اے این پی پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان کا نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے نام کھلا خط 

اے این پی پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان کا نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے نام کھلا خط 

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے نام کھلے خط میں نومنتخب آرمی چیف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں اداروں میں تقرریاں روٹین کی باتیں ہیں لیکن جب تک فوج کے سربراہ کا اعلان نہیں کیا گیا تھا، ملک کا نظام تعطل کا شکار رہا، اس سے آپ اندازہ لگا لیں کہ یہ عہدہ پاکستان میں کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔

 

ایمل ولی خان نے اپنے خط میں امید ظاہر کی ہے کہ بطور سربراہ بری فوج آپکی تین سالہ ملازمت پاکستان کے تابناک مستقبل کا ضامن ہوگا-

 

 ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ جانیوالے آرمی چیف نے کہا ہے کہ فروری میں فیصلہ کیا کہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے، سیاسی مداخلت کے حوالے سے اعتراف پر ضروری ہے کہ ٹرتھ کمیشن بنایا جائے، ٹرتھ کمیشن تحقیقات کریں کہ کسے بنایا گیا اور کس طرح ملکی پارٹی کو صوبائی یا علاقائی پارٹی میں تبدیل کیا گیا،کمیشن 1947 سے 2022 تک عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ، کسے مضبوط یا کمزور کیا گیا، کی تحقیقات کریں، 

 

ایمل ولی خان نے مزید لکھا ہے کہ لفظ نیوٹرلٹی کو ختم اور عہد کرنا ہوگا کہ سب نے آئین پر چلنا اور آئین کو صدق دل سے مقدس ماننا ہے، آئین پر عملدرآمد ہوگا تو لفظ نیوٹرل، نیوٹرلٹی خود بخود مٹ جائیں گے، 

 

صوبائی صدر اے این پی نے اپنے خط میں یہ امید بھی باندھی ہے کہ امید ہے جوماورائے آئین اختیارات ادارے نے گروی رکھے ہیں، وہ صدر زرداری دور کی طرح عوام اور عوامی نمائندوں کو منتقل ہوں گے، امید ہے ملک کی خارجہ پالیسی بنانے کا اختیار کچھ افسران کی بجائے عوامی نمائندوں کو ہوگا، یہ بھی امید ہے کہ پاکستان کے پارلیمان کو آزادانہ طور پر بجٹ بنانے کا اختیار ملے گا،

 

 انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ آپکے دور میں ملک میں کوئی مقدس گائے نہیں ہوگا، دفاعی پالیسی کا اختیار پارلیمان کو ہوگا، امید ہے آپکے دور میں اسی پالیسی کے نتیجے میں دہشتگردوں کا راستہ روکا جائیگا، امید ہے اس دور میں الیکٹورل اور سیاسی انجنیئر نگ نہیں ہوگی، غیرسیاسی ادارہ سیاسی کردار ادا نہیں کرے گا،  جو کارخانہ پارٹیز اور الیکٹبلز پیدا کرتی ہے، امید ہے وہ کارخانہ ہمیشہ کیلئے بند ہوجائیگا، 

 

ایمل ولی خان نے اپنے خط میں نئے آرمی چیف سے بحیثیت سیاسی کارکن یہ توقع بھی ظاہر کی ہے کہ عوام کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک بھی بند ہوگا، امید ہے ملک کے ذمہ دار شہری کے ناطے لاپتہ افراد کا مسئلہ آپکے دور میں حل ہوجائیگا، توقع ہے کہ مظلوم قومیتوں کو نالیوں، نہروں سے انکے پیاروں کے تشدد زدہ لاشیں  نہیں ملے گی،

 

 ایمل ولی خان نے اپنے خط میں ملک اور نئے سربراہ کو درپیش چیلنجز کا بھی ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ انہیں اندازہ ہے کہ آپکو کئی چیلنجز کا سامنا ہے لیکن آپکا عزم ان مسائل کو شکست دے سکتا ہے،

 

 انہوں نے لکھا ہے کہ یہ پاکستان میں قرار دیے جانیوالے غدار، ابن غدار، ابن غدار، ابن غدار کی التجا ہے کہ آئیے پاکستان کو مستحکم، خوشحال، حقیقی معنوں میں آزاد، روشن فکر اور ترقی پسند ملک بنائیں، ایسا ملک جہاں ہر قوم اور قبیلے کو جینے کا حق اور اپنے وسائل پر اختیار حاصل ہوگا