکام معاشی پالیسیوں کی بدولت روپیہ کی قدر مزید گر رہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ بدحالی کی ذمہ دار تحریک انصاف کی نااہل اور سلیکٹڈ حکومت ہے۔ معاشی انقلاب لانے کے دعوے کرنے والوں نے ملک کا معاشی پہیہ جام کردیا ہے۔کارخانے بند پڑے ہیں اور ایکسپورٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ سرمایے کی گردش بند ہوگئی ہے اور غریب مزدور بے روزگار ہوگئے ہیں۔

 

میاں افتخارحسین نے کہا کہ پاکستان کوعملی طور پر آئی ایم ایف کیساتھ گروی رکھ دیا گیا ہے۔آئی ایم ایف سے ایسی شرائط پر معاہدے کئے گئے ہیں کہ ملکی سرمایے کا نظام انکے ہاتھوں میں چلا گیا ہے۔ ٹیکسز اور قیمتوں میں اضافہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی ایماء پر کیا جارہا ہے۔ سٹیٹ بینک جیسے ادارے کو بھی مالیاتی اداروں کے سپرد کردیا گیا ہے اور گورنر کو ہر قسم کے تحقیقات سے استثنی کیلئے چور دروازے سے قانون سازی کی گئی۔ گورنر سٹیٹ بینک کو ایسی راہ فراہم کی گئی کہ وہ  عوام کی بجائے مالیاتی اداروں کی خوشنودی کیلئے کام کرے گا۔

 

انہوں نے کہا کہ پٹرول، چینی، گیس، بجلی اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں حالیہ ہوشربا اضافہ موجودہ حکومت کی نالائقی کا ثبوت ہے۔ ملکی تعلیمی اداروں کی نجکاری کرکے غریب طلباء و طالبات کو تعلیم کے حق سے محروم رکھنے کی سازش کی جارہی ہے۔ ملک اور بالخصوص خیبر پختونخوا میں ایم ٹی آئی قانون کی مدد سےہسپتالوں کی نجکاری کی جارہی ہے اور عوام کو صحت جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم رکھا جارہا ہے۔

 

انہوں نے مزید کہا کہ عوامی نیشنل پارٹی نے صوبائی خودمختاری اور اٹھارہویں آئینی ترمیم کی شکل میں عوام کو تحفہ دیا۔ آج اٹھارہویں آئینی ترمیم کی راہ میں رکاوٹیں حائل کی جارہی ہیں۔  صوبے میں نااہل حکمران پچھلے نو سالوں سے صوبے کو اسکے حقوق کی فراہمی میں ناکام ہے۔ اے این پی نے اپنے دور حکومت میں این ایف سی ایوارڈ کی شکل میں مرکز سے صوبے کے حقوق حاصل کئے۔ صوبے اور مرکز میں ایک ہی جماعت حکمران ہے لیکن مرکز صوبے کے حقوق دینے سے انکاری ہے۔

 

میاں افتخار حسین نے کہا کہ پچھلے الیکشن میں عوامی نیشنل پارٹی کی جیت کو ہار میں تبدیل کیا گیا۔  ووٹ چوری کرکے عوامی نمائندوں کو پارلیمان سے باہر اور سلیکٹڈ حکمرانوں کو اقتدار پر مسلط کیا گیا۔حالات کا تقاضہ ہے کہ عوام موجودہ نااہل حکومت سے چھٹکارہ حاصل کرے۔ بلدیاتی انتخابات عوام کے پاس موقع ہےسلیکٹڈ اور سلیکٹرز کو مسترد کردیں اور اپنے حقیقی نمائندوں کو منتخب کرے۔