''ہماری عدلیہ آزاد نہیں''

''ہماری عدلیہ آزاد نہیں''

تحریر: مولانا خانزیب

پاکستان میں عدلیہ کتنی آزاد ہے عالمی سطح پر دیگر اداروں کی تنزلی کے ساتھ ہم عوام کو انصاف کے حوالے سے کتنے اور کس درجہ قعر مذلت میں گرے ہیں اس کیلئے دور کی کوڑیاں لانے کے بجائے چند دن پہلے پارلیمانی کمیٹی کی میٹنگ کے دوران بلاول بھٹو اور آرمی چیف کے درمیان چند جملوں کا تبادلہ ہی کافی ہے۔ پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی کے اجلاس کی میٹنگ کا مقصد ملکی سیکیورٹی پالیسی کی اونر شپ لینا تھا۔ اس میٹنگ کے دوران دیگر بہت سے ایشوز کے ساتھ علی وزیر کی جیل یاترا کا معاملہ بھی زیرِ غور آیا۔ بلاول بھٹو نے علی وزیر کو معاف کرنے کا کہا تو آرمی چیف نے جواب دیا کہ ایسا مسئلہ نہیں، علی وزیر کو معافی مانگنا ہو گی، میرے خلاف ایاز صادق اور نواز شریف نے بات کی، ہم نے برداشت کی، ذات پر بات کرنا اور معاملہ ہے جبکہ  فوج کے خلاف بات کرنا اور بات ہے، فوج پر تنقید برداشت نہیں کریں گے۔ کسی بھی ریاست کے بنیادی ڈھانچے میں چار چیزیں اہم ہوتی ہیں: انتظامیہ، مقننہ، عدلیہ اور میڈیا۔ جدید ریاستوں کی ہئیت ترکیبی میں یہ چاروں بنیادی ستون کہلائے جاتے ہیں کیونکہ اگر ان چار میں سے ایک بھی نہ ہو تو ریاست کا نظم و نسق چلایا ہی نہیں جا سکتا۔ حضرت علی کا اہم قول ہے کہ سماج کفر پر تو زندہ رہ سکتے ہیں مگر ناانصافی پر ہرگز نہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب چرچل سے کسی نے پوچھا تھا کہ جنگ کی اتنی تباہ کاریوں کے بعد اب برطانیہ کا کیا بنے گا؟ تو اس کے جواب میں چرچل نے خود ایک سوال پوچھنے والے سے کیا تھا کہ کیا برطانیہ میں عدالتیں انصاف کر رہی ہیں؟ اس کے جواب میں کہا گیا تھا کہ ہاں عدالتیں انصاف کر رہی ہیں تو چرچل نے کہا کہ جب عدالتیں انصاف کر رہی ہیں تو برطانیہ کو کچھ نہیں ہو گا۔ گویا کسی بھی سماج کی تباہی میں بڑا کردار نا انصافی ہی کا ہوتا ہے، ایک روایت یہ بھی کہ مشہور ہے، چینی دانشور کنفیوشس سے کسی نے پوچھا کہ اگر کسی قوم کے پاس تین چیزیں ہوں، انصاف، معیشت اور دفاع، بہ امر مجبوری کسی چیز کو ترک کرنا مقصود ہو تو کس کو ترک کیا جائے، فلسفی نے کہا دفاع ترک کر دو، سوال کرنے والے نے پوچھا انصاف اور معیشت میں سے کسی ایک کو چھوڑنا لازم ہو جائے تو کیا کیا جائے، چینی فلسفی نے جواباً کہا کہ معشیت ترک کر دو، اس جواب پر سوال کرنے والے نے پھر کہا کہ دفاع اور معشیت چھوڑنے پر قوم بھوکوں مر جائے گی اور دشمن حملہ کر دے گا؟ کنفیوشس نے کہا ایسا ہرگز نہیں ہو گا بلکہ انصاف کی وجہ سے قوم کو اپنی حکومت پر اعتماد ہو گا، لوگ پیٹ پر پتھر باندھ کر دشمن کا مقابلہ کر لیں گے۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق ایڈیشنل جج خاور شاہ نے کہا ہے ہمارے بہت سے قوانین انگریز دور کے بنائے ہوئے ہیں جو موجودہ دور سے مطابقت نہیں رکھتے، مقدمے سول ہوں یا فوجداری کے ان میں بہت زیادہ وقت لگ جاتا ہے، ججوں کی تعداد کم ہے جس کے باعث زیر التوا مقدمات کا انبار لگا رہتا ہے۔ پاکستان سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر قاضی انور نے کہا انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ انصاف ہوتا ہوا نظر آئے۔ پاکستان میں عام آدمی کے لیے انصاف کا حصول خواب ہی ہے، جہاں مقدمے کا فیصلہ آنے میں پندرہ سے بیس سال لگ جاتے ہیں۔ مدعی انصاف مانگتا ہی مر جاتا ہے۔ ملک میں لاکھوں مقدمات زیر التوا ہیں۔ قاضی انور کے مطابق ہماری عدلیہ آزاد نہیں کیونکہ آزاد اور خودمختار فیصلے نظر نہیں آ رہے۔ جسٹس عزیز صدیقی اور فائز عیسی کے خلاف غیرآئینی ری ایکشن اس مداخلت کی کھلی مثالیں ہیں۔ قاضی فائز عیسی کیس کو ہی لے لیں، سب سمجھ آ جائے گا کہ کیا ہو رہا ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ ہم عالمی رینکنگ میں ابھی کہیں بھی نہیں۔ پاکستانی نظام عدل تب کہیں کھڑا ہو گا جب اس میں وسیع تر اصلاحات اور ترامیم لائی جائیں گی، شفافیت ہو گی، عدلیہ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا۔ ہمارے ہاں عدالتی نظام میں اصلاحات کی صرف بات کی جاتی ہے، اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ اب تو یہ شعبہ بہت اچھا بزنس بن گیا ہے۔ اس سنگین صورتحال کا تدارک آسان کام نہیں۔ امریکا کے ورلڈ جسٹس پروجیکٹ کے تحت گزشتہ کئی برسوں سے دنیا کے مختلف ممالک میں عدلیہ کی کارکردگی اور عدالتی نظاموں سے متعلق اعداد و شمار جمع کیے جاتے ہیں۔ دنیا کے ایک سو اٹھائیس ممالک کے ڈیٹا پر مشتمل اس ادارے نے اس سال اپنی جو تفصیلات جاری کی ہیں، ان میں قانون کی بالا دستی یا رول آف لا ایک انتہائی اہم انڈیکس ہے۔ اس تحقیق کے مطابق جنوبی ایشیاء کے کئی ممالک میں عدلیہ کی کارکردگی کی صورت حال پاکستان کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔ رول آف لا انڈکس کے مطا بق نیپال اپنی عدلیہ کی کارکردگی کے لحاظ سے61 ویں، سری لنکا66 ویں اور بھارت69 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان اس وقت انصاف کی فراہمی کے حوالے سے دنیا کے ایک سو اٹھائیس ممالک کی فہرست میں ایک سو اٹھارہویں نمبر پر ہے۔ اس رینکنگ میں پاکستان سے نیچے افغانستان ہے، جس کا122 واں نمبر بنتا ہے۔ اس انڈیکس کی پہلی دس پوزیشنوں میں سے سات پر مختلف یورپی ممالک کے نام ہیں جبکہ قانون کی حکمرانی کے لحاظ سے ڈنمارک دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ قانون کی بالادستی کے حوالے سے درجہ بندی جن عوامل کی بنیاد پر کی جاتی ہے ان میں ریاست میں نظام عدل اور احتساب اور انصاف کی باآسانی فراہمی شامل ہے۔ صحافی انصار عباسی پاکستانی عدلیہ کے حوالے سے کہتے ہیں سب سے اہم سوال عدلیہ کی آزادی کا ہے کیوں کہ اگر عدلیہ آزاد ہو گی تو میڈیا آزاد بھی ہو گا اور ذمہ دار بھی اور تمام اداروں کو آئین و قانون کے مطابق اپنی اپنی حدود میں رہنا ممکن ہو گا۔ اگر عدلیہ آزاد ہو گی تو اسٹیبلشمنٹ اپنی آئینی حدود سے باہر نکل کر سیاست میں مداخلت نہیں کر سکے گی نہ ہی حکومت اور حکمران ملک میں اقربا پروری، رشوت سفارش، کرپشن کر سکیں گے۔ اگر عدلیہ آزاد ہو تو نہ ہمیں گمشدہ افراد کا مسئلہ درپیش ہو گا اور نہ ہی صحافیوں سمیت اختلاف کرنے والوں کو اٹھانے اور ان پر تشدد کرنے والے ہی گمنام رہیں گے۔ اگر عدلیہ آزاد ہوتی تو احتساب کے نام پر جو نیب کر رہا ہے اور جس کے بارے میں بار بار اعلی عدلیہ نے خود بہت سخت فیصلے دیئے اور اعتراضات اٹھائے، وہ تماشا اب بھی جاری و ساری نہ ہوتا۔ عدلیہ آزاد ہوتی تو بہتر طرزِ حکمرانی کے لئے کیے گئے اپنے فیصلوں پر عملدرآمد کرواتی اور بیوروکریسی غیرسیاسی ہوتی، اس میں تعیناتیاں میرٹ کے مطابق ہوتیں اور سیاستدانوں یا بیرونی مداخلت سے روز روز سرکاری افسروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ نہ پھینکا جاتا۔ اگر عدلیہ آزاد ہو گی تب ہی آئین کی پاسداری اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے اور یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ پاکستان میں نہ آئین کی پاسداری کی جاتی ہے اور نہ یہاں قانون کی حکمرانی موجود ہے۔ پاکستان میں تو انصاف کی فراہمی سب سے بڑا خواب ہے، یہاں تو لوگ انصاف کے لیے عدالتوں میں جانے سے ڈرتے ہیں، ایک طرف سٹے آرڈرز اور دوسری طرف مہنگے وکیل، یہ صورتحال ظالم، پیسے والے اور طاقت ور کے لئے تو بہت بہتر ہے لیکن مظلوم پر مزید ظلم ہے۔ چھوٹے چھوٹے مقدمات میں برسوں بلکہ دہائیوں میں فیصلے نہیں ہوتے جس کی وجہ سے عام آدمی عدالت جانے سے ڈرتا ہے۔ سپریم کورٹ کے آزاد منش ججوں کو جب ٹارگٹ کیا جاتا ہے تو انہیں انصاف ملنے میں مشکل پیش آتی ہے تو ایک عام پاکستانی کو کون انصاف دے گا؟ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی تمام عدالتیں جن میں سپریم کورٹ، شریعہ کورٹ، تمام ہائی کورٹ اور ڈسرکٹ کورٹس شامل ہیں، ان میں ساڑھے18  لاکھ سے زائد کیسز سنے جا رہے ہیں۔ جنوری2018  تک کے اعداد و شمار کے مطابق سپریم کورٹ میں اس وقت38000  کیسز کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ میں اس وقت موجود کیسز کی تعداد ملک میں سب سے زیادہ ہے جو کہ 150000 سے اوپر ہے۔ دوسرے نمبر پر سندھ ہائی کورٹ ہے جہاں94000  کیسز ہیں۔ پشاور ہائی کورٹ میں اس وقت 30000 کیسز جبکہ بلوچستان ہائی کورٹ میں صرف6000  کیسز کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں البتہ 16000 کیسز کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ اگر ڈسٹرکٹ عدلیہ کا معاملہ دیکھا جائے تو وہاں بھی پنجاب میں دوسرے صوبوں کے مقابلے میں واضح طور پر مقدمات کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت پنجاب میں11  لاکھ کیسز کا فیصلہ ہونا باقی ہے جبکہ دوسرے نمبر پر سب سے زیادہ کیسز سندھ کی ڈسٹرکٹ عدلیہ میں ہیں جہاں96000  کیسز زیرالتواء ہیں۔ بشمول سپریم کورٹ کے، ملک کی اعلی عدالتوں میں اس وقت ججوں کی کل تعداد146  ہے جبکہ کل آسامیوں کی تعداد167  ہے۔ لاہور ہائی کورٹ اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہے جہاں کل60  آسامیاں ہیں لیکن وہاں اس وقت49  جج کام کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ہر دس لاکھ آبادی کے لیے12  جج مختص ہیں جبکہ انڈیا میں یہ تعداد18  ہے۔ اگر مغربی ممالک سے موازنہ کیا جائے تو نظر آتا ہے کہ برطانیہ میں یہ تعداد51  ہے جبکہ کینیڈا میں75  اور امریکہ میں دس لاکھ کی آبادی کے لیے107  ججز متعین ہیں۔ دوسری جانب اگر کیسز کی تعداد کو ججوں پر تقسیم کیا جائے تو یہ صورتحال مزید واضح ہو جاتی ہے۔ صوبہ پنجاب میں دسمبر2017  کے اختتام پر تقریباً دس لاکھ سول اور فیملی کیسز کا فیصلہ ہونا باقی تھا اور انہیں نمٹانے کے لیے صرف938  ججز موجود ہیں جس کا مطلب ہے کہ ایک جج1000  سے زیادہ کیسز کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ ایل اینڈ جے سی پی کی سفارشات کے مطابق اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے سول اور فیملی کیسز کے لیے ججوں کی تعداد کو بڑھا کر تقریباً2000  کرنا ہو گا تاکہ ایک جج پر 500 مقدمات کی ذمہ داری ہو۔